ایف آئی ایف،دعاؤں کی مستحق 

 

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہم پرسایہ فگن ہے ۔ اللہ کی رحمتیں دن رات ہم پر برس رہی ہیں ۔یہ سب ہم پر دین اسلام کی وجہ سے ہے ۔اللہ کا جتنا شکراداکریں کم ہے کہ اس نے ہمیں رحمۃ اللعالمین ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔جب تک انسان کسی مصیبت میں خود گرفتار نہیں ہوتا اسے اس مصیبت ،دکھ درد یا بیماری کے متعلق صحیح ادراک ملنا مشکل ہوتاہے ۔رمضان میں جہاں روزہ رکھنے کا مقصداللہ کا قرب حاصل کرنا ہے وہیں اس کا مقصد انسان کو بھوک کی شدت سے آگاہی فراہم کرنا بھی ہے تاکہ دوسروں کی بھوک ،پیاس کرب وتکلیف اورکیفیت کا صحیح معنوں میں اندازہ لگاسکے ۔رسول رحمت ﷺ کی زندگی ہمارے لئے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ غریبوں کی مدد کرتے ،بھوکوں کو کھانا کھلاتے ،بے سہاروں کا سہارابنتے اور مصیبت کے ماروں کی مصیبیتیں دورکرتے ۔

نبی رحمت ﷺ کے اسی اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی این جی او فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے اپنے کام کا آغاز کیا اوراب 18ذیلی شعبہ جات کے ساتھ پاکستان کے ساتھ ساتھ برما ،غزہ ودیگر مسلم مظلوم ممالک میں اس کے رضاکار کام کرتے نظر آتے ہیں ۔نہانے کی غرض سے دریاؤں اورنہروں کی طرف جانے والے نوجوان حادثے کا شکار ہوکرڈوب جاتے ہیں ،حادثے کا شکار ہوکر بسیں وغیرہ نہروں اوربرساتی نالوں میں گر جاتی ہیں ،اور اسی طرح سیلاب کے موسم میں لاکھوں پاکستانی اپنے گھروں میں محصور ہوجاتے ہیں ۔ عوامی سطح پر آج تک اس کے تدارک کیلئے کچھ نہیں کیا گیا بلکہ اس وقت پاک فوج کو آگے کردیاجاتا ہے اور سیاست دان ودیگر مینیجمنٹ والے ادارے پیچھے بیٹھ کر سکون سے فوٹوسیشن کرواتے نظر آتے ہیں ۔ہسپتالوں ،ڈسپنسریوں ،بلڈ بنک ،فلٹر کلینک، میڈیکل اور فرسٹ ایڈسنٹر ،جیلوں اور دیگر پبلک مقامات پر فری میڈیکل کیمپ ،سرجیکل کیمپ، وبائی امراض کے تدارک کے لئے طبی کوشش ،ہیپاٹائٹس فری پروگرام ،سیو آئی ویژن پروگرام،ویکسینیشن پروگرام اور دیگر خدمت خلق کے پروگرام کرتی یہ پاکستان کی واحد اور پہلی این جی او ہے جو ہر قسم کے حادثات اور صورت حال سے نمٹنے کے لئے ملک بھر میں ورکشاپس اور پروگرام کرتی نظر آتی ہے ۔اس وقت فلاح انسانیت کے زیر اہتمام 7ہسپتال اور 192ڈسپنسریاں اور 256ایمبولینسیں کام کررہی ہیں ۔یہاں مجھے اپنا واقعہ یا د آگیا ،تین ماہ قبل میرے والدمحترم فیصل آباد کے ایک ہسپتال میں آپریشن کی غرض سے داخل تھے ۔ آپریشن کے بعد گھر واپسی کے لئے ہمیں ایمبولینس درکار تھی باوجود کوشش کہ کوئی ایمبولینس نہ ملی تو فلاح انسانیت فاؤنڈیشن والوں سے رابطہ کیا انہوں نے کوشش کرکے ایک ایمبولینس متعلقہ ہسپتال میں بھیج دی ۔ اسی طرح ایک دفعہ نارووال سے ایک مریض چلڈرن ہسپتال لاہور منتقل کرنا تھا وہاں بھی یہ اللہ کے لوگ کام آئے ۔

بلوچستان غیرملکی این جی اوز اور سازشی ذہنوں کے لئے ہمیشہ سے ہی پسندیدہ جگہ رہی ہے ۔ عالم کفر کی بلوچستان کے علاقے پر نظر رکھنے کی وجوہات بے شمار ہیں جن کا پھر کبھی ذکر صحیح ، بلوچستان میں نفرت ،تعصب ،دشمنی اور عداوت جیسے بیج بوکر دشمن اسلام و پاکستان اسے علیحدہ کرنے کے چکروں میں تھے ۔ یہ فلاح انسانیت فاؤندیشن ہی تھی جس نے بلوچی بھائیوں کو دشمنوں کے ہتھکنڈوں سے نکالنے کے لئے سب سے پہلے بلوچستان کی راہ پکڑی ۔شروع میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن والوں کو وہاں پنجابی ہونے کی بناء پر کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،دھمکیاں ملیں اور بلوچستان سے نکل جانے کا کئی بار کہا گیا ۔ چیئرمین فلاح انسانیت فاؤنڈیشن حافظ عبدالروف اس متعلق بتاتے ہیں کہ’’ ہم نے ان کی سخت باتیں ،طعنے صبر وتحمل سے سنے اور ان کے لئے دعائیں کیں ۔ ہم نے انہیں کہا کہ پنجابی بلوچی سے پہلے ہمارا دین کا رشتہ ہے ،ایمان کا رشتہ ہے ،کلمے اور اسلام کارشتہ ہے ،ایک نبی ،ایک کتاب اور ایک قبلے کا رشتہ ہے ۔یہ رشتہ باقی تمام رشتوں سے مضبوط اور افضل ہے اور ہم اسی رشتے کے ناطے تمہارے پاس آئے ہیں ۔‘‘وقت کے ساتھ ساتھ بلوچیوں کے رویے نرم پڑتے گئے اور پھر بلوچیوں کے پنجابیوں کے لئے اپنے دل وگھر کے دروازے کھلتے گئے ۔مختلف حادثات ،سیلاب اور زلزلوں میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے وہاں کے لوگوں کی مدد کی اور زخمیوں کو کندھوں پراٹھااٹھا کر ہسپتالوں تک پہنچایا ۔ اس طرح اللہ نے بلوچ عوام ے دلوں کو پھر سے پاکستان سے جوڑ دیا۔یاد رہے کہ بلوچستان میں آج بھی کئی ایسے اضلاع موجود ہیں جہاں غربت انتہا کی ہے اور تعلیمی پسماندگی کاتوپوچھئے ہی نہ ۔8، 10سالوں سے بلوچستان قدرتی آفات کی زد میں ہے ایسے میں وہاں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جیسے فلاحی ورفاہی ادارے کی موجودگی نہایت اہمیت کی حامل ہے ۔جووہاں کنویں کھدوا رہی ہے ،وقتافوقتا بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرجیکل ،میڈیکل اور آئی کیمپس لگاتی ہے اورکوئٹہ ،جعفرآباد سمیت دیگر کئی اضلاع میں ایمبولینسز سروس شروع کرچکی ہے ۔بلوچستان میں کود کفالت پروگرام کے تحت فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے 10ہزار خاندانوں میں 10ہزار بکریاں دینے کا پروگرام بنایا ہے ۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 100سکول،1000کنویں اور90مزید ایمبولینسز جلد ہی لانچ کرنے کا پروگرام بناچکی ہے۔رمضان المبارک کی آمد سے ایک دن قبل امیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید نے دوہزار بلوچی خاندانوں کے لئے 50لاکھ مالیت کا رمضان پیکج روانہ کیا تھا ۔ اس پیکج میں آٹا ،چاول ،گھی ،چینی ،دالیں اور دیگر اشیائے خوردونوش شامل تھیں ۔ اس موقع پر حافظ محمد سعید کاکہنا تھا کہ ’’برکتوں کامہینہ شروع ہونے کو ہے جس میں افطار کروانے والے کو بھی روزہ رکھنے والے جتنا اجر ملتا ہے ۔‘‘اس کے علاوہ رمضان المبارک میں ملک بھر میں مختلف مقامات پر FIFکی جیکٹیں پہنے اس کے رضاکار سحر وافطار کرواتے نظر آتے ہیں ۔ رمضان دستر خوان پر عز ت کے ساتھ ہر فرد بیٹھ کر بڑے سکون کے ساتھ افطار کرسکتاہے ۔ جس کے لئے فلاح انسانیت والے یقیناًدعاؤں کے مستحق ہیں ۔

پاکستان میں الحمدللہ! ایسے ادارے اور این جی اوز موجود ہیں جو صرف پاکستانیوں کی امداد سے ہی چلتی ہیں اور جن کا کام بھی ہم پاکستانیوں کو نظر آتا ہے ۔ سیلاب ،زلزلوں اوردیگر حادثات میں خدمت خلق کرتے نظر آتے ان اداروں پر نظر رکھیں اور جب بھی آپ کسی ادارے ،این جی اوز یا کسی شخص کو امداد دینے لگیں تو دیکھ لیں کہ یہ ادارہ ،این جی او یا نمائندہ شخص کس قدر خدمت خلق کے کام کررہاہے تاکہ آپ کا دیاہوا مال صحیح ہاتھوں میں جاکر صحیح مقاصد کے لئے استعما ل ہوسکے ۔

محمد عتیق الرحمن 

جواب چھوڑیں