سائنس اور خدا۔ اندھی تقلید اور انسانی ریوڑ۔۔علیم احمد



سائنسی رجحان رکھنے والے مذہبی طبقے کا خیال ہے کہ سائنس کا مطالعہ آپ کو وجودِ باری تعالیٰ کے عقلی ثبوت دیتا ہے اور نتیجتاً آپ کا ایمان پختہ ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب الحاد پرست طبقہ ٹھیک اسی سائنسی مطالعے کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ جتاتا ہے کہ سائنس کی رُو سے خدا کا کوئی وجود نہیں۔
معذرت کہ یہ دونوں نقطہ ہائے نظر ہی درست نہیں۔ خدا کو ماننا یا نہ ماننا ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ (تاہم یہی ’’ذاتی معاملہ‘‘ کسی معاشرے میں ایک جیسے نقطہ نظر سے اتفاق کرنے والے افراد کی تعداد پر انحصار کرتے ہوئے اجتماعی، اور بعض مرتبہ سماجی و ریاستی معاملہ، بلکہ مسئلہ تک بن جاتا ہے۔)
’’سائنس اور خدا‘‘ کے اہم اور نازک موضوع پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سائنس میں کسی بھی حقیقت کو ’’سچ تسلیم کرنے‘‘ کے کچھ مخصوص اور لگے بندھے طریقے رائج ہیں جنہیں مجموعی طور پر ’’سائنسی طریقہ‘‘ (سائنٹفک میتھڈ) کہا جاتا ہے۔
سائنسی طریقہ استعمال کرتے ہوئے ہم ’’مظاہرِ فطرت‘‘ کو سمجھنے کی ’’عقلی کوشش‘‘ کرتے ہیں اور ان سے متعلق کوئی ایسی وضاحت (یا وضاحتوں کا مجموعہ) اخذ کرتے ہیں جو ہمارے وقت کے اعتبار سے ’’عقل کے پیمانے‘‘ پر پوری اترتی ہو؛ اور جس پر ہمارے عہد کے ’’ماہرینِ سائنس‘‘ کی اکثریت متفق بھی ہو۔ بعد کے زمانے میں بہتر مشاہدات سے حاصل ہونے والے نئے نتائج اور جدید نظریات کی روشنی میں ان ہی مظاہرِ فطرت کی کچھ اور وضاحت بھی ہمارے سامنے آسکتی ہے؛ جو ضروری نہیں کہ سابقہ وضاحتوں کی مطابقت میں ہو…
… اور یہی وہ چیز ہے جسے ہم ’’سائنس کی پیش رفت‘‘ یا ’’سائنسی ترقی‘‘ کہتے ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ سائنس کا کام ’’کیا؟‘‘ اور ’’کیسے؟‘‘ کی جستجو ہے لیکن ’’کیوں؟‘‘ اور ’’کس نے؟‘‘ جیسے سوالات کا سائنس سے براہِ راست تعلق نہیں۔ سائنس کی کوئی مساوات، کوئی نظریہ اور کوئی قانون ایسا نہیں جو مؤخرالذکر دو سوالوں (کیوں اور کس نے) کے جوابات دیتا ہو۔
اس سب کے باوجود، سائنس کی بنیاد پر خدا کے وجود کی بحث آج تک جاری ہے۔ لیکن اس کی وجہ سائنس کو استعمال کرنے والے، اس سے استفادہ کرنے والے ’’انسان‘‘ ہیں… اور یہ انسان ملحد بھی ہوسکتے ہیں اور مذہبی سوچ والے بھی۔
یہ دونوں طبقات کم از کم مظاہرِ فطرت کی تشریح (کیا اور کیسے) پر بالعموم متفق ملیں گے، بشرطیکہ وہ دیانتداری سے کام لیں اور کسی ’’شیخ‘‘ یا ’’ڈاکٹر‘‘ کی اندھی تقلید نہ کرتے ہوں۔
سارا اختلاف ’’کیوں؟‘‘ اور ’’کس نے؟‘‘ کے گرد گھومتا ہے۔ ملحد کے نزدیک ان سوالوں کے جوابات بالترتیب ’’محض اتفاق‘‘ اور ’’کوئی نہیں‘‘ کی شکل میں ہوتے ہیں۔ ان کے برعکس ایک مذہبی شخص ٹھیک ان ہی سوالوں کے جواب میں ’’خدا کی مرضی‘‘ اور ’’یہ سب کچھ خدا نے کیا ہے‘‘ جیسا پیرایہ اختیار کرتا ہے۔
مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب ایک خاص فکر کا حامل طبقہ، اپنے مخالف طبقہ فکر پر (’’کیوں‘‘ اور ’’کس نے‘‘ کے جواب کی بنیاد پر) لعن طعن شروع کردیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ’’اصل سائنس‘‘ تو درمیان میں کہیں رہ جاتی ہے اور ساری بحث ’’دعویٰ، جوابِ دعویٰ‘‘ کی نہج پر آگے بڑھتی ہے۔
ملحد ایک قدرتی مظہر کی سائنسی تشریح کرتے ہوئے خدا کے وجود سے ’’عقلی طور پر‘‘ انکار کرتا ہے تو مذہبی شخص اس تشریح پر سائنسی اعتراض کرتے ہوئے (یا ویسے ہی کسی اور مظہر کی سائنسی تشریح سے استفادہ کرتے ہوئے)، اتنے ہی ’’عقلی انداز میں‘‘ وجودِ باری تعالیٰ کا اقرار کرتا ہے۔
شہرت حاصل کرنے کی خواہش اور بے لچک رویہ، جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے، اس بحث کا رُخ شدت پسندی کی طرف موڑ دیتے ہیں… سائنس جائے بھاڑ میں!
ستم بالائے ستم یہ کہ اکثر اوقات اپنے مؤقف کی تائید میں سائنسی حقائق کی مبہم یا گمراہ کن تشریح کرکے تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ نقطہ نظر ’’سائنس سے ثابت شدہ‘‘ ہے… عوام میں سائنسی شعور پیدا ہو یا نہ ہو، مجھے ہر حال ’’فاتح‘‘ ہونا چاہئے۔
پہلے اس بارے میں کتابیں شائع ہوتی تھیں اور رسائل چھپتے تھے۔ آج ای بُکس شائع کی جاتی ہیں، ویب سائٹس بنتی ہیں۔
لیکن، ان سب سے بڑھ کر، سوشل میڈیا پیجز اور گروپس بنتے ہیں جن میں کسی بھی مخصوص مکتبِ فکر کے ہزاروں افراد (اور بعض اوقات لاکھوں لوگ) شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر اندھے مقلد بلکہ ’’نرے مقلد‘‘ ہوتے ہیں جن کا کام اپنے مکتبِ فکر کے حق میں (اور ’’دشمن مکتبِ فکر‘‘ کے خلاف) جانے والی ہر بات کی بغیر سوچے سمجھے تائید کرنا ہوتا ہے۔ ویسے ان لوگوں کیلئے ہجوم سے زیادہ انسانی ریوڑ کا استعارہ زیادہ مناسب محسوس ہوتا ہے۔
مقلدین میں سے ہر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ ’’سائنسی فکر کو فروغ دینے‘‘ کے ساتھ ساتھ، اپنے ’’شیخ‘‘ یا ’’ڈاکٹر‘‘ کی تائید کرتے ہوئے، اپنے مکتبِ فکر (مذہب یا الحاد) کی خدمت کررہا ہے۔ لیکن درحقیقت وہ سائنس کے نام پر ایک غیر سائنسی طرزِ عمل کا شکار ہو کر کچھ لوگوں کا چراغِ شہرت روشن رکھنے کیلئے صرف ایندھن کے طور پر استعمال ہورہا ہوتا ہے۔
خدا کے وجود پر بحث شاید انسان کی فکری تاریخ میں سب سے پرانی بحث ہے؛ ایک ایسی بحث جس کا حتمی فیصلہ کبھی نہیں ہوسکا… اور شاید کبھی نہیں ہوسکے گا۔
یاد رکھئے! کٹر مذہبی اور کٹر ملحد، دونوں ہی ’’اپنے اپنے عقیدے‘‘ سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ دونوں کا تصادم اسی طرح جاری رہے گا۔ چاہیں تو یہ پیش گوئی لکھوا لیجئے تاکہ آنے والی صدیوں میں انسانی نسل بھی اس کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرسکے۔
تو اے میرے پڑھنے والو! تم خدا کے وجود کا اقرار کرو یا انکار، مجھے اس سے غرض نہیں۔ لیکن اپنے الحادی یا مذہبی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سائنس کو ’’استعمال‘‘ کرنا چھوڑ دو۔
سائنس پر رحم کھاؤ، خدا تم پر رحم کھائے گا۔ (ویسے وہ انسانی حرکتیں دیکھ کر مسکرا ضرور رہا ہوگا۔)
نوٹ: میں خدا کو مانتا ہوں، تہِ دل سے۔ البتہ میرے خیالات سے اتفاق یا اختلاف کرنے میں آپ مکمل طور پر آزاد ہیں۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں