جمہوریت کی لڑائی صرف منتخب ایوانوں میں ہی سجتی ہے۔۔ غیور ترمذی

عام حالت میں نیا سال نئی امیدیں اور نیا جوش لے کر آیا ہے مگر بدقسمتی سے اس وقت ہمارے ملکی حالات بہت دگرگوں ہیں۔ قدرت پاکستان کو تمام ناگہانی آفات اوردشمنوں  کی سازشوں سے محفوظ رکھ, مگر آج سے ٹھیک 50 سال پہلے سنہ 1971ء میں بنگلہ دیش کا معرضِ  وجود میں آنا بھی بعین اسی طرح کے حالات کے مزید دگرگوں ہونے سے ہوا تھا۔ اگرچہ اُن کا نقطہ ہائے آغاز تقریباً  وہی تھا جس سے ہم آج کل گزر رہے ہیں۔ یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ سال 1971ء اور سال 2021ء کا کیلنڈرایک ہی ہے۔ سال 1971ء کا آغاز بھی بروز جمعہ یکم جنوری سے ہوا تھا اور سال 2021ء میں بھی بروز جمعہ سے ہم نے شروعات لی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تب ملک پر ایک ملٹری ڈکٹیٹر جنرل یحٰی خاں کی حکومت تھی اور آج ظاہری طور پر ایک سول جمہوری حکومت ہی اقتدار کی شکل میں موجود ہے ،اگرچہ اس حکومت کے اکثر کارپرداز وہی ہیں جو ہر حکومت کا حصہ ہوا کرتے ہیں اور جنہیں اسٹیبلشمنٹ کے منتخب الیکٹ ایبلز کہا جاتا ہے۔ ایک خوش آئند پہلو مگر ہم وطنوں کے لئے یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن میں پیپلز پارٹی بھی موجود ہے جو جمہوریت کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی بجائے حکومت سے اپنی لڑائی پارلیمنٹ میں جاری رکھنا چاہتی ہے۔

تمام اپوزیشن جماعتوں کو بھی پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) نے جو سفارشات پیش کی ہیں، اُن کا لبِ لباب یہی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پیپلز ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو چاہیے کہ وہ تحریک انصاف کی عمران خاں حکومت کے خلاف احتجاج اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں رہتے ہوئے جاری رکھیں۔ ایسا صرف تب ہی ممکن ہو گا جب پی ڈی ایم کی جماعتیں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی بجائے اسمبلیوں میں موجود رہیں اور دوسری تمام اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتوں کو اکٹھا کر کے اسمبلی کے اندر سے عمران خاں حکومت میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں ۔ یعنی یہ موجودہ اسمبلیاں اپنا 5 سالہ دور ضرور مکمل کریں ،اگرچہ وزیر اعظم عمران خاں کی بجائے کوئی دوسرا شخص وزیراعظم بن کر باقی مدت پوری کرے۔ حالیہ دنوں میں ایک عام تاثر یہ پیدا ہو چکا ہے کہ نون لیگ اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ عمران خاں حکومت کو فوراً  گرانا چاہتے ہیں ،چاہے اس کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر انہیں وقت سے پہلے ختم کرنا پڑے۔ اسمبلیوں کی بساط لپیٹ لئے جانے کے عمل سے اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی نقصان ہو گا۔ مسلم لیگ نون میں بھی ایک دھڑا یہی کہہ رہا ہے اور اُن کے یہاں بھی پیپلز پارٹی کے اس مؤقف کو پزیرائی مل رہی ہے۔ صرف مولانا فضل الرحمٰن اس وقت “میں نہ مانوں” کی تفسیر بنے ہوئے ہیں جنہیں پی ڈی ایم کے اگلے سربراہی اجلاس میں قائل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔

tripako tours pakistan

کیا سنگدلی اور منافقانہ رویہ ہی سیاست ہے ؟۔۔سید عارف مصطفیٰ

کئی دیگر مبصرین کا بھی یہی خیال ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اور حکومت میں مذاکرات ہونے چاہئیں اور دونوں کو ورکنگ ریلیشن شپ قائم کر کے پارلیمنٹ میں کچھ اہم ترین معاملات پر قانون سازی کرنی چاہیے۔ اِن میں سرفہرست یہ ہے کہ ایسی انتخابی اصلاحات کی جائیں کہ جن کے بعد اسٹبلشمنٹ کبھی بھی اور کسی بھی طرح انتخابی عمل میں نہ مداخلت کر سکے اور نہ ہی کوئی دوسری طاقت یا اسٹبلشمنٹ انتخابات میں دھاندلی کر سکیں ۔ نیز ایسی اصطلاحات بھی کی جائیں گی جن کے تحت قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور سینٹ اراکین کسی بھی طرح کے ترقیاتی پراجیکٹس میں شامل نہیں ہوں گے اور نہ ہی ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز مانگیں گے- تمام ترقیاتی کاموں کو ضلعی حکومتوں اور بلدیاتی نمائندوں کے سپرد کیا جائے ۔ اسمبلیوں میں نمائندگی کے لئے امیدواروں کا معیار قائم ہونا چاہیے۔ مجرمانہ سرگرمیوں، ٹیکس نادہندگان اور نسلی، قومی و فرقہ پرست امیدواروں و جماعتوں کو ہر طرح کے انتخابی عمل سے باہر رکھا جائے۔ ان اصطلاحات کے ہونے سے ہمارے ہاں جمہوریت کو بھی فروغ ملے گا اور ملک و قوم کے لئے بھی بہتری ہو گی۔

اپوزیش اتحاد کو اعتراض ہے کہ حکومت نیب کے ذریعہ انتقامی کاروائیاں کرتی ہے تو پھر ایسی قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی جس کے تحت مالیاتی، تحقیقاتی ادارہ نیب کو حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے اختیار سے باہر نکالا جائے تاکہ نیب کے ذریعہ اپوزیشن پر چڑھائی کرنے کی بجائے مالیاتی معاملات پر غیر جانبدارانہ تحقیقات اور وائیٹ کالر کرائم کی روک تھام ہو سکے۔ حکومت کو بھی سوچنا چاہیے کہ اس وقت وہ طاقت کے استعمال کا اختیار رکھتے ہیں تو نیب کو استعمال کر سکتے ہیں لیکن جب وہ حکومت میں نہیں ہوں گے تب انہیں بھی ویسے ہی تنور کی آگ کو سینکنا پڑ سکتا ہے جس میں وہ اپوزیشن راہنماؤں کو پھینک رہے ہیں۔ پنجاب کے سینئر  وزیر عبدالعلیم خاں کی حکومت میں ہوتے ہوئے ایک پرانے کیس میں نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد موجودہ وفاقی وزیر سائینس چوہدری فواد نیب کے لامحدود اختیارات پر بیانات دے چکے ہیں جس کے خمیازہ میں انہیں وفاقی وزارت اطلاعات سے سبکدوش ہو کر سائینس و ٹیکنالوجی کی وزارت میں آنا پڑا تھا۔ نیب قوانین میں اصطلاحات کی صورت میں حکومت کے پاس اپوزیشن راہنماؤں کو ہراساں کروانے کی طاقت حاصل نہیں رہے گی اسی لئے عمران خاں ان اصطلاحات کے مخالف ہیں اور ان اصطلاحات کو “این آر او” قرار دینے کے بیانات دے رہے ہیں۔

ایک اور اہم ترین مسئلہ جو پاکستان کو درپیش ہے وہ ملک میں کئی طرح کے متوازی نصاب تعلیم ہونا ہیں۔ اس سے جو غیر مساوی نظام معاشرت ترتیب پا رہا ہے، وہ ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر یہ یقینی بنانا چاہیے کہ پورے ملک میں ایک جیسا تعلیمی نصاب رائج کیا جائے جس میں صرف وہی مضامین پڑھائے جائیں جو طلبہ و طالبات کے کیرئیر اور زندگی میں کام آنے ہوں ۔ تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم دینے کا سلسلہ موقوف کر کے یہ ذمہ داری والدین کے سپرد کی جائے کہ وہ بچوں کو کیا پڑھانا چاہتے ہیں؟۔ عام تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی تمام مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کو قومی تحویل میں لیا جائے اور وہاں صرف وہی خطبات اور تقاریر ہوں جنہیں حکومت نے پہلے سے منظور کیا ہوا ہو تاکہ ملک بھر میں فرقہ واریت کا خاتمہ کر کے مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ مدارس کے طلبہ کو بھی وہی تعلیمی نصاب دیا جائے جو دیگر تعلیمی اداروں میں پڑھایا جائے۔ تعلیمی اداروں میں داخلہ کی عمر 4 سال مقرر کی جائے جس میں نرسری کلاس میں بچوں کو داخل کیا جائے۔ اس کے بعد جونئیر کے جی، سینئر  کے جی، فرسٹ سٹینڈرڈ اور سیکنڈ سٹینڈرڈ تک بچوں کو 8 سال کی عمر تک تعلیم دی جائے۔ اس کے بعد اگلے 3 سالوں میں تھرڈ سٹینڈرڈ سے ففتھ سٹیندرڈ تک بچوں کو 11 سال کی عمر تک پرائمری لیول کی تعلیم دی جانی چاہیے۔ مڈل جماعتوں یعنی سکستھ 6th سٹینڈرڈ سے 8th سٹینڈڑڈ تک بچہ 14 سال کی عمر تک تعلیم حاصل کرے اور سیکنڈری تعلیم کو کلاس 9th، کلاس ٹینتھ یا SSC، کلاس الیون یا FYJC، کلاس ٹویلتھ یا SYJC تک بچہ 18 سال کی عمر میں مکمل کرے۔

اس نظام تعلیم میں اہم ترین بات یہ ہونی چاہے کہ بورڈ کے فائنل امتحانات صرف کلاس 12 یا SYJC میں ہی لئے جائیں اور اِس سے نچلے تمام درجوں میں بورڈ کے امتحانات ختم کیے جائیں۔ گریڈ 12 یا SYJC مکمل کرنے کے بعد گریجوایشن 4 سال کی ہونی چاہیے اور اس کے بعد ماسٹرز ڈگری ایک سے ڈیڑھ سال کی مدت کی ہونی چاہیے۔ ایم فل (MPhil) کو ختم کر دینا چاہیے اور ماسٹرز ڈگری مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات کو براہ راست ڈاکٹریٹ (PhD) کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ یاد رہے کہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں کم و بیش اسی مدت کی طریقہ ہائے تعلیم پر عمل کیا جاتا ہے اور اب تو تمام ترقی پزیر ممالک بھی اسی نظام کو اپنا رہے ہیں۔ کلاس 9 سے کلاس 12 میں تعلیمی اداروں کے اندر امتحانات سمسٹر سسٹم کی بنیاد پر لئے جانے چاہئیں جبکہ گریڈ 12 کا آخری امتحان تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے آخری سمسٹر کے کورس پر مشتمل ہونا چاہیے جس میں بنیادی طور پر بچوں کو کلاس 9 سے کلاس 12 تک پڑھائے جانے والے نصاب کا خاصہ ہونا چاہیے۔ کالج ڈگری یعنی گریجوایشن کو اس طرح تقسیم کیا جائے کہ اگر طالب علم پہلا سال مکمل کرے تو اُسے کالج سرٹیفکیٹ دیا جائے۔ دوسرا سال مکمل کرنے والے کو کالج ڈپلومہ سے نوازا جائے۔ تیسرے اور چوتھے سال مکمل کرنے والے کو ہی گریجوایشن یا مکمل کالج ڈگری دی جانی چاہیے۔

گریجوایشن کرنے کے دوران اگر طلبہ درمیان میں اپنا ڈگری پروگرام موقوف کر کے کوئی دوسرا قلیل المدتی کورس کرنا چاہیں تو انہیں اس کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایسے شارٹ کورسز کرنے کے بعد وہ طلبہ و طالبات دوبارہ سے اپنی کالج ڈگری مکمل کرنے کے لئے اگلے سیشن سے اپنا کورس شروع کر سکتے ہوں۔ کالج میں حاضری کی کم از کم سطح 80٪ مقرر کی جانی چاہیے اور امتحانات میں پاس ہونے کے لئے 33٪ کی بجائے کم از کم 50٪ پاسنگ مارکس مقرر کئے جانے چاہئیں۔ ملک بھر میں قائم 45 ہزار سے زائد سرکاری کالجوں میں عمارات کی حالت کو بہتر کیا جانا چاہیے اور اُن میں جدید لائبریریوں اور سائنسی لیبارٹریز قائم کی جانی چاہئیں۔ اساتذہ کی حالتِ زار پر اپوزیشن اور حکومت دونوں کو فی الفور رحم کھانا چاہیے اور استاد کی عزت و احترام کو معاشرہ میں اس طرح رائج کیا جائے کہ بڑے سے بڑا آدمی بھی استاد کی عزت اور احترام میں کھڑا ہو جائے۔ یہ واضح ہے کہ اگر اپوزیشن اور حکومت واقعی ہی عوام اور ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ایک دوسرے پر دشنام طرازی بند کرتے ہوئے ملک و قوم کے ان حقیقی مسائل کی طرف متوجہ ہوں اور اُنہیں فی الفور حل کرنے کے لئے ان تجاویز پر عمل کریں یا اگر ان سے بہتر کوئی اور تجاویز ہیں تو وہ سامنے لائیں اور اُنہیں یکساں طور پر ملک بھر میں نافذ کریں۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف حکومت کے اڑھائی سال گزر چکے ہیں اور باقی اڑھائی سال ہی باقی ہیں۔ اس تمام عرصہ میں حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے درمیان لفظی گولہ باری اخلاقیات کی حدود کراس کر چکی ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت میں ورکنگ کوآرڈنیشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر اپوزیشن اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر قومی اسمبلی، سینٹ اور پنجاب و سندھ اسمبلی کو معطل یا ختم کروانے کی دعوٰے دار ہے تو حکومت بھی انہیں غیر مناسب کلمات سے نوازتے ہوئے اُن کی مستعفی ہونے والے ممبران کی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروا کر اپنے امیدواروں کو منتخب کروانے کے دعوٰے کئے جا رہی ہے۔ اس طرح کا طرز عمل جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کی طرف متنج ہو سکتا ہے جو ملک و قوم کے لئے شدید خطرناک ہو گا، اپوزیشن اور حکومت دونوں کو چاہئے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود ایسے عناصر کی سختی سے حوصلہ شکنی کریں جو جمہوری نظام کو خطرہ میں ڈالنے کی بات کرتے ہیں۔ وگرنہ یہ عین ممکن ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک سال بعد پچھتا رہے ہوں کہ کاش ہم غیر مناسب طرز عمل کا مظاہرہ کرتے تو ملک و قوم کسی عظیم سانحہ سے بچ سکتی تھی۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں