غالب کی پسندیدہ غزل نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُ…

غالب کی پسندیدہ غزل
نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے
کیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے
میں بُلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبۂ دل
اُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے
کھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جائے
کاش! یُوں بھی ہو کہ بِن میرے ستائے نہ بنے
غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو…

More

May be art of one or more people

جواب چھوڑیں