اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط9)الف۔۔سلمیٰ اعوان


پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا جان کیٹس
کیٹس شیلے میوزیم

o کیٹس، شیلے اور بائرن کو میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ پڑھا اور ان کی محبت میں گرفتار ہوئی۔
o جوزف سیورن جیساپرستار بھی کہیں مقدر والوں کو نصیب ہوتا ہے۔
o فینی براؤن سے اُسے محبت نہیں عشق تھا۔
o ستارے جیسا بننے کی تمنا اور لا فانی ہونے کی خواہش۔

tripako tours pakistan

یہ بتانا مشکل نہیں کہ سات سمندر پار والے اُس خوبصورت موٹی آنکھوں،کھڑی ناک اور گھنگریالے رومانوی کلاسیکل شاعر کیٹس سے میرا عشق کب شروع ہوا؟بلکہ اس میں اگر تھوڑا سا اضافہ کروں تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اِس دوڑ میں اس کے دوست شیلے اور بائرن بھی شامل تھے۔گوکیٹس ہمیشہ میری کمزوری رہا۔تاہم شیلے بھی کم نہیں۔ہاں البتہ اِس رومینٹک تکون نما مثلث کا تیسرا سرا لارڈ بائرن کہیں تھوڑا سا پیچھے ہے۔
سچی بات ہے اِس تفصیل کے ساتھ میں نے کہاں پڑھنا تھا انہیں اگر میری بیٹی انگریزی ادب میں ماسٹر ز نہ کرتی اور کنیئرڈ کالج میں لڑیچر کی مس کوثر شیخ اُس کی استاد اِن شاعروں کی عاشق صادق نہ ہوتی۔ اُن کے عشق میں ڈوبے اس کے طویل لکچر اور آئے دن کی آسائنمنٹوں نے بیٹی کے ساتھ ساتھ اُس کی ماں کو بھی پڑھنے ڈال دیا تھا۔
اسلامیات اور تاریخ جیسے مضامین کے ساتھ بی اے اورایم اے کرنے والی ماں کو احساس ہوگیا تھا کہ انگریزی ادب سے شناسائی اُردو ادب میں اپنا قد کاٹھ بڑھانے کیلئے کتنی ضروری ہے؟اسی لئیے چور نالوں پنڈ کاہلی کے مصداق بیٹی طالب علم سے زیادہ ماں اُستاد ریفرنس بُکس کیلئے بھاگی بھاگی پھرتی تھی۔
مطالعے نے اُن کی زندگیوں کے ایک ایک گوشے سے شناسائی کروا دی تھی۔دل کی مسند پر البتہ دو نے تو قبضہ کرلیا تھا۔ساری ہمدردیاں اور محبتیں سمیٹ لی تھیں۔جان کیٹس اور پرسی Percy Bysshe Shelleyدونوں جوانا مرگ۔ایک تپ دق سے اور دوسرا ڈوب کر۔
روم اور یہیں وہ سپینش سٹیپ ز والا گھر جہاں کیٹس نے اپنی بیماری کے دن کاٹے اور ختم ہوا۔شیلے بھی اٹلی میں ہی ڈوب کر مرا۔دونوں دفن بھی روم کے پروٹسنٹ قبرستان میں ہیں۔ایک کی ہڈیاں اور دوسرے کی راکھ۔ پر کیٹس کی محرومیوں پر دل زیادہ کڑھتا تھا کہ “حسرت اُن غنچوں پر ہے جو بن کِھلے مرجھا گئے۔”تتّے کے نصیب میں کچھ بھی نہ تھا۔محبوبہ کا پیار بھی نہیں کہ وہ بھی کم بخت بڑی دنیا دار اور بے وفا نکلی۔
تو روم پہنچ کر دل کا وہاں جانے کیلئے مچلنا اور ھمکنا سمجھ آتا ہے کہ عاشقوں کی زیارت گاہ ہے۔
راہنمائی کیلئے راہگیر ہی دستیاب تھے۔تندرست و توانا سے لوگ جنہوں نے سپینش سٹپ ز بارے یوں ہاتھ ہلاکر گلیوں گلیوں سے جانے کا بتایا کہ جیسے یہ گلی کٹی اور اُس گلی کا موڑ مڑوں گی تو محبوب کے درآستانے کا دیدار ہوجائے گا۔ہاں البتہ ایک معقول سے بندے نے سمجھایا کہ میٹرو سے جائیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔
”ہائے ربّا اِس میٹرو کے سیاپے نے جان نہیں چھوڑنی۔“
بہرحال نیچے اُتری۔چیختی چنگاڑتی دنیا میں داخل ہوئی۔زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔بڑی مہربان سی عورت نے ہاتھ تھام لیا تھا۔تیسرے اسٹیشن پر اترنے کی تاکیدتھی۔چلئیے یہ معرکہ سر ہوا۔
سپگناSpagnaمیٹرو اسٹیشن کے بل سے باہر نکلی تو خوشگوار مسرت بھری حیرت آنکھوں میں پھیل کر ہونٹوں پر بکھر گئی تھی۔اتنا خوبصورت ماحول سامنے تھا کہ جی خوش ہوگیا۔
تھوڑا سا چلنے پر ہی میں spagnaپیازہ سکوائر میں کھڑی اپنے چاروں طرف پھیلی رنگ رنگیلی دنیا دیکھتی تھی۔ موتی اڑاتے Bernin’s فوارے کے تعمیری حُسن نے سحر زدہ کرتے ہوئے کھڑا کردیا تھا۔
”بھلا اس کا نام “بدصورت کشتی والا”فوارہ کیوں رکھا گیا تھا۔یہ تو بڑی انفرادیت والا ہے۔“ سوال جواب خود سے ہوئے تھے۔ شاہوں کے مزاج اگر موڈی اورمتّلون ہوتے ہیں تو مذہبی راہنماؤں کا حال بھی کچھ اُن سے کم نہیں ہے۔پوپ اربن ہشتم کی خواہش پر اس کی تعمیر ہی ایسی ہوئی تھی کہ دریائے ٹبرTiber کے ایک سیلاب میں بہتی ایک بد رنگی بے ڈھبی سی کشتی یہاں آگئی تھی اور پوپ اس سے بہت متاثر ہوا تھا۔
ذرا سی نگاہیں اوپر اٹھیں۔کیا نظارہ تھا۔ کشادہ سیڑھیوں کا ایک پھیلاؤ اپنے نُقطہ عروج پرخم کھاتے ہوئے ایک اور دل ربا سے منظر کا راستہ کھولتا تھا۔ایک Obelisk ٹرینٹا مونٹی چرچ کے دو باروق سٹائل ٹاوروں کے سامنے بڑی آن بان سے کھڑی منظر کو عین درمیان سے کاٹتی تھی۔
چرچ دراصل فرانس والوں کا ہے۔اللہ کی مخلوق اپنے من موہنے رنگوں کے ساتھ سارے میں بکھری ہوئی تھی۔کہیں فوارے کے گرد پیلیں ڈالتی،کہیں بینچوں کی لمبی قطار وں پر بیٹھی،کہیں سیڑھیوں پر ایک دوسرے کی بغلوں میں گُھسی،کہیں سیڑھیاں چڑھتی،کہیں اوپر سے نیچے اترتی، کہیں کیمروں سے کھیلتی اور کہیں بوس و کنار کے مزے لوٹتی۔اتنے رنگوں کی افراط تھی کہ انہیں دیکھتے رہنا بھی ایک دلچسپ شغل تھا۔
یہ علاقہ تب انگلش گیتو Ghetto کہلاتا تھا کہ آرٹ سیکھنے کیلئے برطانیہ سے بہت سے آنے والے لوگ اسی علاقے میں رہتے تھے۔ روم تو یوں بھی مذہبی،تاریخی اور آرٹ کے حوالوں سے ایک خصوصی اہمیت کا حامل شہر کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ Eternal سٹی(ابدیت) کا نام اسی لئیے تو اِسے دیا گیا ہے۔شیلے اور بائرن بھی یہاں بہت آتے تھے۔
بہت سی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد رُک گئی ہوں۔سستانا ضروری تھا۔نظروں کو نظاروں کی تپش سے سیکنا اہم تھا۔دل کو رجھانا لُبھانا بھی تو تھا۔اور جب یہ سارے کام کربیٹھی تو اب خود سے پوچھتی ہوں۔مجھے جانا کہاں ہے؟کیٹس کے میوزیم میں یا چرچ میں۔ایک طرف خدا اور دوسری طرف اُسکا دلبر سا بندہ۔
”ارے بھئی Trinita Monti چرچ کو کیا دیکھنا۔اللہ کے گھر تو کم و بیش ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔اُس دلبر کے پاس چلتی ہوں جس کے لفظوں سے محبت کے سامنے رومن بادشاہوں کا جاہ و جلال،اُنکی تاریخ اور انکی عظمتوں کی داستانیں سب بے معنی ہوگئی تھیں کہ بنگالی لڑکے مستفیض الرحمن نے کلوزیم colosseumبارے پل بھر میں گڈے باندھ دئیے تھے۔پر میرا من چلا دل مائل ہی نہیں ہوا تھا۔
تو میں چار منزلہ عمارت جو کہیں 1725 میں بنائی گئی تھی اور اس وقت کیٹس شیلے ہاؤس کے نام سے روم کی ایک اہم قابلِ دید جگہ ہے۔اس کی دوسری منزل پر کیٹس میوزیم جانے کیلئے اٹھ جاتی ہوں۔سیڑھیوں پر بیٹھ کر دل کا رانجھا تو راضی کرلیا تھا۔
اس کے نام کے ساتھ شیلے کے نام والا بڑا سا بورڈ عمارت کی پیشانی پر جگمگاتا ہے۔کلاسیکل ڈیزائن کی کھڑکیاں بند ہیں۔عمارت کے باہر سکوائر کا سارا منظر ہی بے حد خوبصورت اور موہ لینے والا ہے۔اندر جانے کیلئے لمبی قطار ہے جسمیں شامل ہوجاتی ہوں۔مجھ سے آگے کھڑی لڑکی نما عورت بڑی ہنس مکھ سی ہے۔کینیڈا سے شوہر،نند اور بچوں کے ساتھ آئی ہے۔اور میری طرح سب سے پہلے یہیں آئی ہے۔
26کا ہندسہ پلیٹ پر چمکتا دُور سے نظر آتا ہے۔ ایک چھوٹے سے دروازے کی گزرگاہ سے اندر داخلہ ہوتا ہے۔اس کی دل کو بھگونے والی نظم قدموں کے ساتھ ساتھ چلنے لگی ہے۔ ہلکی سی نمی بھی آنکھوں میں اُتررہی ہے۔
خوف وخدشات کے سائے جب مجھے گھیر لیں
اس سے پہلے کہ
میرا قلم میرے دماغ کی معذوری کا احاطہ کرے
اور کتابوں کے ڈھیر اور اُن کے اندر کی خوبصورتیاں
مجھے گرفت میں لے لیں
اس بھرے غلّے کی کوٹھڑی کی طرح
جو پکے اناج سے بھری ہوتی ہے
جب میں رات کے چہرے کو دیکھتا ہوں
جیسے ایک دلکش رومانس کے دبیز بادل ہوں
سوچتا ہوں کہ میں تو شاید
زندگی کے اِس رخ کو دیکھنے کے لئے زندہ ہی نہ رہوں
ان کے سائے اتفاق کے جادوئی ہاتھ کے ساتھ
جب میں محسوس کروں
صرف ایک گھنٹے کی خوبصورت تخلیق
اور میں اسے اس سے زیادہ نہ دیکھ سکوں
کبھی نہ منعکس ہونے والا پیار
تب ساحلو ں پر
اس وسیع وعریض دنیا میں
میں اکیلا کھڑا ہوں اورسوچتا ہوں
محبت اور شہرت سب بیکار ہیں
پس مر جاؤ
اِدھر اُدھر جانے کی بجائے سب سے پہلے اُس کے اُس کمرے میں جانے کی خواہش مند ہوں جہاں اُسنے آخری سانسیں لیں۔ پانچ یورو کا ٹکٹ۔ Attendent لڑکیاں بڑی خوبصورت اور ہونٹوں پر شہد جیسی مسکراہٹ بکھیرے ہوئے ہیں۔
ایک قابل فہم ہیجان کی سی کیفیت طاری ہے کہ کبھی روم آنے اور اس زیارت گاہ کو دیکھنے کی خوش بختی کا تو کہیں تصور ہی نہ تھا۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے راہنمائی کردی ہے۔مجھے کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔میری دائیں بائیں کسی طرف کوئی توجہ نہیں۔رک گئی ہوں۔سانس کی رفتار تیز ہوگئی ہے۔سامنے وہ کمرہ ہے۔جس پر پیتل کی بڑی سی پلیٹ پر لکھا ہوا پڑھنے لگتی ہوں۔
In this room,
on the 23rd of February 1821
Died John Keats
آنسووں کو پلکوں سے نیچے نہ اُترنے میں تھوڑی سی نہیں بہت کوشش کرنی پڑی ہے کہ رُک کر گردن کو پیچھے لے گئی تھی۔
یہ کمرہ اس کے زمانے میں دو حصّوں میں منقسم تھا۔ایک مالک مکان اینا Angelettiکے تصرف میں اور بقیہ حصّہ جسکا چہرہ میدان کی طرف تھا کیٹس اور جوزف سیورن کے پاس تھا۔
میں نے مارگریٹ(نگران) سے چند لمحوں کیلئے کمرے میں ٹھہرنے کی اجازت لی ہے۔ وہ کمرہ جہاں وہ چھبیس سالہ خوبصورت آنکھوں،چہرے اور خوبصورت دماغ والا شخص موت کے ہاتھوں کی ظالم گرفت میں جکڑتا چلاگیاتھا۔شیشوں سے پار سکوائر میں زندگی کتنی خوش و خرم،ہنستے،مسکراتے،قہقے لگاتے نظرآرہی ہے۔
میری تیسری آنکھ کھل گئی تھی جس نے ماہ نومبر کے کِسی چمکتے خوشگوار سے دن کو سکوائر میں بھاگتی بگھیوں اور اُن میں جُتے گھوڑوں کے سموں کی ٹھپ ٹھپ اُسے سُناتے اور شیشوں میں سے زندگی کو آج ہی کی طرح رواں دواں دکھاتے ہوئے یقینا اُسے اپنی صحت کے حوالے سے ایک نوید دی ہوگی۔میٹھی سی اِس نوید نے پل بھر میں گنگناتے خوابوں کو اسکی آنکھوں میں بیدار کردیا ہوگا۔وہ خواب جنہیں وہ جوان ہونے کے بعد سے دیکھتا چلا آیا تھا۔
مارگریٹ نے مجھے بتایا ہے کہ منظروں کی یکسانیت میں تب اور آج کے حوالوں سے کچھ زیادہ فرق نہیں۔میں نے دیکھا تھا۔بگھیاں تو اس وقت بھی سکوائر میں بعینہٰ اُن دنوں کی طرح بھاگتی دوڑتی پھر رہی تھیں۔
اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے سمجھدار اور ذہین لوگ اپنے تاریخی ورثوں اوراُن مخصوص روایات کو اسی ماحول سے ہم آہنگ کرتے ہوئے وقت کی چال کو اسی روپ میں نہلاتے ہوئے لوگوں کو مسرت و سرشاری سے نوازتے ہیں۔اب میں مقابلہ “من و تو”میں کہاں کہاں کھپتی اور اپنا خون جلاتی۔
کمرہ اس وقت کتنا چمکتا دمکتا ہے۔کھڑکی کے پردے کھینچے ہوئے ہیں۔ڈیتھ ماسک سامنے دیوار پرآویزاں ہے۔ساتھ ہی چھوٹا سا شوکیس سجا ہے۔ذرا فاصلے پر ایک بڑا شوکیس اور درمیان میں آتش دان ہے۔تب یہ کمرہ یقینا ایسا شاندار تو نہ تھا۔عام سی دیواروں،چھت اور کھڑکی والا تھا۔
گلاب کے پھول بکتے دیکھ کروہ بہت خوش ہوتا تھا۔پھول تو آج بھی ہیں۔یہ ہاتھوں میں ہاتھ دئیے جوڑے اُس وقت بھی تھے جب نومبر کی سنہری اُترتی شاموں میں وہ اپنے اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں اُتر کر سیر کیلئے بورگیز باغ Borghese جاتا۔تب نیلے آسمان پر پرندوں کی اڑانیں دیکھتے ہوئے کبھی اس کا دل غم سے بھرجاتا اور کبھی امید اُسے خواب دکھانے لگتی۔
تصور کی آنکھ کھل گئی ہے اور منظر کِسی نازنین کی نشیلی آنکھ کے خمار سے بھرگیا ہے۔میٹھی آواز کا جادو چاروں اور پھیل گیا ہے۔”A thing of Beauty“ میرے لبوں پر آگئی ہے۔ دنیا بھرمیں حسن و خوبصورتی کے حوالے سے ایک مثالی محاورہ بننے والا یہ مصرع A thing of Beauty is a joy for ever اُسی شاعر کا ہی ہے۔جولافانی ہونے کی تمنا رکھتا تھا۔
حُسن ہمیشہ رہنے والی ایک خوشی ہے
اس کی خوبصورتی بڑھتی رہتی ہے
یہ کبھی فنا نہیں ہوتی
ہمیشہ اپنے وجود کو قائم رکھتی ہے
جیسے یہ ہمارے لئے پھولوں کا کوئی پر سکون کنج ہو
یا نیند جو میٹھے خوابوں سے بھری ہو
جس میں تندرستی یا صحت اور خوشگوار
سانسوں کی مہک ہو
ایسے شعر کہنے والا میٹھے خوابوں کا مثردہ سنانے،صحت کا پیغام دینے اور مہکتے سانسوں کی روانی رواں رکھنے والا غموں کی بھٹی میں کیوں کر گرپڑا۔
اُسے فینی یاد آتی تھی جو لندن میں تھی۔اسکی یاد اسکی آنکھیں بھگو دیتی۔اُس کی محبت، منگنی اور پھر اسکی بیماری کا جان کر التفات بھرے اظہارمیں اس کی بے رُخی اور بے نیازی جیسے روےّے۔
مجھے بھی فینی یاد آئی تھی۔بہت سی یادوں نے گھیراؤ کرلیا تھا۔
فینی ہمسائی تھی اس کی۔بیوہ ماں کی پہلوٹھی کی اولاد۔سترہ اٹھارہ سالہ مٹیار اور تیئیس 23چوبیس24سال کے جذباتی سے جوشیلے لڑکے کا پیار ہمارے وقتوں کے گلی کوچوں جیسا۔سانجھی دیواروں سے تانکا جھانکی،چٹوں کی پھینکا پھینکائی اور چھوٹے بہن بھائیوں یا کزنوں کے ہاتھوں چوری چھپے خطوط کا تبادلہ۔منگنی بھی کروا لی تھی۔پر یار دوستوں کا کہنا تھا کہ یہ خوبصورت لڑکی ناقابل اعتبار ہے۔مگر اس کا دل تھا کہ بے طرح لٹو تھا۔ہر دوسرے دن لمبا چوڑا خط لکھنا ضروری ہوتا۔ہر تیسرے دن محبت کی تجدید چاہتا۔
میری پیاری فینی کیا میں امید کروں تمہارا دل کبھی نہیں بدلے گا۔سچ تو یہ ہے کہ میرے پیار کی کوئی انتہا ہی نہیں۔دیکھو مجھے کبھی مذاق میں بھی دھمکی نہ دینا۔
ایک اور خط میں لکھتا ہے میں بہت حیران ہوتا ہوں کہ آدمی مذہب کیلئے مرتے ہیں تو شہید کہلاتے ہیں۔میں تو سچی بات ہے اِس خیال اور نظرئیے پر ہی تھرّااٹھتا ہوں۔میرا مذہب محبت ہے۔میں صرف اس کے لئیے مرسکتا ہوں۔میں تمہارے لئیے جان دے سکتا ہوں۔
ایک اور خط دیکھئیے۔ محبت اور چاہت میں بھیگا ہوا۔دنیا میں کیا کوئی چیز اتنی خوبصورت، چمک دار اور من موہنے والی ہے جتنی تم ہو۔
Bright Starیادداشتوں سے نکل کر لبوں پر آگئی ہے۔
روشن ستارے
روشن ستارے کاش میں آرٹ کی طرح امر ہوجاتا
میں بھی فطرت کے کسی رسیا کی طرح
جاگتے رہنے والے کسی رشی منی کی طرح
رات کے خوبصورت جلووں میں کبھی اکیلا تو نہ ہوتا
اس ابدی حسن کو آنکھیں کھول کھول کر دیکھتا
دھرتی کے انسانی ساحلوں کے گرد
رواں پانیوں سے وضو تو کسی پادری کا ہی کام ہے
کیسی خوبصورت شاہکار نظم۔ابدی چمکنے والے ستارے جیسا بننے کی تمنا۔لافانی ہونے کی خواہش۔اپنی محبت اور چاہت کا دل آویز اظہار۔
اس نے اپنے جنون،اپنی وارفتگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی محبوبہ کے ساتھ ابدیت کی ایسی خواہش کی جسے وقت اور حالات کبھی تبدیل نہیں کرتے۔اُس روشن ستارے کی طرح جو اپنی جگہ پر ہمیشہ ساکت رہتا ہے۔وہ تنہائی سے خائف اس کی محبت اور رفاقت کیلئے بے قرار اور اس کے بغیر مرجانے کا خواہش مند۔ستارے زمین اور پانیوں کے تشبیہاتی استعاروں والی یہ نظم اعلیٰ شاعرانہ ذوق کی حامل جسے پڑھتے ہوئے ہم ماں بیٹی نے لطف اٹھایا تھا۔
موت سے ایک سال قبل مئی 1820کا خط ذرا دیکھئیے۔
تم کتنی خودغرض ہو،کتنی ظالم ہو۔مجھے خوش رہنے نہیں دیتی ہو۔میرے لئیے تمہاری محبت کی استقامت کے سوا کسی چیز کی اہمیت نہیں۔تمہیں فلرٹ کرنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔مسٹر براؤن سے بھی یہی سلسلہ ہے۔کیا کبھی تمہارے دل نے میرے بارے میں ذرا سا بھی سوچا ہے۔مسٹر براؤن اچھا آدمی ہے مگر وہ مجھے انچ انچ موت کی طرف لے جارہا ہے۔
اس کے مہکتے خواب بکھر گئے۔دہکتا جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن رہا تھا۔اس کے سانسوں کی ڈوری کتنی جلدی ٹوٹ گئی۔
بیماری تو وراثت میں ملی تھی کہ ماں اور بھائی ٹوم دونوں اسی سے مرے تھے۔
مجھے 1816میں لکھی جانے والی اسکی پہلی First looking into chapman’s Homerاور دیگر”ode to a nightingale”اور “ode on a grecian” دونوں یاد آئی تھیں۔
اس نے سارے سفر بڑی سرعت سے طے کئے تھے۔صرف چھ سال کا مختصرسا وقت۔ جس میں حیران کن حد تک ہر دل عزیزی سمیٹی۔شاعری،محبت،منگنی،بیماری اور موت۔پہلے مجموعے Chapman’s Hamer نے لوگوں کی توجہ کھینچی۔مگر ساتھ ہی نک چڑھے نقاد اسے تباہ کرنے پر بھی تُل گئے تھے۔ 1818 میں اس کی ambitious زیادہ بہتر رہی۔ یہاں اُسے ہنٹ، ولیم اور بینجمن ہائیڈن نے بہت سراہا۔
1819اسکی تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین زمانہ تھا۔
وہ فینی کی محبت میں گرفتا رہوا۔ Bright Star اور The Eve of St Angles جیسی شاہکار نظمیں تخلیق ہوئیں۔
میری نظریں بے اختیار اُس بیڈ پر جم گئی ہیں۔نہیں جانتی ہوں کہ اس کی ترتیب اُس وقت بھی یہی تھی جو اب ہے کہ آخری دنوں میں وہ زیادہ تر اپنے بیڈ پر ہی رہنے لگا تھا۔یہی کھڑکی جو اس وقت میرے سامنے ہے اس کی دلچسپی اور دنیا سے ربط کا واحد ذریعہ رہ گئی تھی۔اسی سے وہ سسپنش سٹیپ ز اور برنینز Berninsکشتی کو دیکھتا۔آسمان،موسم،لوگ،درخت اور زندگی کے کچھ رنگ اسی سے اُسے نظرآتے تھے۔

جاری ہے




بشکریہ

جواب چھوڑیں