واپڈاکی نجکاری وقت کی پکار

ایک زمانہ تھاکہ محکمہ ٹیلی فون بھی محکمہ واپڈاکی طرح سفیدہاتھی اوربے لگام گھوڑاتھاجہاں سے ٹیلی فون کنکشن کے حصول کیلئے کافی پاپڑ بیلنا پڑتے،کنکشن کیلئے داخلہ کرنے کے بعد شہریوں کو مہینوںمہینوںاوربعض اوقات سالہاسال دفاتر کے چکر کاٹناپڑتے ،سفارش ،رشوت،منت سماجت اورکافی دوڑدھوپ کے بعد کہیں جاکر کنکشن ملتا ،اس زمانے میںٹیلی فون کی تاریں اورلائنیں اس قدربوسیدہ تھیں کہ معمولی ہوا چلنے کے ساتھ ہی ان میں فنی خرابی پیداہوجاتی جسے بحال کرانے کیلئے ایکس چینج والوں کے سامنے گڑگڑانا پڑتا تاہم بڑی مشکل سے شنوائی ہوتی،اس وقت کا سفید ہاتھی یابے لگام گھوڑاآج اس حدتک راہ راست پر آچکاہے کہ ایک فون کال کرنے پر نیا فون کنکشن فراہم کرتا ہے جبکہ ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اورڈی ایس ایل بھی دہلیز پرمہیا کیاجاتاہے ،اس محکمہ میں اتنی بڑی تبدیلی کیوں اورکیسے رونما ہوئی؟سب لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت یہ محکمہ سرکاری تھا اور آج پرائیویٹ ہے۔
جب محکمہ ٹیلی فون سرکاری تھا تو اس وقت نہ صرف نئے کنکشن کیلئے دوڑدھوپ کرنا پڑتی بلکہ ماہانہ بل میں غلطیوںپہ غلطیاں ،شکایات کا بروقت ازالہ نہ ہونا اوراوپر سے عملہ کا رویہ صارفین کیلئے سوہان روح بناہواتھا مگر آج اس محکمہ کا عملہ بھی صارفین کاتابعدارہے اور لائنیں بھی سال کے بارہ مہینے ٹھیک ٹھاک حالت میں رہتی ہیںاوراگر ان میں خرابی آجائے تو منٹوں کے حساب وہ خرابی دور کی جاتی ہے اورمحکمہ کے حکام ا س کی باقاعدہ تصدیق شکایت کنندہ سے کراتی ہے ،یعنی پی ٹی سی ایل کے اہلکار صارف کی مشکلات اورشکایات کا ازالہ کرنے تک چین سے نہیں بیٹھتے جس کے بعد کہیں جاکر محکمہ کو سکھ کی سانس نصیب ہوتی ہے۔
اتنی بڑی تمہیدکا مقصد یہ ہے کہ اگر محکمہ واپڈا کو پرائیوٹائز کیاجائے تو یقینایہ محکمہ بھی محکمہ ٹیلی فون کی طرح سدھر جائے گاکیونکہ اس وقت روشنیوں کا امین یہ محکمہ نہ صرف اندھیرے بانٹنے میں مصروف ہے بلکہ صارفین پر مسلسل بجلیاں بھی گرارہاہے جبکہ بجلی کا نیا میٹر لگوانا تو جوئے شیر لانے کے برابر ہے،ملک میں بجلی کا صرف نام ہے نشان نہیں مگر اس کے باوجود بھی ہر ماہ بڑی پابندی کے ساتھ صارفین کو بھاری بھاری بل ارسال کئے جاتے ہیں جنہیں دیکھ ایسامحسوس ہوتا ہے کہ صارفین نے مہینے کے تیس دن مسلسل بجلی کا بے دریغ استعمال کیا ہے ،بل ٹھیک کرانے کیلئے کن کن مراحل سے گزرناپڑتا ہے ؟ یہ سب کو معلوم ہے ،اس کے علاوہ بجلی لائنوںمیں خرابی آجائے تواس وقت لائن مینوںکے نخرے دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں،بجلی بحران اور جگہ جگہ بجلی کی بوسیدہ تاریں صارفین کیلئے وبال جان بن چکی ہیں مگر حکومت نہ تو بحرا ن پر قابوپانے اور نہ ہی بوسیدہ لائنوںکو تبدیل کرانے کیلئے کوئی اقدام اٹھاتی ہے بلکہ حکومت نے تو عوام کو واپڈاکے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے جو صارفین کیلئے مشکلات پیداکرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔
واپڈاکی نجکاری کیلئے حکومت نے کیلئے بارعندیہ تو دیا ہے مگر اس پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا اورجب سے حکومت نے واپڈانجکاری کے حوالے سے مجوزہ فیصلہ کیا ہے اس وقت سے واپڈامیں موجود بعض یونین سراپااحتجاج ہیں جن کا کہناہے کہ واپڈاکی نجکاری ملازمین کا معاشی قتل ہے ،عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیںبلکہ نجکاری سے مخصوص افرادمستفیدہوںگے،یہ یونین نجکاری کیخلاف مسلسل ضلعی،ڈویژن،صوبے اورملکی سطح پراحتجاج کررہی ہیں اورعوام کی ہمدریاں حاصل کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہیںمگرکیا انہوں نے بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ کیخلاف بھی کبھی آوازاٹھائی ہے ؟اگر وہ عوام کی غمخوارہیں تو پھر لوڈشیڈنگ سے عوام کو پہنچنے والی تکالیف کیخلاف آوازکیوں نہیں اٹھاتیں؟؟نجکای کیخلاف مسلسل احتجاجوں سے واپڈادفاتر بند رہتے ہیں جس کے سبب ضرورتمندصارفین کو شکایات دور کرنے کیلئے باربار چکر لگاناپڑتے ہیں مگر ہربارانہیں مایوسی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے، اس وقت یونین کوعوام کی مشکلات کا احساس کیوں نہیںہوتا۔؟؟
محکمہ شتربے مہار یعنی واپڈااس حدتک سرکش ہوچکاہے کہ قدم قدم پر حکومتی احکامات کو پائوں تلے روندڈالتا ہے،اس محکمہ کے سامنے نہ تو حکومت کی کوئی حیثیت ہے اورنہ ہی اس پر عوامی احتجاجو ںکاکو ئی اثر پڑتاہے ایسے میں اس امر کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ اس محکمہ کو بھی محکمہ ٹیلی فون کی طرح پرائیوٹائز کیاجائے ،اس اقدام سے نہ صرف یہ محکمہ صحیح معنوںمیں روشنیوںکا امین بن جائے گا بلکہ اس سے لوڈشیڈنگ نام کی بلا بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ٹل جائے گی ،عوام آس لگائے بیٹھے ہیں کہ حکومت کب نجکاری کے فیصلے کو عملی جامہ پہنائے گی؟لہٰذہ حکومت کو اس کارخیرمیں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے،اگرموجودہ حکومت نے یہ اقدام اٹھایاتو عوام سمجھیںگے کہ اس نے زندگی میں پہلی بار عوام کی امنگوں کی صحیح معنوںمیں ترجمانی کی ہے ۔

ناصرعالم

جواب چھوڑیں