مداومت۔۔مختار پارس | مکالمہ



ہر کس خواہاں کہ آنکھیں سدا روشن رہیں اور دلوں میں زنجبیل بہتی رہے۔ کچھ معلوم بھی ہے کہ بقا کا مطلب کیا ہے؟ہمیشگی یقیناً  بقا نہیں کہ ابد سے پیوستہ کچھ بھی نہیں۔ بقا کے ایک جانب خدا ہے اور دوسری جانب فنا؛ جو کچھ درمیان میں ہے، وہ کچھ بھی نہیں۔ فنا کی قدامت کی شروعات کا کچھ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور اس کی طوالت کے لاحقے کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اختتام ایک ازلی حقیقت ہے جس سے حیات آنکھیں نہیں چرا سکتی۔ خدا کے بارے میں یقین ہے کہ وہ وہیں ہے جہاں پہلے ازل تھا اور اس وقت سے ہے جب کچھ بھی ابد نہیں تھا۔

زمین پر چلنے والوں کو اندازہ نہیں۔ شاید ایک کوہ پیما حقیقتِ حال و حیات کو زیادہ قریب سے جانتا ہے۔ اسے پہاڑوں کا شکوہ چوٹیوں پر کھینچ جاتا ہے۔ وہ بلندیوں میں اپنی بقا ڈھونڈتے ڈھونڈتے، مشکلات سے نبرد آزما ہوتے ہوتے، مایوسی کے تھپیڑوں سے ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے، حسین اور پراسرار راتوں میں تاروں سے راز و نیاز کرتے کرتے، اوزون کے بغیر سورج کی کرنوں سے لپٹتے لپٹتے، اس ایک نکتے پر پہنچ ہی جاتا ہے جسے وہ مقامِ محمود قرار دیتا ہے۔ ایک دفعہ جو چوٹی سر کر لے، وہ پہاڑوں سے اتر بھی آۓ تو وہیں رہتا ہے۔ درویش اپنے مقام پر پہنچ کر پیچھے نہیں ہٹتا۔ اس کے پاس راہِ فرار اختیار کرنے کے تصرف کا استحقاق نہیں۔ ایک دفعہ قدم پھسل گیا تو نشیب و فراز میں قدموں کے نشان مٹ جاتے ہیں اور دامنِ کوہ تک کوئی سہارا نہیں ملتا۔

tripako tours pakistan

ماہ و مریخ پر بادِ صرصر کے جھونکے کسی انتظار میں ضرور ہیں۔ ان کی بقا ان کے انتظار میں ہے۔ ان خلائی سرزمینوں پر کوئی نہیں رہتا۔ ان کا مقام یہ ہے لوگ انہیں سرزمینِ عشق سے دیکھتے ہیں۔ گھٹتے بڑھتے چاند کو دیکھنے کی لگن نے اس بیابان کی وقعت میں اضافہ کر دیا ہے ورنہ وہاں ویرانے کے سوا کچھ نہیں۔ ہر شخص کا اپنا ویرانہ ہے اور اسے آباد کسی اور کی طلب اور تشنگی کرتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔ ہمیں دیکھنے والے ہمیں مسندِ توقیر پر بٹھا دیتے ہیں۔ دیکھنے والے کی بقا دیکھنے میں ہے اور مسند نشینوں کی بقا دیکھنے والوں میں ہے۔ اپنی ذات میں کوئی بات کُل نہیں؛ سایہِ گل بھی نہیں، ہجرِ مفادات بھی نہیں، نظرِ کرم و جاہ بھی نہیں۔ مکمل بس ایک نکتہ ہے جسے نکتہ دانوں نے ابھی تک دیکھا ہی نہیں۔

‘دانتے الغیری’ نے جب گشتِ جہنم کا ارادہ کیا تو اس کے ساتھ پاسبانِ عقل بھی تھے اور دل کی آنکھ سے دیکھنے والے بھی۔’ساندرو بوتی چِلی’ نے دانتے کی جہنم کو رنگ و مو سے نو تہوں میں بیان کرنے کی کوشش کی جس کی ہر پاتال میں عذاب نشین شکنجوں میں جکڑے نظر آتے تھے۔ اس نے جنتِ گم گشتہ کی تلاش میں خدا کا ہم نوا بننے کا سوچا مگر جہنم کے جذبات کا ترجمان بن بیٹھا۔ دوزخ میں سانپ کی سازشوں پر تصویر کشی کی مگر شعلوں کی لپک صدیوں تک کلیساؤں میں فروزاں رہنے کے باوجود گناہ کے عفریت کو زنجیر نہ پہنائی جا سکی۔ عذاب کو عذاب سے پہلے بقا تھی ہی نہیں۔ ارادے ٹوٹ جاتے ہیں اور سوچ کے پر کاٹ دیے جاتے ہیں۔ ساری عمر انسان خیالات بنتا ہے اور آخر میں انہی خیالات میں الجھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ فتح اور شکست نقطہء انجام نہیں ہوتے، نتیجہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کس کو بقا نصیب ہو سکی اور کون سرِراہ بیٹھ کر گردِ راہ ہو گیا۔

وہ ایک لمحہ جو ہمارے پاس ہے، وہی بقا ہے۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد، کسی پیمان، کسی شاخسانے کو کوئی جدت، کوئی ندرت زمانے سے ماورا کر ہی نہیں سکتی۔ سوال و جواب کے سلسلوں میں تشفی کو ایک لمحہ ہی چاہیے۔ دنیا بدل دینے کےلیے صدیاں درکار نہیں۔ صدیوں کو ثبات سے سروکار نہیں اور تغیر سے انکار نہیں۔ وقت روز و شب کی صورت میں نہیں بدلتا۔ سورج روز ایک طرح سے نکلتا ہے اور چاند کے سنہری دھندلکے ایک ہی ترتیب سے لوحِ آسماں پر آویزاں ہوتے ہیں۔ مگر کسی روز کسی ایک لمحے میں دنیا بدل جاتی ہے اور پھر ویسے نہیں رہتی۔ اس ایک لمحے کی زندگی صرف ایک ساعت ہوتی ہے۔ وہ ایک لمحہ بھی گزر جاتا ہے مگر اس کے ہونے میں کائنات کے ان گنت گزر جانے والے برسوں کی کسک شامل ہوتی ہے۔ ایک آہ جو دل سے نکلتی ہے، اس میں زیست کے سارے موسموں کا مزا ہوتا ہے۔ ہر وہ لمحہ جو دُکھ کو مطلب عطا کر دیتا ہے، بقا ہے۔

بے نیاز صرف خدا کی ذات ہے۔ انسان کو بے نیازی زیب نہیں دیتی۔ تحفوں سے انکار کی وجوہات ہوتی ہیں؛ ایک صورت ہے جب کسی چیز کی طلب نہ رہے؛ دوسری وجہ غصہ اور انا پرستی بھی ہو سکتی ہے؛ ایک اور منزل فقر کی بھی ہے جہاں پہنچ کر ہر اس چیز کی وقعت مدھم ہو جاتی ہے جو آنکھیں چندھیا دینے پر قادر ہے۔ وہ حسنِ لازوال بھی ہو سکتا ہے اور اجرِ باکمال بھی۔ فقیر جب انکار کرتا ہے تو اس میں شفقت نظر آتی ہے، ناشکری نہیں۔ طلب کا اختیار، روح کے اقرار اور انکار کے ہاتھوں میں چلا جاۓ تو شکر کے کمال کو پھر زوال نہیں آتا۔

انسان کا زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ بھول جاتا ہے۔ اگر یادداشت کا خاتمہ ہو جاۓ تو انسان کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔ اس کی بقا صرف اس کے حافظے میں ہے۔ اسے یاد رہ جاۓ کہ وہ کون ہے تو یہی عطا ہے، وہ فراموش کر بیٹھے کہ راہِ زیست پر سفر کیسے گزرا تو یوں سمجھیں کہ یہ قضا ہے۔ خدا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ابنِ آدم ارضِ پاک پر انسان بن کر رہے یا حیوان بن کر جیے۔ اسے تو ایک گھڑی کی تلاش میں یہاں بھیجا گیا ہے، چاہے وہ اسے شبِ قدر میں تلاش کرے یا شبِ دیجور میں۔ ہزار سالوں میں ہزار راتوں سے ہزار گنا اہم وہ لمحہ ہے جب انسان خود کو تلاش کر لیتا ہے۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں