جاپان کا ایک سویئنر: انجیلا کارٹر. (3) ترجمہ: اب…

جاپان کا ایک سویئنر: انجیلا کارٹر. (3)
ترجمہ: ابراہیم رنگلا

کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا تھا کہ تارو میں ایک عجیب سی غیر ارضی صفت ھے۔جب وہ رین بسری پرندے کی طرح گدّے پر، گُھٹنوں پر ٹھڈی رکھے بیٹھتا تو دروازے کی دستکی زنجیر پر لگی ھوئی اپسرا کی مورت جیسا نظر آتا۔ اس کا چہرہ نہ جانے کیوں اس کے بدن پر زیادہ سپاٹ اور بڑا معلوم ھوتا ۔ اس کا خوشنما بدن عجیب قسم کی ذوجنسی دلکشی رکھتا تھا— دراز لوچدار پُشت ، کشادہ شانے ،اور غیر معمولی طور پر ابھرا ھوا سینہ جیسے سِن بلوغ کو پہنچتی ھوئی کنواری لڑکی کی چھاتیاں ۔ اس کے چہرے اور بدن کے بیچ تطابق میں کوئی ھلکی سی کمی تھی۔ وہ بد روح یا چھلاوا سا دکھائی دیتا کہ شاید اس نے کسی اور کا سر مستعار لیا ھو۔ ایسی حرکتیں جاپانی بدروحیں کسی کو چکر میں ڈالنے کی غرض سے کرتی ھیں. پراسرار ھستی کی موجودگی کے یہ اثرات گو عارضی تھے مگر سائے کی طرح ذھن پر منڈلاتے رھتے ، کبھی کبھی میرے لیے یہ ممکن دکھائی دیتا تھا کہ میں اس بات پر ایمان لے آؤں کہ اس نےمجھ پر کوئی آسیبی عمل کر دیا ھے ۔ جاپانی لومڑیاں اکثر ایسا کرتی ھیں ۔ یہ لومڑیاں جاپانی عقیدے کے مطابق انسانی شکل اختیار کرنے پر قادر ھیں۔ حسین اور خوشگوار لمحوں میں بھی اس کے رخساروں کی ابھری ھوئی ھڈیاں اس کے چہرے کو ایک مکھوٹا بنا دیتی تھیں ۔
اس کے بال اتنے گھنے تھے کہ ان کے بوجھ سے اس کی گردن جھک گئی تھی۔ اس قدر سیاھی مائل تھے کہ سورج کی روشنی میں وہ جامنی نظر آتے ۔ اس کے چہرے کا رنگ بھی جامنی تھا۔ اس کے ھونٹ موٹے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ مدھو مکھی کی ڈنک سے سوج گئے ھیں۔ یا پھر گاگِن (Gauguin) کی تصویر میں تاھیتین (Tahitian) جیسے تھے۔ اس کے پپوٹے بلی کے پپوٹوں کی مانند سُکڑ جاتے اور اس کے چہرے میں چھپ جاتے۔ میرا جی کرتا کہ اسے حنوط کرکے ایک کا نچ کے تابوت میں اپنے قریب رکھوں ۔ اور نگہداری کروں کہ وہ مجھے چھوڑ کر کہیں نہ جائے ۔
لوگ کہتے ھیں اور ٹھیک ھی کہتے ھیں کہ جاپان مَردوں کا ملک ھے۔ میں جب پہلی دفعہ ٹوکیو میں آئی تو گھروں کے لان میں مستولوں پر چاندی کی مچھلیوں کو لہراتے دیکھا ۔ یہ اس بات کی نشانی تھی کہ یہ ایسے خوش نصیب گھرانے ھیں جہاں لڑکا پیدا ھوا ھے۔ اس روز سالا نہ " یومِ پسراں" منایا جارھاتھا۔ کم از کم یہ تو ماننا پڑےگا کہ جاپانی حقیقت نہیں چھپاتے۔ ھم عورتوں کو اس بات کا پتہ تو چلتا ھے کہ سوسائٹی میں ھماری کیا حیثیت ھے۔ یہ نہ صرف ھماری قطبیت کا کھلم کھلا اعتراف تھا بلکہ اسے سماجی منظوری بھی حاصل تھی ۔ لفظ دیوا dewa جہاں تک میں جانتی ھوں "اندر" کے معنی میں کبھی کبھی استعمال ھوتا ھے۔ اس کی مثال مجھے درسی کتاب کے ایک جملے سے ملی ھے جس کا ترجمہ یہ ھوگا : "جس معاشرے میں مردوں کا تسلط ھو وھاں عورتوں کی قدر و قیمت کا تعین مردوں کی چاھت سے ھوتا ھے۔" اگر ھمارے لیے موت کو للکارتی پیار کے عمل کی دوھری قلابازی ھی صرف ایک نقطء اتصال تھا تو پھر شاید کوئی قیمت نہ ھونے سے بہتر یہی تھا کہ شہوانیت کی ایک شئے مان کر ھماری قدر کی جائے۔ میں کبھی پوری طرح کوئی پر اسرار "دیگر" نہیں رھی تھی۔ ایک قسم کا روایتی جانور ققنس بن گئی تھی۔ تارو کے نزدیک میں ایک نادر اور اجنبی جوھر تھی، بیان سے پرے پر اسرار اور انجانی عورت۔ مگر میں خود کو زنانی بہروپیا سمجھتی تھی۔
ڈپارٹمنٹ اسٹورز میں زنانی پوشاک کے ایک ریک پر لیبل لگا تھا " صرف حسین اور نوخیز دوشیزاؤں کے لیے" ۔ ان ملبوسات کو دیکھ کر میں نے خود کو بہت بدصورت اور بد ھئیت محسوس کیا۔ میں مردانہ سینڈل پہنتی تھی۔ کیونکہ وھی میرے لیے فِٹ تھے۔ ان میں بھی سب سے بڑی سائز کی سینڈل چُنتی تھی۔ میرے گلابی رخسار، نیلی آنکھیں اور شور مچاتے، چیختے زرد بال اس شہر کی بصری سازینہ کاری میں، جہاں سب کے بال سیاہ، آنکھیں بھوری اور جِلد یکرنگی تھی، میں ایک ایسا ساز بن گئی تھی جس سے اجنبی سُر نکلتے تھے۔ نزاکت سے چھڑے ساز کے تاروں اور اداس بنسری سے ابھرتے راگوں کے سنجیدہ سنگیت میں، میں تُرم کی ایک دلخراش چیخ تھی۔اپنی دائمی نمائش اور تفریح گاہ کا بذات خود ایک اشتہار تھی ۔ مجھ سے برعکس تارو کے اعضاء کچھ ایسی نزاکت سے جوڑے گئے تھے کہ میں نے سوچا کہ اس کے ڈھانچے میں کسی پرندے کی فضائی سُبک اندازی اور لطافت ضرور ھوگی۔ کبھی مجھے خوف ھونے لگتا کہ کہیں یہ مجھ سے ٹوٹ نہ جائے۔ اس نے مجھ سے ایک بار کہا تھا کہ وہ جب میرے ساتھ بستر پر ھوتا ھے تو اسے ایسا لگتا ھے کہ وہ ایک وسیع طوفانی سمندر میں ایک چھوٹی سی کشتی ھے۔
(جاری ۴ )


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2296412543922599

جواب چھوڑیں