الفاظ کے ذریعے تسخیرِ عالمنزار قبانیجس وقت میں نے …

الفاظ کے ذریعے تسخیرِ عالم

نزار قبانی

جس وقت میں نے شعر لکھنے شروع کیے اسی وقت سے آگ کی چوری میرا مشغلہ رہی ہے۔ میں نے پرومیتھیوس کی طرح آسمانی آگ نہیں چُرائی۔ اس لیے کہ آسمان میرے لیے کبھی اہم نہیں رہا۔ مجھےMore تو ارضی آگ سے دلچسپی ہے۔ انسانوں کے وجدان اور ان کے لباس میں آگ روشن کرنا میرا جنون ہے۔ میرا ایمان ہے کہ شاعری سوکھے جنگل میں ماجس کی تیلی جلانے کا عمل ہے۔ جنگل جب کہ وہ شعلہ بار ہو تو زیادہ خوبصورت ہوجاتا ہے۔ جب اس کی تمام شاخین شمعدان کا روپ دھار لیتی ہیں۔ اسی وجہ سے دور نمات * کا قول کہ "شاعری الفاظ کے ذریعے دنیا کی تسخیر ہے۔”، خاص اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔
تسخیر کے بغیر شعر کا کوئی وجود نہیں۔ یہاں پر تسخیر سے مراد اُس پردے کو چاک کرنا ہے جس کے گرد الفاظ، گزرتے زمانے کے ساتھ،… More

May be an image of 1 person
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2547139268849924

جواب چھوڑیں