زندگی زندہ باد – عظمٰٰی خاطف

بیشک ہم زندہ ہیں۔ ارد گرد کا شور، فیکٹریوں اور گاڑیوں کا اٹھتا ہوا دھواں، معاشی بھاگا دوڑی اور گردونواح کی ہلچل سب بتاتے ہیں کہ ہم زندہ ہیں مگر کیا صرف زندہ ہونے کا نام ہی زندگی ہے۔۔۔

نہیں قطعاً نہیں۔۔۔ غور کر یں زندگی وہ نہیں جو باہر کی دنیا میں دوڑ رہی ہے بلکہ زندگی وہ ہے ہمارے اندر برپا ہے۔۔۔ حیرت ہے ہمارے قریب سے مچھر گزر جائے تو ہم فورًا اس کی آواز سن لیتے ہیں مگر اپنے ہی دل کی دھڑکن نہیں سن پاتے اسی طرح ہاتھ پر سے چیونٹی رینگ جائے تو فورًا پتہ چلتا ہے مگر پل پل آتی جاتی سانس کو اور رگوں میں دوڑتے خون کو نوٹس ہی نہیں کرتے۔ بات اگر دوڑتے خون سے بے خبری اور دھڑکن سے بے نیازی تک ہوتی تو خیر تھی مگر مسئلہ تو زندہ ہوتے ہوئے زندگی سے بے خبری کا ہے۔ زندگی جو قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جس کے اندر ہونے سے ہی اس کی باہر کی زندگی ممکن ہے۔ اگر اندر کی زندگی چپ ہو جائے تو باہر کی زندگی بھی فورًا کومہ میں چلی جاتی ہے یقین نہ آئے تو اپنے اندر جاتی سانس کا راستہ روک کر دیکھیں۔۔۔ اس حقیقت کو سمجھیں کہ ہماری باہری دنیا کا وجود اندر کی وسعت، لا محدودیت اور گہرائیوں سے کٹ کر باہر کی محدود اور سطحی سی دنیا میں اٹک کر رہ گیا ہے۔ مانا کہ باہر کی دنیا میں متحرک رہے بغیر زندگی کے بنیادی تقاضے پورے کرنا قطعاً ممکن نہیں مگر کیا لازم ہے کہ بس اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اور دوڑتے بھاگتے جسم کو زندگی کا نام دیا جائے۔ وہ جسم جو ہر پل روبہء زوال ہے۔ وہ جسم جو مسائل کی جنگ لڑتے لڑتے اپنے ہی بلڈ کے پریشر کے اتار چڑھاؤ سے نڈھال ہو رہا ہے، وہ جسم جو کبھی ماضی کے پچھتاووں میں غرق ہو رہا ہے اور کبھی مستقبل کی فکر اور خوف سے نڈھال ہو رہا ہے تو کبھی امیدوں کے دامن تھام کر خوش فہمیوں میں ڈبکیاں لگا رہا ہے اور وہ جسم جو زبان کی چند لمحاتی لذّت سے بے بس ہو کر اپنے معدے کے ہاتھوں اتھل پتھل ہو رہا ہے۔

ہم کب تک اپنی عینکیں بدل بدل کر جسم سے باہر جھانکتے رہیں گے جہاں کبھی ہمارے اپنے غلط تو کبھی پاس سے گزرتے راہ گیر بھی غلط۔۔۔ کبھی ٹریفک سے گلہ تو کبھی موسم پر جھنجھلاہٹ۔۔۔ کبھی کھانے میں نمک زیادہ پر تبصرہ تو کبھی کم ہونے پر اعتراض۔۔۔ کوئی بولے تو “بولتا بہت ہے سنتا نہیں“ کوئی چپ رہے تو “بھئی ہم بات کر کر کے تھک جاتے ہیں تم ہو کہ بولتے ہی نہیں“۔

اُف! کس قدر تھکا رہے ہیں ہم اپنے چار دن کے مہمان جسم کو اور کتنے بوجھ لاد کر دوڑ رہے ہیں اپنے ہی جیسے دوسرے جسموں کو ہرانے اور ان سے آگے نکلنے کیلئے، بناء سستائے دوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ جی ہاں آپ روز سوتے بھی ہیں مگر۔۔۔ کیا وہ جو رات گئے تک دماغ میں سوچوں کی بمباری سے نڈھال ہو کر سوتے ہیں، کیا اس کو آرام کہتے ہیں۔ جی ہاں ! اس طرح یقیناً جسم کو تو آرام مل جاتا ہے مگر کیا سکون بھی ملتا ہے۔۔۔ جی نہیں۔۔۔ نہیں ملتا کیونکہ آنکھ کھلتے ہی جسم جاگنے کے بعد جو ابھی اپنے پاؤں زمیں پر نہیں لگاتا کہ دماغ اپنی بے سروپا سوچوں کیساتھ آگے آگے دوڑ پڑتا ہے اور ہم ان سوچوں کے اتنے پیروکار ہوتے ہیں کہ وہ جدھر جدھر بھگاتی ہیں ہم بھی ادھر ادھر دوڑ لگا دیتے ہیں۔

مانا کہ ہم بندر نہیں ہیں مگر معذرت کیساتھ ہم بندر جیسے ہی ہیں کیونکہ ہمارا دماغ میں ایک دن میں تقریباً ساٹھ ہزار سوچیں بندر کی طرح اچھل کود مچاتی ہیں اور چین سے سونے بھی نہیں دیتیں اور ہم خود کار صلاحیت کے ہوتے ہوئے بھی اپنے دماغ کو خاموش نہیں کروا سکتے۔۔۔ چلو! اب بس کرتے ہیں۔۔۔ اپنے اپنے جسم سے باہر کی دنیا سے کچھ دیر کیلئے پیچھا چھڑا کر اپنے جسم کے اندر اترتے ہیں جہاں کوئی ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب رہتا ہے اور منتظر بیٹھا ہے کہ کب ہم اس کی طرف متوجہ ہوں اور دیکھیں کہ وہ جو چپ چاپ، بناء جتلائے اس وقت بھی ہمارا نظامِ ہستی چلاتا ہے جب ہم اپنے آپ سے بے خبر سو رہے ہوتے ہیں۔۔۔

سنو! اندر نہیں جھانکتے نہ سہی باہر ہی جھانکو۔۔۔ دیکھو ذرا ہم نے کس طرح ایک کے بعد ایک چھت بنانے میں دن رات ایک کر رکھا ہے۔ کیوں ہمیں اپنے اُوپر نیلی چھت دکھائی نہیں دیتی، ہر وقت کسی نہ کسی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں کیوں آسمان پر تاروں کی، زمین پر مٹی کی، درختوں پر پتوں کی اور سمندروں میں پانی کی بہتات نظر نہیں آتی۔ وہ جس کے ہونے سے ہی ہم ہیں جب اس کے پاس کوئی کمی نہیں تو ہمارے پاس کسی کمی کا جواز ہے؟ ہم جو باہر کی دنیا میں خوشی اور سکون کی تلاش میں ہانپ رہے ہیں دیکھو اس کی قدرت میں ہر طرف کسقدر سکون اور اطمینان ہے۔ یقین نہیں آ رہا تو ایک نظر سر پہ تنے آسمان کو دیکھیں جس کے سامنے کتنے ہی گہرے سیاہ بادل چھا جائیں وہ ڈٹ کر بڑے سکون کیساتھ اپنی جگہ پر موجود رہتا ہے۔ سورج کی شعاعیں جو شور شرابا کئے بناء بلا تفریق روزانہ نیچے اترتی ہیں اور اپنے حصے کا کام بخوبی نپٹا تی ہیں۔۔۔ ارے اور کچھ نہیں تو اپنے ارد گرد اڑتے پرندوں کو ہی دیکھو جن میں نہ کوئی بغض ہے نہ کوئی حسد، نہ بغاوت ہے نہ کوئی نفرت، نہ پیچھے رہ جانے کا خوف ہے نہ آگے بڑھنے کی بے چینی ہے بس ہر ہر لمحے کا مزہ اٹھاتے ہیں اور بس موجودہ لمحے میں ہی جیتے ہیں۔ قدرت کے ذرے ذرے میں طمانیت ہے، سکون ہے۔

درحقیقت دکھوں، فکروں اور ہر خوف سے ماورا ہو کر یقین کی طاقت کے بل بوتے پر اسی طمانیت اور اسی سکون کا حصول ہی تو زندگی جینے کا اصل مقصد ہے بلکہ سچ مانیں تو جینے کا یہی مقصد ہی اصل زندگی ہے۔

زندگی زندہ باد۔

یہ بھی پڑھیں: بدلتی زندگی اور سماج سے بدلہ ------- سحرش عثمان

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں