یادیں۔۔سہیل احمد لون | مکالمہ


بارہ برس کی سائرہ جب سکول سے گھر واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں سرخ گلدستہ تھا۔ سائرہ نے سکول بیگ میز پر رکھ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا جو پھولوں کو معنی خیز انداز میں گھورتی جارہی تھی۔ اس سے قبل کہ ماں کوئی سوال کرتی سائرہ نے گلدستہ ماں کی طرف بڑھا کر کہا ”ہیپی ویلنٹا ئن“۔ سائرہ نے ماں کو بتایا کہ اس نے اپنا جیب خرچ جمع کر کے اُس کیلئے یہ گلدستہ خریدا ہے۔ ماں نے اداس سی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹی کا شکریہ ادا کیا اور اسے کپڑے تبدیل کرنے کا کہہ کر کھانا گرم کرنے کے بہانے باوچی خانہ میں چلی گئی تاکہ بیٹی اُس کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے سفید گلاب نہ دیکھ لے۔

باورچی خانے میں پہنچنے سے قبل نائلہ ملک یادوں کے آئینے میں گزرے دنوں کو دیکھنے میں مگن ہوگئی ۔ وقت اور حالات ہم سے سب کچھ چھین لیتے ہیں مگر یاد یں وہ عظیم سرمایہ ہیں جنہیں کوئی چھین نہیں سکتا۔ دل کو چوٹ لگتی ہے تو اس کی کسک روح کی گہرائی تک محسوس ہوتی ہے۔ جو شعور بن کر پردہ ء ذہن پہ اترتی ہیں اور لاشعور بن کر حسین یادوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔یادیں بھی کتناانمول خزانہ ہیں، جو آنسوؤں میں ڈھل کر روح تک کو سیراب کردیتا ہے۔وہ یادیں جنہیں انسان بھولنا چاہیے اور وہ کبھی انسان کے مقابل اور کبھی تعاقب میں رہیں تو بدترین عذاب کا روپ دھار لیتی ہیں لیکن غم کے معنی ہیں اتھاہ تاریک سمندر میں خوشی کا مینار۔ زندگی کی بے کیف اور انجان راہوں پر ہماری ساتھی یہ یادیں زندگی کو تپتا صحرا بنا دیتی ہیں۔ جب دیدہ گل سے شبنم ٹپکتی ہے اور زرد چاند سے برستی ہوئی ٹھنڈک ہولے ہولے روح کو سلگاتی ہے تو من کی جھیل میں یادوں کے سینکڑوں چرا غ جل اٹھتے ہیں۔ کوئی دل اُس وقت تک منور نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان جلتے چراغوں کی حدت کو برداشت نہیں کرتا۔ آنسو اور روشنی مسکراہٹ کا روپ دھار لیتے ہیں اور پھر تنہائی میں کسی کی یاد کا رس گھول کر پینا کتنا دلکش اور دلنشیں ہوتا ہے۔

tripako tours pakistan

بد قسمتی سے نائلہ ملک کو تلخ یادوں کے کڑوے گھونٹ محبت کی میراث میں ملے تھے جن کوتنہائی میں پیتی اور زندگی کے قافلے میں بیٹی کے ہمراہ کسی نہ معلو م منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ بیٹی کے ہاتھوں سے اٹھنے والی گلابوں کی مہک نے نائلہ ملک کو وہ دن یاد کروا دیا جب اسے پہلی بار کسی نے گلاب خط میں لپیٹ کر کالج سے واپسی پر اس کے ہاتھ میں تھما دیا تھا۔ خوبرونائلہ اس وقت تقریباً سترہ برس کی تھی اورسیکنڈ ائیر میں پڑھتی تھی۔اس کے والد بیرون ملک ملازمت کرتے تھے۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ گھر کی معاشی حالت بڑی مستحکم تھی۔ نائلہ کی ہر خواہش کا احترام کسی شاہی خاندان کے وارثوں کی طرح کیا جاتا تھا۔ ماں کے علاوہ گھر میں چچا اور اس کی فیملی تھی جن کی دو بیٹیاں تھیں۔ خط میں گلاب لپیٹ کر دینے والا نوجوان لڑکا ناصر اکثر موٹر سائیکل پر اس کا تعاقب کرتا تھا۔ ویلنٹائن ڈے پر اس نے جرات دکھائی اور اپنے دل کا حال بیان کر کے نائلہ سے جواب کا مطالبہ کیا۔

ناصر ایک عام سی شکل و صورت کا مالک 22برس کا نوجوان تھا۔ مگر اس کی تحریر نے نائلہ کو بے حد متاثر کیا۔ چند ہی روز میں نائلہ اور ناصر محبت کی وادی میں خوشی کے نغمے گنگنانے لگے۔ سونے سے قبل روزانہ فون پر عہد و پیماں ایک معمول بن گیا تھا۔ جب گھر والوں کو شک ہوا تو لاڈ پیار میں جوان ہونے والی خود سر نائلہ اپنے چچا اور چچا زادوں کو بھی خاطر میں نہ لائی۔ جب ماں نے روک ٹوک کرنا چاہی تو نائلہ نے معاملہ ناصر کو بتایا۔ دونوں بالغ تھے لہذا انہوں نے کورٹ میرج کر لی جس کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔

ایف اے کا آخری پیپر دینے کے بعد نائلہ نے گھر بتا دیا کہ اس نے شادی کر لی ہے۔ جس پر گھر میں طوفان برپا ہو گیا، نائلہ نے گھر چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیاتھا۔ ناصر نے اسے موٹر سائیکل پر بٹھایا اور اپنے گھر لے گیا۔ اس کی فیملی بھی خاصی بڑی تھی سب نے کھل کر اس کے فیصلے کی مخالفت کی۔ ناصر کے باپ نے معاملے کی سنگینی سمجھ کر دانش مندی کا ثبوت دیا اور نائلہ کو قبول کر لیا۔ اس فیصلے کے آگے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑا۔یہاں آکر نائلہ کو پتہ چلا کہ ناصر کوئی کام کاج نہیں کرتا، بلکہ ہیروئن کے نشے کا عادی بھی تھا۔ باپ کے پیسوں سے زہر خرید کر اپنی رگوں میں اتارتے ہوئے اسے تین برس ہو گئے تھے۔ نائلہ کے باپ کو بیرون ملک جب یہ پتہ چلا کہ اس کی اکلوتی بیٹی گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے اس کا ذمہ دار اس نے اپنی بیوی کو ٹھہرایا۔ جس کی سزا اُسے طلاق کی صورت بھگتناپڑی۔وہ بیٹی کے گھر سے بھاگ جانے اور پچاس برس کی عمر میں طلاق یافتہ ہونے کا غم برداشت نہ کر سکی اور دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جاملی۔

نائلہ کا باپ پاکستان واپس آیا تو گھر میں نہ بیٹی تھی اور نہ ہی بیوی۔ بھائی سمیت اہل محلہ کے طعنے سننے کے بعد اس کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور وہ تمام دنیاوی فکروں سے آزاد ہوگیا۔نائلہ کو مرے ماں، باپ کا منہ دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا۔شادی کے پہلے پانچ برسوں میں دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ ناصر نے کبھی کام نہ کیا اور اس کی بیوی اور بچوں کا خرچہ اس کا باپ ہی اٹھا تا تھا جس پر گھر کے باقی افراد بہت ناخوش تھی،نشے کی عادت جلد ہی ناصر کولحد تک لے گئی۔ نائلہ کے لیے بچوں اور خسر کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسا رشتہ باقی نہ رہا جس سے اپنائیت کا دعوی کرسکتی۔ حالات کا شکار ہونے والی نائلہ پر غموں کا پہاڑ اس وقت ٹوٹا جب اس کو یہ اطلاع ملی کہ اس کے خسر اور اس کے دونوں بیٹے داتا دربار میں ہونے والے خود کش حملے میں جاں  بحق ہوگئے ہیں۔

چند روز بعد اس کے لیے سسرال کا در وازہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کردیا گیا۔ وہ اپنی بیٹی کو لیکر اپنے چچا کے پاس جائیداد میں حصہ لینے کے لیے گئی جہاں سے اسے دھتکار کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ حکومت کے اعلان کے باوجود داتا دربار میں ہلاک شدگان کے لواحقین کو کوئی مالی امداد نہ ملی۔ نائلہ نے بھی چند روز سر کاری دفاتر کے دھکے کھائے پھرحالات اور مقدر کی گرم جنگ میں اس کا مقدر ہار گیا۔

اس نے کرائے کا ایک چھوٹا سا مکان لیا، ایسے معاشرے میں جہاں اکیلی عورت باہر نکلے تو اسے کئی خونخوار بھیڑیوں کی للچائی ہوئی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کے لیے صبح ایک پرائیویٹ سکول اور شام کو بچوں کو ٹیویشن بھی پڑھا رہی ہے، اس کی سوچ کا محور اب صرف اس کی بیٹی سائرہ ہے۔ حالات کی ستم ظریفی میں پلنے والی سائرہ کی ذہنی عمر بلوغت کی حدیں کب کی پار کرچکی ہے۔ وہ یہ جانتی ہے کہ اس ماں کو تحفہ دینے والا کوئی نہیں، شاید اسی وجہ سے اس نے اپنی زندگی میں پہلا ویلنٹائن اپنی ماں کو بنایا۔ کافی دیر سے چولہے پرپڑا سالن گرم ہونے کے بعد جلنا شروع ہوگیا۔جس کا احساس سوچ کے سمندر میں غرقاب نائلہ ملک کو تو نہ ہوا مگراس کی بیٹی سائرہ تک جلنے کی بو پہنچ گئی۔ امی سالن جل چکا ہے سائرہ کی آواز سے نائلہ چونک گئی۔ مگر سالن تو دوبارہ بھی بنایا جا سکتا ہے مگر کسی کی قسمت جل جائے تو صرف صبر سمندر ہی پیناپڑتا ہے۔یادوں کے قافلے کتنی تیزی سے آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ لمحہ بھر کے لیے ہماری زندگی مچلتی ہے اور پھر اک سلگتی ہوئی کہانی بن جاتی ہے اور ہم سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ لمحے یادوں میں کس قدر جلد تبدیل ہوتے ہیں۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں