ہاتھ والی لکھائی کا مستقبل: کیا قلم کِی-پیڈ سے زیادہ طاقتور ہے؟ قسط 2 – ہمایوں تارڑ

کورونا وَبا ایک شرارت تھی یا قدرتاً پیدا ہو کر چھا جانے والی ایک آفت۔ ایک بات طے ہے، حیاتِ انسانی کواس نے ایسا زوردار جھٹکا دیا ہے کہ زندگی اپنے مخصوص مدار سے نکل کر گویا ایک دوسرے مدار میں جا گری ہے۔ آپ اس سیریز میں اولین کالم کا اختتامی پیراگراف ایک نظر دوبارہ دیکھ لیں۔ ابوظہبی کے شہزادے کا یہ “قولِ زرّیں” کہ ‘ہم امارات کو پیپر فری بنانا چاہتے ہیں، اور کاغذ کو ہم میوزیم میں رکھ دیں گے’ ایک طبل ہےجو یکسر بدلی ہوئی دنیا کا نکتہِ آغاز ہے۔ صاف دِکھ رہا ہے، آئندہ مہ و سال یہی نوعِ انسان کی تقدیر ہے۔ یہ سیلابِ بلا اب رُکنے کا نہیں۔ اس موضوع پردس لاکھ لیکچرز، اس کالم جیسی دس لاکھ تحریریں، حتٰی کہ دس لاکھ کتابیں مل کر بھی اس عظیم لہر کے سامنے دیوار بننے، اِسے روکنے سے قاصر ہیں۔ جی ہاں، اس سلسلہ میں حرفِ آخر بات یہی ہے: ہم اِسے نہیں روک سکتے!

تو کیا سِپر ڈال دی جائے؟ یا کوئی متبادل راستہ، کوئی حل اب بھی موجود ہے؟ اس کالم کی تیسری قسط اسی نکتے کا احاطہ کرے گی۔ اس مقام تک پہنچنے کو تھوڑی مشقت درکار ہے، تھوڑی ذہن سازی تا کہ بات کوسمجھنے اور ہضم کرنے کی استعداد پیدا ہو۔

رواں ساعت ہم زمانہIT یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہد میں سے گذر کرایج آف آٹومیشن میں داخل ہو رہے ہیں ـــ تیز رفتار انٹرنیٹ، روبوٹکس، اور مصنوعی ذہانت کی کرشمہ سازیوں سے لدے ایک عہد میں۔ نوعِ انسان کی بصارت کاغذ کی اسیری سے “نجات”پا کر پہلے ٹیلی ویژن کی پردہِ سکرین پر یکسُو ہوئی تھی، بتدریج یہ کمپیوٹر ڈیسک ٹاپ سے لیپ ٹاپ پر مرتکز ہو ئی، اور اب یہ کامل ننّھی سکرین کے ہاں پابہ زنجیر ہو چکی ہے۔ بیشتر دنیا یہ سطور بھی اسی ننّھی ا سکرین پر پڑھے گی۔ نہیں؟! ـــ یہ ایک سیدھا و سادہ، سامنے کا سچ ہے جس سے مَفر ممکن نہیں کہ ا سکرین حیاتِ انسانی کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہی ہے۔

المختصر، لمس آشنا کاغذ جو کبھی شعور اور علم و آگہی کے باب میں آکسیجن کا درجہ رکھتا تھا آج خود آکسیجن کو ترس رہا ہے۔ آکسیجن ماسک پردھرا یہ سرچشمہِ علم و شعور ابوظہبی جیسے بعض مقامات پرگویا ایڑیاں رگڑرگڑ اپنی سانسیں پوری کر رہا ہے جہاں ‘پیپر فری’ دنیا میں قدم رکھنا ایک ہدف قرار پایا ہے۔ اسی طرح، سویڈن اور بعض امریکی ریاستیں بھی بچوں کو کی-پیڈ اور سکرین پر منتقل کر دینے کا چلن اپنا چکی ہیں۔ اور جیسا کہ بتایا گیا یہ لہر تھمنے کی نہیں، باقی ممالک بھی عنقریب اسی طرزِ تعلیم و تدریس پر منتقل ہوں گے چونکہ گھر گھر یہ “وَبا” اٹل انداز میں قدم جما چکی ہے جس سے انسان خود شعوری طور چھٹکارا پانے کو تیار نہیں۔ یہ ایک نیا دھرم ہے جسے پوری نسلِ انسان نے باجماعت اختیار کیا ہے۔ اس کے ثمرات کا حجم بظاہرزیادہ ہے، اور نقصانات نادیدہ و غیرمحسوس۔ تاہم، نقصانات سے کسی درجہ آگاہ ہونے کے باوجود ہم اس دھرم سے جڑے رہنےپر مُصر ہیں، اور مجبور بھی۔

محبت بری ہے، بری ہے محبت
کہے جا رہے ہیں، کیے جا رہے ہیں

سوال یہ ہے: کیا قلم کِی-پیڈ سے زیادہ طاقتور ہے؟ کیا ہاتھ سے لکھنے کا عمل اکتسابِ علم کے باب میں ڈیجیٹل لرننگ سے زیادہ معتبر ہے جس میں انسانی انگلیاں قلم تھامنے کی بجائے پیڈ پرجَڑے بٹن دبا رہی ہیں؟شرق و غرب میں پھیلی عملی صورت حال جو بھی ہو، علمی اور شعوری سطح پردرست بات کا واضح ہونا ضروری ہے تاکہ ایک فرد کو اپنی انفرادی سطح پر بہتر انتخاب کا فیصلہ واہتمام میسر آسکے۔ کیا کسی عالمی فورم پر ایسی کوئی بات چھڑی؟ اس کا حاصل کیا رہا؟نیز، علمِ نفسیات، طبّی تحقیق، دماغی کارکردگی پر تحقیق کرتی نیورولوجی اس باب میں کیا کہتی ہیں؟

جی ہاں، وہ قلم قرآنِ حکیم میں جس کی قسم کھائی گئی ہے، کی پیڈ سے زیادہ طاقتور اور معتبر ہے۔ اور اسے ہاتھ میں تھامنے والے کا علم، اس کا مزاج اور اس کی دماغی صحت بدرجہا بہتر۔ مشین سے قربت، اس کی مصنوعی روشنی، اور کی-پیڈ کے بٹن انسان کی بدنی، دماغی، اورنفسیاتی صحت کے لیے ضرر رساں ہیں۔ گاہے گاہے عالمی سطح کے فورمز پر، اور ویب گاہوں پر ابھرتی تحریر و تقریر میں اس بات کی بلند بانگ دُہائی دی گئی ہے کہ کی – پیڈ اور ڈیجیٹل لرننگ نہ صرف کم مؤثر ہے، بلکہ سکرین اور کی-پیڈ کا بہ کثرت استعمال فطرت کے ساتھ خطرناک چھیڑ چھاڑ کے مترادف۔ ابوظہبی میں مقیم جس بہن نے وہاں کی صورتِ حال کا عکس پیش کیا، خود ایک ‘اسپیشل ایجوکیشن’ والے ادارے سے وابستہ ہیں۔ اس ادارے میں ایسے بچے موجود ہیں جوٹیکنالوجی کے ڈسے ہوئے ہیں۔ حتٰی کہ اِس بہن نے خود ایک عرصہ قدرے ایبنارمل حالت میں گذارا ہے جس میں سے وہ چند ماہ پہلے ہی پلٹ کر رُوبہ صحت ہوئی ہیں۔

انٹرنیٹ پر موجود ویب گاہیں کچھ فورمز پر ہوئی گفتگو کی تفصیل پیش کر رہی ہیں جہاں یہ موضوع پوری قوت و شدت کے ساتھ زیرِ بحث آیا کہ ٹیکنالوجی کا بہ کثرت استعمال انسانی فطرت کو ادھیڑ رہا ہے۔ خیر، اس تحریر کا موضوع ٹیکنالوجی کا فی الجملہ استعمال نہیں بلکہ قلم اور کی-بورڈ کا آپسی تقابل ہے۔ چنانچہ ہم یہ بحث اسی ایک نکتے پر مرکوز رکھیں گے۔

سن 2016 میں، پرنسٹن یونیورسٹی کی ڈاکٹر پام میولر اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس کے پروفیسر ڈینیل اوپن ہیمر نے مشترکہ طور’سائیکولوجیکل سائنس ‘ میں ایک ریسرچ پیپر شائع کیا جس میں ایک اہم تجربہ کا احوال رقم ہے۔ تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ

(1) دورانِ سبق لیپ ٹاپ پرنوٹس لینے کا عمل طلبا کی لرننگ کو بگاڑتاہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ڈیجیٹل طور لیے نکات اکثر سطحی معیار کے ہوتے ہیں۔ جن طلبا کو کی-پیڈ والا آپشن دیا گیا، اُن میں سے بیشتر نے لفظ بہ لفظ چند الفاظ یا سطریں لکھ رکھی تھیں۔

(2) ثانیاً، اس گروہ سے وابستہ طلبا کانسپٹ سے متعلقہ سوالات کے تسلّی بخش جوابات نہ دے سکے۔

دوسری طرف، روایتی طرز کے پیپر نوٹس بنانے والے گروہ کی کارکردگی دونوں اعتبار سے بہتر رہی۔ اوّل، اُن کے ہاتھوں بنے نوٹس میں یہ بات صاف ظاہر تھی کہ وہ لیکچر میں سنی ہر بات کو ذہناً پراسس کرتے ہوئے اُسے ہضم کرتے رہے، اورمختصراً اپنے الفاظ میں ڈھالتے رہے تھے۔ دوم، کانسپٹ کو اپنے الفاظ میں درست صحت کے ساتھ بیان کرنے میں انہیں کسی دقت کا سامنا نہ تھا۔

اس سلسلہ میں ایک دوسرے تجربے کا پہلا مرحلہ کمپیوٹر اور کی-بورڈ کے حق میں تھا۔ یہ تجربہ بعض طلبا کی طرف سے دئیے اس پُرجوش بیان کے ردّ عمل میں کیا گیا کہ ٹائپ کرنے کا عمل زیادہ تر ثمر بار ہے چونکہ ایسا کرتے میں اُن کی پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے، نیز رفتار بھی۔ واشنگٹن یونیورسٹی میں نفسیات کے تین پروفیسرز، ڈَنگ بائی، جول میئرسن اور سینڈرا ہیل نے نوٹ کیا کہ کمپیوٹر نوٹس کی مدد سے سبق دوہراناہاتھ سے لیے نوٹس کی نسبت آسان تر ہے۔ چنانچہ اس تجربہ میں اوّل اوّل کمپیوٹر فتح مند رہا۔ تاہم، ان پروفیسرز کی تحقیق انجام کار جب ‘جرنل آف ایجوکیشنل سائیکالوجی ‘ میں شائع ہوئی تو اِن اساتذہ کا یہ بیان چونکا دینا والا تھا کہ

that advantage disappears in about 24 hours

بطور ثبوت یہ انکشاف کیا گیا کہ ٹائپ شدہ نوٹس کا استعمال کرنے والوں کی اکثریت نے امتحان میں بری کا رکردگی کا مظاہرہ کیا تھا بمقابلہ ہاتھ سے لیے نوٹس والوں کے۔ ریسرچرز اس بات پر متفق نظر آئے کہ نوٹس ٹائپ کرنے والوں کو یاد کیا بیشتر مواداَز سرِ نو اُگلنے اور اس کی بنیاد پراپنا تجزیہ پیش کرنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ جبکہ ہاتھ سے لکھنے والوں کے دماغوں پر وہ مواد مضبوطی سے جما تھا، اور اُسے تجزیہ کرنے، اس سے کلیہ اخذ کرنے یا synthesize کرنے میں بھی اُن کے ہاں کوئی دشواری نہ تھی۔

امریکہ کی اِنڈیانا یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات سے منسلک پروفیسر کیرن جیمز کی تحقیق بھی قابلِ صد توجہ ہے۔ یہ تحقیق ‘ٹرینڈز اِن نیورو سائنس اینڈ ایجوکیشن’ میں شائع کی گئی۔ اس تحقیق میں ایسے بچے شامل کیے گئے جنہوں نے پڑھنا لکھنا ابھی شروع ہی نہیں کیا تھا۔ ان بچوں کو ایک حرفِ تہجی لکھنے کا کہا گیا جو انہیں یا تو ٹائپ کرنا تھا، ہاتھ سے لکھنا تھا، یا اُسے ڈاٹس کی مدد سے پہلے سے لکھے حرف پر ٹریس کرنا تھا۔ تب ریسرچرز نے اِن بچوں کو ایم آر آئی برین سکینر MRI Brain Scanner میں ڈالا اور کہا کہ وہ اپنے لکھے ہوئے کو دوبارہ سٹڈی کریں۔ نتیجہ کیا رہا؟ سکینرز نے ظاہر کیا کہ جن بچوں نے وہ حرف ہاتھ سے لکھا تھا، اُس کا اِمیج دیکھتے ہی اُن کے دماغوں میں تین مقامات نمایاں طورپر متحرّک ہو گئے۔ جبکہ اُس حرف کو ٹریس یا ٹائپ کرنے والے بچوں کے دماغ اپنے لکھے کا اِمیج دیکھ کر ایسا اثر قبول کرنے سے قاصر رہے۔ یہ سٹڈی واشگاف طور ظاہر کرتی ہے کہ جسمانی اعتبار سے متحرّک ہو کر لکھنا کس قدر مفید ہے۔ یہ عمل دماغ کے حرکیاتی راستوں motor pathways کوجِلا بخشتا ہے۔ ساتھ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق محض بچوں کا حروف لکھنے سے نہیں ہے، بلکہ ہر عمر کے افراد کو ہاتھ سے لکھنے والی عادت اپنائے رہنی چاہیئے کہ دماغی صحت کا اس ایکٹوٹی کے ساتھ گہرا ناطہ ہے۔ اس میں الزائمر Alzheimerجیسے ناقابلِ علاج مرض سے محفوظ رہنے کی خوشخبری ہے۔ الزائمر یعنی بھولنے کی بیماری ایک لا علاج بیماری ہے۔ یہ ایک پروگریسو برین ڈِس آرڈر ہے جس میں یاد رکھنے اور سوچنے کی صلاحیت بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے، اور انجامِ کار تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ دیکھا گیا ہےکہ اس مرض کا شکار انسان معمولی کام انجام دینے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔

گویا یہ ایک عجیب ستم ظریفی irony ہے کہ کمپیوٹر کی-پیڈ والی برقی ٹائپنگ سے دماغ تک جاتے پیغامات دماغ کے حرکیاتی راستوں کو صحت مند الیکٹرک شاکس بہم نہیں پہنچاتے جوالیکٹرک شاکس اِن مقامات کو نان الیکٹرک یعنی ہاتھ والی حرکات سے ملا کرتے ہیں۔

سُوزی فرِش نام کی ایوارڈ یافتہ صحافی، شکاگو ٹریبیون کے لیے رپورٹنگ کیا کرتی ہیں، نے اپنے ایک آرٹیکل میں مزے دار بات لکھی ہے:

In other words, when you want to check out Facebook during a boring talk at a conference, go for it! That’s a great reason to have your computer open. But when you’re trying to capture and retain complex material — or simply stay extra-sharp — put the laptop away…and take out a pen.

ترجمہ: “کسی کانفرنس میں بوریت بھری گفتگو کے دوران آپ فیس بُک چیک کرنا چاہیں تو کر گذریں۔ یہی موقع ہے کمپیوٹر کھول کر بیٹھ رہنے کا۔ لیکن جب آپ پیچیدہ نوعیت کا مواد ازبر کرنے کی فکر میں ہوں، یا محض خوب ہوشیار بننا چاہیں تو لیپ ٹاپ کو دور پھینک دیں، اور قلم سنبھال لیں۔ ”

علمِ نفسیات اور علم الاعصاب یعنی نیورولوجی میں کی گئی دیگر متعدّد تحقیقات بھی خوب مضبوطی سے اس بات کی حمایت کرتی نظر آتی ہیں کہ ہینڈ رائٹنگ کا جاری رہنا بالخصوص بچوں کے حق میں آکسیجن کا درجہ رکھتا ہے۔ ماہرین مسلسل اس بات کی دُہائی دے رہے ہیں کہ بعض تعلیمی اداروں میں خوشخطی اور cursive writing کو ختم کیے جانا انتہائی افسوسناک امر ہے۔ اس کا شمار فائن موٹر سکِلز کی عمدہ ترین مشقوں میں ہوتا ہے، یعنی ایسی سکِلز جو باریک نوعیت کے کام سرانجام دینے میں ضروری ہیں۔ وہ کام جن کا تعلق اعصابی نظام اور دماغ کی باریک نسوں سے جڑا ہے۔ گھنٹوں بیٹھ کر پینٹنگ اور ڈرائنگ کرنا، کاپی میں ہاتھ سے کچھ لکھنا، بوتل کا ڈھکن کھولنا، کشیدہ کاری کرنا، سویٹر بُننا، سلائی کرنا، بلاکس کی مدد سے کچھ بنانا، مَٹر چھیلنا۔۔۔ فائن موٹر سکِلز ہیں۔

ہینڈ رائٹنگ یعنی خوشخطی انسانی دماغ اندر کچھ ایسے نیورَل سٹرکچرز اور پیٹرنز پیدا کرتی ہے جو سیکھنے کے عمل میں معاونت کرتے، اور اسے آسان بنا دیتے ہیں۔ ایسی ہر تحقیق میں اچھی یادداشت کو رائٹنگ بائی ہینڈ کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔

کالم کا دامن تنگ ہے، ورنہ اس موضوع پر دلچسپ تفصیلات خاصی زیادہ ہیں۔ آخر میں چند سطروں پر مشتمل ایک مختصر روداد تو ضرور ہی سنانی ہے۔

ناروے کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کی گئی ایک سٹڈی جو ‘فرنٹیئرز اِن سائیکالوجی’ میں شائع ہوئی، نے بھی بھاری بھرکم طور اس حقیقت پر مہرتصدیق ثبت کی ہے کہ لکھنے کے جدید انداز اور ذرائع ضرر رساں ہیں، یا کم از کم بھی وہ کم نفع بخش ہیں۔ یہ تجربہ خاص طور پر cursiveرائٹنگ کا اثر دیکھنے سے متعلق تھا۔ اِس میں 12 اور اس سے اُوپری عمر کے بچوں کا ایک گروپ لیا گیا، اور اسےHD EEG میں رکھا گیا۔ یہ ایک سسٹم ہے جس کی مدد سے دماغ اندر پیدا ہونے والی برقی سرگرمی کی مقدار کو ماپا جاتا ہے۔ پہلے اِن بچوں سےcursive سٹائل میں لکھنے کو کہا گیا، تب ٹائپ کرنے کو، اور پھر کچھ الفاظ دکھا کر ان کی ڈرائنگ کرنے کو۔ اس میں ڈیجیٹل پین کی مدد سے cursive لکھنا بھی شامل تھا۔ سٹڈی کا حاصل یہ رہا کہ cursive سٹائل والی رائٹنگ کے دوران دماغ اندر پیدا ہونے والی برقی لہریں اور patterns بہترین رہے۔ چونکہ اس دوران دماغ کے جن حصوں میں قمقمے سے جل اُٹھے اور ایکٹوٹی نظر آئی، وہ ٹائپنگ کے عمل میں ناپید رہی۔ حتٰی کہ ڈیجیٹل پین کی مدد سے کی گئیcursive رائٹنگ کا نتیجہ بھی عمدہ تھا۔

(جاری ہے)

تیسرا اور آخری حصہ اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں