غلام محمد قاصرکا یومِ وفات February 20, 1999 غلا…

غلام محمد قاصرکا یومِ وفات
February 20, 1999

غلام محمد قاصر 4 ستمبر 1944 میں پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے پہاڑپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین شعری مجموعے تسلسل ، آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے اور دریائے گماں شائع ہوئے جنہوں نے سنجیدہ ادبی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی حاصل کی اور قاصر کو جدید اردو غزل کے نمائندہ شعراء میں ایک منفرد مقام کا حامل قرار دیا گیا۔ ان کا تمام شعری کلام جس میں مذکورہ بالا تینوں مجموعے اور غیر مطبوعہ و غیر مدون کلام شامل ہے۔ کلیاتِ قاصر (اک شعر ابھی تک رہتا ہے ) کے عنوان سے 2009ء میں شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد ڈرامے اور پروگرام لکھے جو ناظرین و سامعین میں بے حد مقبول ہے۔ قاصر کا تحریر کردہ ڈراما سیریل تلاش اور بچوں کے لیے کھیل بھوت بنگلہ نے خاص طور پر بہت مقبولیت حاصل کی۔ قاصر نے پاکستان کے کچھ اہل قلم پر عمدہ مضامین رقم کیے۔ پاکستان اور بیرون ملک پاکستان منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت بھی کی۔ جبکہ این ڈبلیو ایف پی ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے ساتویں ، گیارہویں جماعت کے لیے نصاب مرتب کیا۔
ملازمت
گورنمنٹ ہائی اسکول پہاڑ پور سے میٹرک کرنے کے بعد اسی اسکول میں بطور ٹیچر تقرری ہوئی ۔ تاہم ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ طور پر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقوں میں تدریس کے شعبے سے منسلک رہے۔ 1975ء میں بطور لیکچرار پہلی تقرری گورنمنٹ کالج مردان میں ہوئی۔ اس کے بعد سپیرئیر سائنس کالج پشاور ، گورنمنٹ کالج درہ آدم خیل ، گورنمنٹ کالج پشاور، گورنمنٹ کالج طورو اور گورنمنٹ کالج پبی میں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔
شاعری کا آغاز
اسی دوران کہیں سے شعر کی چنگاری پھوٹی جس نے بالآخر پورے ملک میں ان کے نرالے طرزِ ادا کے شعلے بکھیر دیے۔ حتیٰ کہ 1977ء میں جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’تسلسل‘ شائع ہوا تو اس کے بارے میں ظفر اقبال جیسے لگی لپٹی نہ رکھنے والے شاعر نے لکھا کہ میری شاعری جہاں سے ختم ہوتی ہے قاصر کی شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔
ساٹھ کی دہائی کے اواخر کی بات ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک عظیم الشان کل پاکستان مشاعرہ منعقد ہوا جس میں اس دور کے اکثر نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا، جن میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، محبوب خزاں وغیرہ شامل تھے۔
مشاعرے کے آغاز ہی میں ایک نوجوان شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی۔ ایک چوبیس پچیس سالہ دبلے پتلے اسکول ٹیچر نے ہاتھوں میں لرزتے ہوئے کاغذ کو بڑی مشکل سے سنبھال کر ایسے لہجے میں غزل سنانا شروع کی جسے کسی طرح بھی ٹکسالی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ لیکن اشعار کی روانی، غزلیت کی فراوانی اور خیال کی کاٹ ایسی تھی کہ بڑے ناموں کی باری کے منتظر سامعین بھی نوٹس لینے پر مجبور ہو گئے۔
جب نوجوان اس شعر پر آئے تو نہ صرف گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شعرا یک لخت اٹھ بیٹھے اور بلکہ انھوں نے تمام سامعین کی آواز میں آواز ملا کر وہ داد دی کہ پنڈال کی محاوراتی چھت اڑ گئی۔ شعر تھا:
تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ میخانے کا پتہ
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے؟ اس سوال کا جواب غزل کے آخری شعر میں شاعر نے خود ہی دے دیا:
کون غلام محمد قاصر بیچارے سے کرتا بات
یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے
قاصر نے روایت اور کلاسیکی زبان کا دامن تھامے رکھا۔ تاہم انھوں نے روایت میں بھی جدت اور ندرت کا مظاہرہ کیا ہے۔
میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے
احمد ندیم قاسمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ’جب کوئی سچ مچ کا شاعر بات کہنے کا اپنا سلیقہ روایت میں شامل کرتا ہے تو پوری روایت جگمگا اٹھتی ہے۔
نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے
ان کی وسعتِ نظر ایسی ہے جو انسانی نفسیات کی اتھاہ گہرائیوں میں کمال سہولت سے اتر جاتی ہے:
کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا
ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا
پہلے اِک شخص میری ذات بنا
اور پھر پوری کائنات بنا
کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے
قاصر کے ہاں روایت اور جدت کے امتزاج کی ایک اور مثال یہ ہے کہ وہ اساطیری روایات کو پلٹ کر انھیں نیا رنگ عطا کر دیتے ہیں، اور ہزاروں بار سنی ہوئی بات بھی اچھوتی ہو جاتی ہے:
بیکار گیا بن میں سونا میرا صدیوں کا
اس شہر میں تو اب تک سِکہ بھی نہیں بدلا
آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
ہم عبث طور اٹھا لائے ہیں
پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
لاکھ دجلے بنا فرات بنا
یوں تو قاسمی، ظفر اقبال، احمد فراز، قتیل شفائی، شہزاد احمد، صوفی تبسم، رئیس امروہوی جیسے کئی مشاہیر نے قاصر کی ستائش کی ہے، لیکن مشہور کالم نگار منو بھائی نادانستگی میں اپنے ایک کالم میں قاصر کا یہ شعر میر کے نام سے نقل کر گئے:
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
کسی بھی نئے یا پرانے شاعر کو اس سے بڑھ کر داد نہیں دی جا سکتی۔
وفات
تین ماہ تک جگر کے سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد غلام محمد قاصر 20 فروری 1999 کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔

Death anniversary of Ghulam Mohammad Nasakil
February 20, 1999

Ghulam Mohammad Nasak was born on 4 September 1944 in a small town of Paharpur, 40 km north of Dera Ismail Khan, Pakistan. His three poetry collections are continuously, the eighth sky is blue and the river of assumptions are published. Those who received a lot of thanks in serious literary constituencies and unable to have a unique place among the representative poets of the modern Urdu Ghazal. All their poetry which includes the above three collections and unpublished and non-madun kalam. Hay. Kalayat e Najh (A poetry still remains) has been published in 2009 He has written several dramas and programs for PTV and Radio Pakistan which are highly popular among the audience and audience. Drama serial search written by Nakar and Kheel Bhoot Bungalow for children got very popular especially. Nakar made excellent articles on some of the people of Pakistan. Participation in the poetry and literary conferences held in Pakistan and abroad. Also done. While set up curriculum for seventh, eleventh grade for the NWFP text book board.
Job
After matriculating from Government High School Paharpur, the same school was appointed as a teacher. However, along with the job, he continued his education in private and did MA in Urdu literature. And then teaching in the surrounding areas of Dera Ismail Khan. Stay connected to the department. First appointment as a lecturer in 1975 was held at Government College Mardan. After that teaching at Superior Science College Peshawar, Government College Dara Adam Khel, Government College Peshawar, Government College Toro and Government College Pabbi. Stay connected to the department.
The beginning of poetry
Meanwhile, a spark of poetry sparked from somewhere which finally scattered the flames of his unique style across the country. Even in 1977, when his first poetry collection 'Continuation' was published, it was like Zafar Iqbal. The poet who doesn't have a clip wrote that from where my poetry ends, the poetry of the unable starts from there.
It's a matter of late sixties. A great Pakistan poetry was held in Dera Ismail Khan in which most of the famous poets of this era participated, including Nasir Kazmi, Munir Niazi, Ahmad Nadeem Qasmi, Qateel Shifai, Mehboob Autumn etc were included.
At the beginning of the poetry, a young poet was invited to recite the poetry. A-year-old skinny school teacher handled the paper with a lot of difficulty and started reciting the poem in such a tone which was not called Taksali in any way. Could have gone. But the flow of poetry, the abundance of Ghazalat and the cut of thought was such that even the audience was forced to take notice waiting for the turn of big names.
When the youngsters came to this poetry, not only the poets leaned on the pillows, but the poets got up barely, but they made the voice of all the audience and praised that the roof of the pindal flew away. The poetry was:
You have become angry like this, otherwise the address of the bar
We asked everyone who had intoxicated eyes
People started asking each other who is this? The poet himself answered this question in the last poetry of the Ghazal:
Who is Ghulam Muhammad unable to talk to the poor?
This was a town of clever people and Hazrat Sharmila was
The unable has held the bottom of tradition and classical language. However, they have also demonstrated innovation and nature in tradition.
I kept wearing my body dressed as pain
I find nudity spread to my soul
The sadness of the streets slicks, the silence of the house says
Why does every living in this city live in another city
Ahmed Nadeem Qasmi writes about him: ' When a true poet adds his way of speaking to tradition, the whole tradition shines.
We used to have beauty in our eyes.
How much we cared for one person
They never let a discouraged come to the lips.
Even though there were thousands of grief in the heart
Their dimension is such that it goes down to the depths of human psychology with perfection:
Even the boat did not change, the river did not change
The passion of us drowning people has not changed
First one person became my self
And then the whole universe was formed
What should I do, I can't believe it
You are truthful, the thing is false.
Another example of the combination of tradition and innovation with the unable is that they reverse mythological traditions and give them a new color, and the words heard thousands of times are untouched:
My sleep of centuries went useless in the forest.
Even the coin has not changed in this city yet.
The fire was needed and brought the light
We've brought it up in vain
The kingdom of thirst does not fade away
Lakhs of dajlas became Euphrates
So many mushaheers like Qasmi, Zafar Iqbal, Ahmad Faraz, Qateel Shifai, Shehzad Ahmed, Sufi Tabassum, Rais Amrohvi have praised the unable, but famous columnist Manu Bhai, unable to write in one of his columns in Nadanstagi, this poetry in Mir Copied from:
What will I do if I failed in love
I don't even know anything else
No new or old poet can be appreciated more than this.
Death
Ghulam Mohammad unable to leave this world on 20 February 1999 after suffering from liver cancer for three months.

Translated


جواب چھوڑیں