کفار- زمین سے خدا کا فاصلہ معلوم کرنے والے۔۔اسد مفتی


مادہ کی آخری اکائی ایٹم ہے۔جس طرح سماج یامعاشرے کی آخری اکائی خردہوتا ہے۔اگر ہم ایٹم بم کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں تو ہم اس کو فنا نہیں کرتے،بلہ اس کو ایک نئی اور زیادہ بڑی قوت میں تبدیل کردیتے ہیں (اس کی مثال میں اس کالم میں آگے چل کر پیش کروں گا)جس کا نام جوہری توانائی ہے۔مادہ منجمند توانائی ہے،اور توانائی منتشر مادہ۔۔یہ اپنی ابتدائی شکل میں جتنی قوت رکھتا ہے،اس کے مقابلے میں اس وقت اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے،جب کہ اس کے ایٹموں کو توڑ کر جوہری توانائی میں تبدیل کردیا گیا ہو۔
معمولی مادی قوت اور جوہری توانائی میں کیا فرق ہے؟۔۔اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ دو ٹن کوئلہ ایک ریل گاڑی کو ستر میل دوڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے اس کے مقابلے میں بارہ پونڈ یورینیم جب جوہری توانائی میں تبدیل کردیاجائے تو وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ایک تیز رفتار راکٹ کو دولاکھ چالیس ہزار میل کا سفر طے کرواسکے،
ایسا ہی معاملہ اس سماجی اکائی کا ہے،جس کو انسان کہتے ہیں۔۔انسان جب ٹوٹتا ہے تو وہ بے پناہ حد تک وسیع ہوجاتاہے،جس طرح مادہ ٹوٹنے سے فنا نہیں ہوتا،بلکہ اپنی قوت بڑھا لیتا ہے۔اسی طرح انسان کی ہستی ہے،جب شکست سے دوچار ہوتی ہے تو وہ ختم نہیں ہوتی بلکہ نئی شدید طاقت او ر قوت حاصل کرلیتی ہے۔انسان پر شکست یا ناموافق حالات کا گزرنا اس کے تمام اندرونی تاروں کو چھیڑنے کے ہم معنی ہے۔اس کے بعد اس کے تمام احساسات جاگ اُٹھتے ہیں،اس کی چھپی ہوئی طاقتیں اپنی ناکامی کی تلافی کے لیے حرکت میں آجاتی ہیں،اس کے عزم کو ارادے کو مہمیز لگتی ہے۔اس کے اندر ہاری ہوئی بازی جیتنے کا وہ بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے جو سیلِ رواں کی طرح آگے بڑھتا ہے۔اسکو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا،حتیٰ کہ پتھریلی چٹانوں کے بس میں نہیں ہوتا۔مادہ کے اندر ایٹمی توڑ پھوڑ اسکو بہت زیادہ طاقتور بنا دیتا ہے،اسی طرح انسانی شخصیت ے اندر بھی بے پناہ امکانات چھپے ہوئے ہیں،یہ امکانات اُس وقت بروئے کار آتے ہیں،جبکہ انسانی شخصیت کسی حادثہ،شکست،ناموافق حالات،یا توڑ پھوڑ سے دوچار ہوتی ہے۔اس پر کوئی ایسا حادثہ گزرے جو اس کی شخصیت کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے،جو اس کے تاروں کو چھیڑ کر اسکے سازِ حیات بجادے۔۔
اس سلسلے میں نامور ادیب کی مثال دی جاسکتی ہے۔
سرڈاکٹر اسکاٹ کا شمار انگریزی ادب کے نامور افراد میں ہوتا ہے۔اس کی پیدائش 1771میں اور وفات1832میں ہوئی تھی۔اس نامور شاعر و ادیب کو اس کا یہ عظیم مقام ایک معمولی حیثیت کی قیمت پر ملا،اس کی معمولی حیثیت اس کے لیے وہ زینہ بن گئی جس پر چڑھ کر وہ اعلیٰ درجے کو پہنچ گیا۔
والٹر اسکاٹ اپنی ادھیڑ عمر تک ایک معمولی صلاحیت کا انسان سمجھا جاتا تھااس کی حیثیت بس ایک تیسرے درجے کے شاعر کی تھی،اس کے بعد ایسا ہوا کہ اسکے اوپر قرضوں کا بوجھ آگیا۔اس کا بال بال قرضوں میں جکڑا گیا،اس کی شاعری اس کو اتنی آمدنی نہ دے سکی کہ جس وہ اپنے قرضوں کی ادائیگی کرسکے،اس نے رقم حاصل کرنے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے،مگر ہر آن اسے ناکامی ہوئی۔۔
بلآخر اس کے حالات شدید خراب ہوگئے،جنہوں نے اس کی شخصیت کو جھنجھوڑ دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ والٹر اسکاٹ کے اندر سے ایک نیا انسان اُبھر آیا۔اس کی ذہنی پرواز نے کام کا نیا میدان تلاش کرلیا۔اب اس نے نئی نئی کتابیں پڑحیں،یہاں تک کہ اس پر کُھلا کہ وہ محبت کی تاریخی داستانیں لکھے۔۔۔
چنانچہ اس نے محبت کی داستانوں کو ناول کے انداز میں قلم بند کرنا شروع کردیا،اپنے مقروض ہونے کے خیال اور قرض کی ادائیگی کے جذبہ نے اس کے خیالات کو ابھارا کہ وہ اس میدان میں زبردست محنت کرے۔۔اس نے کئی سال تک اس راہ میں اپنی تمام توانائیاں اور اپنی سوئی ہوئی طاقت صَرف کردی۔۔کہ اس کو اپنی کہانی بازار میں اچھی قیمت پر فروخت کرنی تھی،اور یہ اس وقت ممکن ہوتا جب کہ اس کی کہانیاں اتنی جاندار ہوں کہ قارئین کی توجہ اپنی جانب کھینچ سکیں۔۔اور اس سے بھی پہلے اُس کا پبلشر اسے چھاپنے پر آمادہ ہو،
چنانچہ ایسا ہی ہوا،والٹر اسکاٹ کی غیر معمولی محنت اس کی کہانیوں کی مقبولیت کی ضامن بن گئی۔۔۔
اس کی لکھی ہوئی کہانیاں اتنی زیادہ تعداد میں فروخت ہوئیں کہ اس کا سارا قرض ادا ہوگیا۔۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر والٹر پریہ آفت نہ آتی اور اس کی شخصیت توٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوتی تو اس کے اندر وہ زبردست مھرک پیدا نہیں ہوسکتا تھا،جس نے اس سے وہ کہانیاں لکھوائیں۔جس نے اس کو انگریزی ادب میں غیر معمولی مقام دیا،اس کے بعد عزت،دولت،شہرت او ر مقبولیت کے تمام دروازے اس پر کھلتے چلے گئے،والٹر سکاٹ نہ صرف متمول ہوگیا،بلکہ اسے سر کے خطاب سے بھی نوازا گیا،والٹر کے لیے قرض کا مسئلہ نہایت جاں گداز مسئلہ تھا،لیکن اگر یہ جاں گداز مسئلہ نہ ہوتا تو شاید والٹر سکاٹ،سر والٹر بھی نہ بنتا۔۔
یہاں میں والٹر سکاٹ ہی کا جملہ دہراتا ہوں
پُر امن سماج بنانے کا ذریعہ پُرامن انسان بنانا ہے،جب تک پُرامن سوچ رکھنے والے انسان وجود میں نہ آئیں،پُرامن سماج کا وجود بھی ممکن نہیں۔۔
انسان کے اندر بے پناہ صلاحیتیں ہیں،یہ صلاحیتیں عام حالات میں سوئی رہتی ہیں،وہ بیدار اس وقت ہوتی ہیں،جب ان کو جھٹکا لگے۔جب وہ عمل میں آئیں۔۔۔تاریخ یہ بات بڑی واضح طریقے سے بتاتی ہے کہ انہیں لوگوں نے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جو حالات کے دباؤ میں مبتلا تھے۔۔قدرت کا یہی قانون افراد کے لیے ہے،معاشرے اور سماج کے لیے ہے اور یہی قوموں کے لیے۔۔
اب آئیے ایک واردات سنیے
ملک کا صدر ایک پاگل خانے کا معائنہ کرنے گیا تو پاگلوں کو اچھی طرح سمجھا دیا گیا کہ سب زندہ باد کے نعرے لگائیں۔۔
چنانچہ جیسے ہی پاگل خانے میں داخل ہوا،پاگلوں نے ہمارا محبوب صدر زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگانے شروع کردیے۔
صدر صاحب پاگلوں کی محبت اور عقیدت سے بہت متاثر ہوئے اور دل ہی دل میں اپنی ہر دلعزی پر خوش ہوتے رہے۔
کہ اچانک ان کی نگاہ ایک کونے میں کھڑے ہوئے ایک شخص پر پڑی۔۔جو بالکل خاموش کھڑا تھا۔۔
انہوں نے پوچھا
تم کیوں خاموش ہو؟
جناب۔۔اس نے سر جھکا کر جواب دیا،میں یہاں کے وارڈ کامحافظ ہوں،پاگل نہیں ہوں!




بشکریہ

جواب چھوڑیں