ستم گر تجھ سے ہم کب شکوۂ بیداد کرتے ہیں ہمیں فریا…

ستم گر تجھ سے ہم کب شکوۂ بیداد کرتے ہیں
ہمیں فریاد کی عادت ہے، ہم فریاد کرتے ہیں

متاعِ زندگانی اور بھی برباد کرتے ہیں
ہم اس صورت سے تسکینِ دلِ ناشاد کرتے ہیں

ہواؤ!! ایک پَل کے واسطے ِللہ رُک جاؤ
وہ میری عرض پر دھیمے سے کچھ ارشاد کرتے ہیں

نہ جانے کیوں یہ دنیا چین سے جینے نہیں دیتی…

More

May be an image of 1 person

جواب چھوڑیں