سوڈوسائنس ۔ اڑن طشتریاں (13)۔۔وہاراامباکر


انتالیس لوگوں کے ایک گروپ نے کیلے فورنیا میں 26 مارچ 1997 کو باجماعت خود کشی کر لی۔ خواب آور گولیاں نگل لیں، سر پر پلاسٹک بیگ چڑھا لئے تھے کہ سانس نہ آئے۔ سب سیاہ قمیض، پتلون اور سیاہ نائیکے کے جوتوں میں ملبوس تھے۔ بہت طریقے سے کی گئی خودکشی کو کرنے والا گروپ اڑن طشتریوں کی بنیاد پر بنے مذاہب میں “جنت کا دروازہ” نامی گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس گروپ کے دو مزید ممبران نے اس اجتماعی خود کشی کے بعد خودکشی کا کام سرانجام دیا۔
فرانسیسی فلسفی البرٹ کامیو سے منسوب مشہور فقرہ ہے کہ چونکہ زندگی بے معنی ہے تو واحد سنجیدہ فلسفانہ پوزیشن خودکشی ہے۔ ہم سب ہی ایسا کیوں نہیں کر لیتے۔ اس کے بہت سے جواب دئے جا سکتے ہیں۔ ایک کامن سینس کا جواب یہ ہے کہ آخر جلدی کیا ہے؟ کبھی نہ کبھی تو پہنچ ہی جائیں گے۔ لیکن اس روز اکیس سال سے بہتر سال عمر کے ان لوگوں کے پاس اس کا کچھ اور ہی جواب تھا۔ ان کے خیال میں، وہ اس دنیا کو ترک کر کے ایک اور ڈائمنشن میں جا رہے تھے۔ وہ اس کے قائل تھے کہ اس وقت زمین کے قریب آنے والے ہیلے بوپ دمدار ستارے کے ساتھ ایک اڑن طشتری تھی جو انہیں اس ڈائمنشن میں لے جائی گی۔ اس گروپ کیلئے ذہین خلائی مخلوق ان کے عقائد کا معاملہ تھا۔ اور ایک ریڈیو کے پروگرام “آرٹ بیل ریڈیو شو” نے ان کے اس وہم کو اپنی سنسنی خیز خبر پھیلانے کے لئے ہوا دی۔
یہ گروپ انتہائی سخت اصولوں پر چلتا تھا جس میں سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اور تجزیاتی سوچ کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔ اس گروپ کے سربراہ ایپل وہائٹ نے کسی طرح دوسروں کو قائل کر لیا تھا کہ وہ خود انسانی جسم میں خلائی مخلوق ہیں۔ پیرانارمل، آسٹرولوجی اور دوسرے اوہام ان کے عقائد کا حصہ تھے۔ ٹی وی پر پیرانارمل دیکھا کرتے تھے۔
انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ اس ٹریجڈی کے پیچھے کئی فیکٹر تھے جن میں سے ایک کریٹیکل سوچ نہ ہونا تھا۔ انہوں نے ویڈیوز بنوائیں جس میں ممبران کہہ رہے تھے۔ “مجھے بے چینی سے انتظار ہے۔ میں بہت خوش ہوں”، “ہم سب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس دنیا سے باہر اور کیا کچھ ہے”۔
ہماری جذباتی ضروریات، منطق اور کامن سینس کا سوئچ بجھا دئے جانا ۔۔۔ سوڈوسائنس کی تاریخ اس طرح کے بہت سے افسوسناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔ حتیٰ کہ اڑن طشتریاں بھی مار دیتی ہیں۔ اپنی کسی لیزر گن سے نہیں بلکہ نارمل اور ذہین انسانوں کے اندھے ایمان کی وجہ سے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظاہر ہے کہ اڑن طشتریوں پر عقیدہ رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ خود کشی کرنے لگیں۔ لیکن بیک وقت کریٹیکل سوچ کا کم ہونا اور جذباتی لحاظ سے غیرمطمئن ہونا اس طرح کے گروہوں میں عام ہے۔ اڑن طشتری ایسا موضوع ہے جس پر وسیع لٹریچر مل جائے گا۔ لیکن ہم اس بارے میں کچھ دعووں کا جائزہ لیں گے جو ہمیں سوڈوسائنس کی نیچر سے آگاہ کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو ایف اولوجی کے شائقین کا کہنا ہے کہ اڑن طشتریوں کے بارے میں تمام واقعات کی وضاحت نہیں کی جا سکی۔ اور یہ بالکل درست بات ہے۔ لیکن اس کا مطلب خلائی مخلوق کی خلائی گاڑی کا ثابت ہونا نہیں۔ سائنس کا انکار کرنے کا دفاع کیلئے یہ تکنیک ہر تحریک استعمال کرتی ہے۔ اگر کسی چیز کی وضاحت نہیں کی جا سکی تو اس کا مطلب میری پسندیدہ وضاحت کا درست ثابت ہونا نہیں۔ میری پسندیدہ وضاحت کو شواہد کی سپورٹ درکار ہے۔
آرگومنٹ کے اس طریقے کو اگر پلے سے باندھ لیں تو آپ بہت سے غلط خیالات سے بچ سکیں گے۔ نہ صرف سوڈوسائنس میں بلکہ سیاست سے لے کر روزمرہ زندگی میں یہ عام طریقہ ہے۔ منطقی مغالطوں میں یہ سب سے عام ہے۔ اگر میری پاس جادو کی چھڑی ہوتی جس سے انسانی مغالطوں میں سے ایک کو ختم کیا جا سکتا تو وہ یہ والا ہوتا۔ لیکن چونکہ میں جادو کی چھڑی پر یقین نہیں رکھتا، اس لئے مجھے تحریریں لکھنا پڑتیں ہیں۔ 🙁
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارہ اگست 1986 کو رات دس بجے کینیڈا سے لے کر امریکہ کے جنوب تک بہت سے لوگوں نے آسمان پر کچھ دیکھا۔ یہ کیا تھا؟ کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔ اس واقعے کو اڑن طشتریاں دیکھنے کا سب سے بڑا واقعہ کہا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اس روز کچھ تو آسمان پر ہوا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اسی روز کینٹکی میں کئی لوگوں کو ایک دھماکہ بھی سنائی دیا۔
جو ہوا تھا، اس کا جلد ہی معلوم ہو گیا۔ چونکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے دیکھا تھا تو دلچسپی بھی زیادہ تھی۔ یہ ایک جاپانی راکٹ تھا جس کو لانچ کیا گیا تھا۔ اس کا ٹھیک ڈیٹا نوراڈ نے ریلیز بھی کر دیا۔ اور وہ دھماکا؟ یہ کینٹکی میں آتش بازی کے ایک ڈھیر میں ہوا تھا۔ یہ اس علاقے میں غیرمعمولی واقعہ نہیں تھا۔
اس سے ہمیں تین سبق ملتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب ہزاروں لوگ بتا رہے تھے کہ آسمان پر کچھ تھا تو وہ یقیناً درست بتا رہے تھے۔ کیا تھا؟ وہ الگ معاملہ ہے۔ دوسرا یہ کہ کینٹکی میں ہونے والا دھماکہ اگرچہ اس سے بالکل الگ واقعہ تھا اور اس وقت کے قریب قریب ہوا لیکن ایک اور بڑا منطقی مغالطہ ان کا تعلق طے کر لینے کا ہے۔ تیسرا یہ کہ یہاں پر اصل کاز تک پہنچنا آسان اس لئے تھا کہ شاہدین کی زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے معاملے کی تفتیش پر توجہ زیادہ دی گئی۔ اور ہم جلد اصل بات تک پہنچ گئے۔
لیکن ظاہر ہے کہ لازمی نہیں کہ تمام واقعات کا جواب فوری دستیاب ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری مثال زیادہ دلچسپ ہے پانچ مارچ 2004 کو میکسیکو کی حکومت کا ایک جاسوس طیارہ منشیات کی سمگلنگ پر نظر رکھنے کے لئے پرواز کر رہا تھا۔ اس کے عملے نے گیارہ ایسے آبجیکٹ دریافت کئے جو صرف انفراریڈ سے نظر آ رہے تھے۔ مقامی ریڈار کی تنصیب کو معلوم نہیں ہوا کہ یہ کیا تھا لیکن انہوں نے بھی کچھ ڈیٹکیٹ کیا تھا۔ اب، ہمارے پاس ایک قابلِ اعتبار حکومتی ذریعے کی ویڈیو موجود تھی۔ یہ کیا تھا؟
نہیں، یہ اڑن طشتری نہیں تھی لیکن یہاں پر سبق ان متشککین کے لئے ہے جن کو دعویٰ مسترد کرنے کی جلدی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ان کی وضاحتیوں کی بھرمار ہو گئی۔
مقامی آسٹرونومر ہوزے ہیرین نے کہا یہ کہ شہابیے کے ٹکڑے تھے۔ نیشل یونیورسٹی کے جولیو ہیریرا کا کہنا تھا کہ یہ فضا میں برقی فلئیر تھے۔ رفال ناوارو کے مطابق یہ پلازما توانائی کے سپارک تھے۔ موریلس آسٹرونومی سوسائٹی کے مطابق یہ موسمیاتی غبارے تھے۔ ان سب الگ الگ وضاحتوں میں صرف ایک چیز مشترک تھی۔ یہ سب غلط تھیں۔ اور اس رائے کو قائم کرنے کے پیچھے کچھ خاص شواہد نہیں تھے۔
اور یہ ہمیں حد سے زیادہ متشکک ہونے کے ایک نقصان سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ پوزیشن ایک مغرور مسترد کرنے والے میں بدل سکتی ہے جس سے کوئی نیا خیال چپک نہیں سکتا۔ یہ پوزیشن بھی کریٹیکل سوچ میں اتنی ہی رکاوٹ ہے جتنی کسی حد سے زیادہ یقین رکھنے والے کی۔ نہ ہی اس سے سائنس کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی پبلک کو۔
یہاں پر کیا تھا؟ یہ تیل کے کنووں کے گروپ سے اٹھنے والے شعلے تھے۔ اس روز موسم خراب تھا۔ جہاز میں بیٹھے شخص کیلئے یہ غیرمانوس فنامینا تھا اور اسے خراب موسم میں پوزیشن کو ٹھیک معلوم کرنے میں غلطی ہوئی تھی۔ نہیں، یہ اڑن طشتری نہیں تھا۔ لیکن بالفرض ہمیں اس کا نہ بھی معلوم ہوتا کہ یہ کیا تھا۔ تو بھی یہ خلائی مخلوق کی موجودگی کے شواہد نہ ہوتے۔
اور یہ ہمیں ایک بہت مشکل جواب کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ “معلوم نہیں” کا جواب ہے۔ یہ سننے والوں کے لئے قابلِ قبول ہونا اور دینے والوں کے لئے اسے تسلیم کرنا ۔۔۔ یہ دونوں آسان نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت سی چیزیں ہمیں معلوم نہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پسند نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یو ایف اولوجی ایک مثال ہے جو “معلوم نہیں” کے خلا میں کام کرتی ہے۔ لیکن یہی سوڈوسائنس کا میدان ہے۔
اڑن طشتریوں پر اعتقاد کی وجہ سے “جنت کا دروازہ” نامی گروپ کی خود کشیاں افسوسناک ہیں لیکن سوڈوسائنس ایڈز کے علاج کے انکار سے ویکسین کی مخالفت، آسیب اتارنے والے عاملوں سے لے کر متبادل علاج کے طریقوں تک بہت بڑی تعداد میں جانیں نگل چکی ہے۔ پیراسائیکلوجی، علمِ نجوم، لا آف اٹریکشن سمیت قسم قسم کے بے سروپا خیالات کا عام ہونا صرف ان پیشوں سے منسلک شعبدہ بازوں کے لئے ہی اچھی خبر ہو سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہو سکتا ہے کہ سوال یہ ہو کہ ٹیلی پیتھی، ٹیلی کائناسس، آسیب، اڑن طشتری، نجومی، فال، پانی سے چلنے والی گاڑیاں ۔۔۔ آخر سائنس میں ان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟
یہ توازن اتنا آسان نہیں۔ سائنس محدود وسائل سے کی جاتی ہے۔ عملی طور پر یونیورسٹیاں یا سائنسدان ان موضوعات کونسا دعویٰ کتنا اہم ہے۔ اس کو کتنی بار غلط ثابت کیا جائے۔
یہ تو سائنسدانوں کا مسئلہ ہے۔ سائنس کی بنیادی تفہیم حاصل کر کے کم از کم ہم خود کو غلط خیالات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
(جاری ہے)




بشکریہ

جواب چھوڑیں