کیا اسرائیل ایک ریاست ہے؟۔۔آصف محمود


اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ تو ہر ریاست اپنے آدرشوں اور مفادات کی بنیاد پر ہی کرے گی لیکن اس سے پہلے یہ تو دیکھ لیجیے کہ کیا انٹر نیشنل لاء کے تحت اسرائیل ایک ریاست قرار دی جا سکتی ہے؟
انٹر نیشنل لاء کے تحت ایک ریاست تین چیزوں سے بنتی ہے۔ علاقہ، سرحد اور شہری۔ علاقوں کا معاملہ یہ ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے ضابطے پامال کر رہا ہے اور مقبوضہ جات خالی کرنے کو تیار نہیں۔سرحد کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی واحد ریاست ہے جس نے آج تک اپنی سرحد کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔شہریت کا معاملہ یہ ہے کہ ملک میں موجود لوگوں کو شہری قرار دینے کی بجائے قرار دیا گیا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی یہودی ہے وہ اسرائیل کا شہری ہے۔ یعنی اسرائیل Statehood کی تینوں شرائط پوری نہیں کرتا۔
اسرائیل کو جب اقوام متحدہ کا رکن بنایا گیا تو تین شرائط اس پر عائد کی گئیں۔ اول: وہ یروشلم کی حیثیت کو تبدیل نہیں کرے گا۔ دوم: نکالے گئے عربوں کو واپس آنے دے گا۔ سوم: اپنی مقرر کردہ سرحدوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔لیکن بن گوریان نے وہیں نیو یارک میں کھڑے ہو کر کہہ دیا کہ ریاست اسرائیل اقوام متحدہ کی 29 نومبر 1947 کی قرارداد کو ساقط اور کامعدم تصور کرتی ہے۔چنانچچہ اب یروشلم کی حیثیت بھی غیر قانونی طور پر بدل دی گئی ہے۔موشے دایان نے یروشلم پوسٹ میں دس اگست 1967کو شائع ہونے والے کالم میں لکھا کہ ”ہم اپنی ریاست کی سرحدوں کا تعین کرنے کے پابند نہیں ہیں“۔گویاوہ ان تینوں شرائط کو بھی پامال کر چکا ہے جن کی بنیاد پر اسے اقوام متحدہ کا رکن بنایا گیا تھا۔
فرانس کے سابق ڈپٹی سپیکر راجر گراڈی کی کتاب ”دای فاؤنڈنگ متھز آف اسرائیلی پالیسی“ معاملے کی تفہیم میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔یہ وہ کتاب تھی جس پر انہیں فرانس میں ڈھائی لاکھ فرانک جرمانہ اور قید کی سزا سنا ئی گئی تھی اور ان کی مزید اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔چنانچہ ایک وقت آیا کہ 70 سے زیادہ کتابوں کے مصنف فرانس کی پارلیمان کے سابق رکن، فرانس کی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی مجلس عاملہ کے رکن، تھیوری آف نالج پر پی ایچ ڈی کرنے والے اس نو مسلم دانشور کا کوئی اخبارمضمون تک شائع کرنے کا روادار نہیں تھا۔
گراڈی کا دعوی ہے کہ اسرائیل وہ ریاست ہے جو کسی سرحد کی قائل نہیں اور جارحیت اس کی حکمت عملی کا بنیادی اصول ہے۔اسرائیل کے ہاں یہ بات ایک مذہبی عقیدے کا درجہ رکھتی ہے کہ نیل سے فرات تک کا علاقہ خدائے تعالی نے بنی اسرائیل کے لیے خاص کر رکھا ہے اور اب بنی اسرائیل کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ اس علاقے پر قبضہ کرلیں۔یہ بات یہود نے، حضرت موسی علیہ السلام سے غلط طور پر منسوب صحائف میں لکھ رکھی ہے۔ جدید تحقیق اگر چہ اب یہ ثابت کر چکی ہے کہ ان صحائف کا سیدنا موسی علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں۔ گراڈی کہتے ہیں کہ تمام صیہونی حتی کہ لا ادری اور ملحدین بھی، یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلسطین انہیں اللہ کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے۔
نیتھن ونسٹاک نے اپنی کتاب Zionism against Israel میں لکھا ہے کہ یہ ملک چونکہ اللہ کا انعام ہے اس لیے اس کے وجود کے بارے میں ہم کسی جواز کے محتاج نہیں۔ بس یہ ہمارا ہے۔دس اگست 1967 کے یروشلم پوسٹ میں موشے دایان کا یہ موقف بھی اہم ہے کہ اگر کوئی اپنے پاس تورات رکھتا ہے تو اس کے لیے ان تمام زمینوں پر قابض ہونا لازم ہے جن کا ذکر تورات میں ہے۔ یاد رہے کہ اسی کو Biblical Land کا تصور کہتے ہیں اور اس کے ہوتے ہوئے صرف فلسطین نہیں سارے عرب غیر محفوظ ہیں۔
اسرائیل کسی بقائے باہمی کا قائل بھی نہیں۔ یہ بات بھی اس کے ہاں ایک اصول کے طور پر رائج ہے۔گولڈا مائر کا سنڈے ٹائمز میں پندرہ جون 1969کو برا واضح موقف شائع ہوا کہ یہاں فلسطینی عوام نام کی کسی شے کا کوئی وجود نہیں ایسا نہیں کہ ہم آئیا ور ہم نے انہیں نکال دیا۔ وہ یہاں کبھی تھے ہی نہیں۔نیشنل جیوش فنڈکے ڈائرکٹر یوسف ویز نے اس بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ”یہ بات عیاں ہو جانی چاہیے یہاں عربوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔اس کے علاوہ کرنے کا کوئی کام نہیں کہ عربوں کا صفایا کر دیا جائے“۔
پروفیسر اسرائیل اسحاق اپنی کتاب The Racism and the State of Israel میں لکھتے ہیں:”ہمیں اس بات پر قائل کرنے کے لیے کہ اسرائیل سے قبل فلسطین ایک بے آباد صحرا تھا، سینکڑوں گاؤں بلڈوزروں سے مسمار کر دیے گئے۔ ان کے مکان، کنویں اور قبرستان تک تباہ کر دیے گئے“۔راجر گراڈی لکھتے ہیں:”1967 سے 1969 تک غزہ اور مغربی کنارے کے علاقے میں عربوں کے بیس ہزار گھروں کو ڈائنا مائٹ سے اڑا دیا گیا۔فلسطینیوں کی دیہی آبادی کی یادداشت مٹانے کے لیے اور متروک شدہ ملک کے افسانے کو سچ بنانے کے لیے عربوں کے سینکڑوں گاؤں مسمار کر دیے گئے“۔
اسرائیل کے ہاں Biblical Lands کا تصور اس قدر اہم ہے کہ باقاعدہ قانون سازی کی جا چکی ہے۔چنانچہ عربوں کی جس زمین پر قبضہ کر لیا جائے وہ زمین عربوں کو محض کاشت کاری کے لیے دینا بھی منع ہے۔ یہ ممانعت نیشنل جیوش فنٖڈ لاء آف ری کنسٹرکشن فنڈ لاء کے تحت 1953 اور 1956میں عائد کی گئی۔
اس کا آغاز LAW.24 سے ہوا۔ یہ برطانیہ نے نافذ کیا۔ اس کے تحت حکومت کو یہ حق ہے کہ وہ کسی بھی علاقے کو سیکیورٹی زون قرار دے ڈالے۔ایسا کرتے ہی وہاں کے عرب باشندے زمینوں سے بے دخل ہو جاتے ہیں اور حکومت ان کی زمینیں ضبط کر سکتی ہے۔ LAW 24 کے ذریعے سینکڑوں گاؤں ضبط کیے گئے اور جھوٹ یہ پھیلایا گیا کہ عربوں نے تو زمینیں خود فروخت کی تھیں۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ جب برطانیہ نے یہ قانون نافذ کیا تو برنارڈ جوزف نے اسے سرکاری دہشت گردی قرار دیا لیکن جب یہ صاحب اسرائیل کے وزیر انصاف بنے تو اسی قانون کا جائز قرار دے دیا۔
تو جناب آپ کیا تسلیم کرنے جا رہے ہیں؟ کچھ خبر ہے؟




بشکریہ

جواب چھوڑیں