جاتے ٹرمپ کا مواخذہ اور امریکی نظام۔۔ڈاکٹر ندیم عباس


ممکن ہے چند سال قبل آپ آسانی سے شرط لگا لیتے کہ ٹویٹر، فیس بک اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ حاضر سروس امریکی صدر کو وارننگ دیں، ان کی پوسٹ ڈیلیٹ کریں یا ان کو کچھ گھنٹوں کے لیے پوسٹ کرنے یا کسی خاص موضوع پر بات کرنے سے ہی روک دیں۔ یہ شرط لگاتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی آپ نہیں سوچتے کہ میں ہار جاوں گا مگر یہ ہوا اور کئی بار ہوا۔ ایسا ہونا جہاں ٹرمپ کی مختلف موضوعات پر مسلسل حماقتوں کا غماز ہے، وہیں یہ سنجیدہ سوال بھی پیدا کر رہا ہے کہ امریکی نظام کس قدر کھوکھلا ہوچکا ہے کہ ایک ایسا نفسیاتی شخص امریکہ کا صدر بن سکتا ہے؟ دنیا کے آزادی پسند لوگ کافی عرصے سے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ یہ نارمل انسان نہیں ہے، یہ دنیا کو نقصان پہنچائے گا۔ ان لوگوں کی آوازوں کو نظر انداز کیا گیا۔ دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو شدید نقصان پہنچانے کے بعد اب ٹرمپ صاحب امریکی نظام پر بھی کافی ڈنٹ ڈال چکا ہے۔ یہ تصور بعض لوگوں کے لیے محال تھا کہ کیپٹیل ہلز میں سینیٹ اور دیگر اہم عمارات میں یوں بلوہ ہوگا اور ایک امریکی صدر ان بلوائیوں کے ساتھ کھڑا ہوگا؟ ناقابل یقین ہے۔

ٹرمپ میں کئی باتیں بڑی منفرد ہیں، یہ عین ممکن ہے کہ آئندہ کبھی ان خصوصیات کا حامل صدر وائٹ ہاوس کو نصیب نہ ہو۔ ہم ان کی چند خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہیں، جنہوں نے براہ راست امریکہ اور دنیا کو متاثر کیا۔ جب سے ٹرمپ آیا ہے، میڈیا میں اس کی شخصیت پر بحثیں ہو رہی ہیں، لوگ اسے ایک ایسے حکمران کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ہمیشہ پیشگوئی کرنے والے کو پچھتانا پڑتا ہے اور وہ ہمیشہ سو فیصد مقابل کھڑا ہوتا ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں ٹرمپ کی شخصیت پر بات ہو رہی تھی، اس میں ایک اینکر بتا رہا تھا کہ ٹرمپ نے عہدہ صدارت سنبھالنے سے لے کر اب تک کتنے جھوٹ بولے ہیں؟ اینکر نے ایک تعداد بتائی پھر کہا یہ تعداد آج تک کی ہے، ٹرمپ ابھی تک امریکہ کے صدر ہیں اور وہ آگے کس قدر جھوٹ بولیں گے؟ یہ وقت بتائے گا۔ معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے بطور امریکی صدر بیس ہزار سے زیادہ جھوٹ بولے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ان جھوٹوں کی تعداد ہے جو میڈیا نے پکڑ لیے، جو جھوٹ نہیں پکڑے گئے، ان کی تعداد نامعلوم ہے۔

tripako tours pakistan

ٹرمپ نے امریکی میڈیا کے خلاف معاندانہ رویہ رکھا، بطور صدر میڈیا کے اداروں کو اپنی ٹویٹس کے ذریعے نشانہ بناتے رہے۔ کچھ صحافیوں سے بہت تنگ تھے اور انہیں تنگ بھی کرتے تھے۔ میڈیا کا سامنا کرنے سے بھی کتراتے رہے، سوال کو ہی نان سنس کہہ جاتے تھے۔ البتہ ایک بات ماننی پڑے گی کہ انہوں نے مضبوط امریکی میڈیا کو تمام تر دباو اور پروپیگنڈے کے باوجود تگنی کا ناچ نچائے رکھا۔ انہوں نے اس کی قیمت بھی ادا کی، کیونکہ ہر بڑا میڈیا گروپ ان کے خلاف ہوگیا۔ ٹرمپ نے ہمیشہ مفادات کو دیکھ کر فیصلے کیے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اقدار کا آدمی نہیں تھا بلکہ مفادات کا آدمی تھا۔ سعودی شہزادوں کو صدر منتخب ہونے سے پہلے باپ کی دولت پر عیاشی کرنے والے قرار دیتے تھے، مگر جیسے صدر منتخب ہوئے تو پتہ چلا کہ یہ تو سونے کا انڈا دینے والی مرغیاں ہیں، جنہیں خوراک بھی نہیں ڈالنی پڑتی۔ پہلے دورے پر ہی سعودی عرب روانہ ہوگئے اور تلوار پکڑ کر داماد، بیوی اور بیٹی سمیت ناچتے رہے۔

جب صحافیوں نے سوال کیا تو کہا کہ ان کے پاس اربوں ڈالر ہیں اور ہمیں وہ چاہیں، ہم اسلحہ بیچتے ہیں، تاکہ ہماری فیکٹریاں چلیں، روزگار کے مواقع بڑھیں، اسی لیے یمن جنگ اور دیگر مقامات پر امن کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی۔ یہاں بھی قصور ان کا تھوڑا ہی ہے؟ قصور تو اپنا ہے، ایک دوسرے کو مارنے کے لیے اپنی دولت کو پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ یوں ہر اس جگہ یوٹرن لیا جہاں مالی مفاد کی تھوڑی سی بھنک بھی پڑ گئی۔ اسی سے سے آپ سمجھ لیں کہ جہاں جہاں سے خطرہ تھا، ان سب کو مالی نقصان پہنچانے کی کسوٹی پر تولتے رہے۔ تجارت میں مالی نقصان سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے، اس کے سامنے عزت، وقار، غیرت اور دیگر اقدار کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ امریکی صدر کی خارجہ پالیسی کا کل نچوڑ یہی نکلتا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو اسی نقطہ نظر سے چلانے کی کوشش کی، جس کا خمیازہ امریکی نظام کو بھگتنا پڑے گا۔

امریکہ کی موجود انتظامیہ کی یہ کوشش رہی کہ امریکی عوام کو خارجہ مسائل میں ہی الجھا کر رکھا جائے، اسی لیے امریکی انتظامیہ نے بیرونی مسائل کو بڑا فوکس کیے رکھا۔ عراق، شام اور دیگر مقامات کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، اسرائیل اور عرب ممالک کے روابط کو بڑی کامیابی جتلایا گیا۔ موجودہ ٹرمپ مخالف لہر میں بھی امریکی سیکرٹری خارجہ کے ٹویٹس مسلسل جمہوری اسلامی ایران کے خلاف آتے تھے، جس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ امریکی رائے عامہ کو داخلی چیلنج سے خارجی چیلنج کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ بات پہلے بھی پینٹاگون میں موجود تھی، مگر موجودہ امریکی صدر چین کو ایک متوقع دشمن کے طور پر دے کر جا رہے ہیں۔ مسلسل چین مخالف پروپیگنڈے سے عام امریکیوں کو یہی بتایا جا رہا ہے۔

امریکہ کی انتہائی مختصر دو سو اکتیس سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی صدر کا دوسری بار مواخذہ ہونے جا رہا ہے۔ جہاں امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سینیٹ کے اراکین ٹرمپ کے خلاف باقاعدہ سماعت کریں گے۔ یہ بھی شائد پہلی بار ہی ہوا ہے کہ ٹرمپ کی اپنی جماعت یعنی ریپلکن پارٹی کے دس اراکین نے بھی ان کے مواخذے کی حمایت میں ووٹ دیئے ہیں۔ انہی کی پارٹی کی رکن، سابق نائب صدر ڈیک چینی کی بیٹی نے لکھا کہ امریکہ کے صدر کی جانب سے آئین اور اپنے عہدے کے ساتھ اس سے بڑی غداری کا آج تک کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ حیرت انگیز طور پر تمام سروے کہہ رہے ہیں کہ امریکی عوام ٹرمپ کا مواخذہ چاہتی ہے۔ مواخذے کی انہی خبروں کے ساتھ اقتدار نئے صدر کو منتقل ہوگا اور یہ تبدیلیِ اقتدار دس ہزار نیشنل گارڈز کی واشنگٹن میں تعیناتی کے ساتھ ہوگی، جو کہ یقیناً امریکہ کے تعارف پر ایک بڑے داغ کی طرح ہے۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں