بے نقاب ہوتی امریکی جمہوریت۔۔ڈاکٹر ندیم عباس


نواز شریف وزیراعظم پاکستان تھے، محترم عمران خان صاحب اپوزیشن میں تھے، انہوں نے لاہور سے احتجاجی جلوس نکالا جو پارلیمنٹ تک پہنچا اور یہاں انہوں نے اپنے سیاسی کزن جناب ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ مل کر دھرنا دے دیا۔ عمران خان صاحب کا یہ دھرنا کئی ماہ تک چلتا رہا۔ دھرنے کے ساتھ خواتین کی بھی بڑی تعداد آئی تھی، دھرنا کی رونقیں شام کو دوبالا ہوا کرتی تھیں، جب عمران خان صاحب کنٹینر پر نمودار ہوتے اور ٹائیگرز کو اپنا دیدار کراتے تھے۔ پانی کے نل موجود تھے، موسم کی بھی شدت تھی، خواتین نے کپڑے دھوئے اور پارلیمنٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک ساری دیوار کپڑوں سے بھر گئی۔ اس وقت ہماری قوم کو پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی دیواروں پر یہ عمل انتہائی ناگوار گزرا۔ عمران خان کو آج بھی یہ بات بطور طعنہ کی جاتی ہے کہ اس نے ریاستی اداروں کی توقیر کم کی، سپریم کوٹ اور پارلیمنٹ کی دیواروں پر شلواریں لٹکائی گئیں۔

امریکی دارالحکومت میں طاقت و وقار کی علامت کیپیٹل ہلز کی عمارات ہیں، یہاں منتخب امریکی نمائندگان بھی موجود ہیں، جس کی طاقت کا اظہار بعض اوقات حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہاں پر حملہ امریکہ پر حملہ تصور ہوتا ہے اور امریکہ کی بطور ریاست توہین سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانوی فوج نے 1814ء میں یہاں حملہ کیا تھا اور ان عمارات کو جلانے کی کوشش کی تھی۔ صدر ٹرمپ جب سے الیکشن ہارے ہیں، وہ اور ان کے اتحادی شدید غصے میں ہیں، پہلے یہ خدشہ پیدا ہو چلا تھا کہ وہ پرامن انتقال اقتدار نہیں ہونے دیں گے، پھر انہوں نے وضاحت کی کہ وہ پرامن انداز میں انتقال اقتدار کریں گے۔ مگر انہوں نے ایسا ہونے نہیں دیا۔ عین اس وقت جب انتقال اقتدار کا اہم ترین مرحلہ مکمل ہونے والا تھا، وہ خطاب کرتے ہیں اور اس کے بعد مظاہرین کیپیٹل ہلز جمع ہونا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کو قابو رکھنے کے لیے انتہائی کم پولیس کی نفری بلائی جاتی ہے، نتیجے میں یہ مظاہرین امریکی سینیٹ پر دھاوا بول دیتے ہیں۔

tripako tours pakistan

پوری دنیا کی ٹی وی سکرین پر یہ مناظر انتہائی حیرت سے دیکھے گئے کہ جمہوریت کس طرح پامال ہو رہی ہے؟ مظاہرین سینیٹ میں داخل ہوگئے۔ آنے والے امریکی صدر جوبائیڈن کے الفاظ میں یہ مظاہرین نہیں حملہ آور تھے، جو داخل ہوگئے۔ چار گھنٹے تک یہ پوری آزادی کے ساتھ سینیٹ میں موجود رہے۔ طاقت کے مرکز سینیٹ کی سپیکر کے آفس میں گھسے، ان کے میز پر پاوں رکھے، ان کی مہر کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور چار گھنٹے بعد پولیس نے ان کو سینیٹ اور پوری عمارت سے نکالا۔ ایک آدمی نے کنفڈریشن کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا، یہ جنوبی ریاستوں کا وہ گروپ تھا، جو خانہ جنگی کے زمانے میں کسی بھی طور پر یہ نہیں جاہتا کہ غلامی کا خاتمہ ہو۔ جب امریکی صدر ٹرمپ کی توجہ اس طرف دلائی گئی تو انہوں نے اسے آزادی اظہار کہہ کر نظر انداز کیا۔

یہ مظاہرے بتاتے ہیں کہ امریکی جمہوری نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے، لوگوں پر جمہوری تماشے کی حقیقت کھل رہی ہے۔ خود امریکی نظام میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو ان اقدار پر یقین نہیں رکھتے، جن پر موجودہ امریکی نظام مشتمل ہے۔ نسلی امتیاز اور وائٹ سپرمیسی کا نظریہ امریکی قوم کو تقسیم کیے ہوئے ہے۔ قوانین میں جتنی مرضی تبدیلیاں کر لی جائیں، اصل بات یہ ہے کہ معاشرے میں یہ گہری تقسیم موجود ہے۔ اسی لیے ہر ایک دو سال بعد افریقین امریکنز کے خلاف شدید نفرت کا واقعہ ہو جاتا ہے اور اس پر شدید ردعمل آتا ہے اور کچھ عرصے بعد اس طرح کے واقعات کو دبا لیا جاتا ہے۔

امریکہ دنیا بھر میں جمہوریت کا چیمپئن بنا ہوا ہے اور دنیا بھر کے نظاموں کو اپنے پیمانوں پر پرکھتا رہتا ہے اور ان پر پابندیاں بھی عائد کرتا ہے۔ ویسے تو اس نظام نے انتظامی طور پر بھی اس ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا، جس کی توقع کرونا کی وبا کے پیش نظر اس سے کی جا رہی تھی۔ اس کے مقابل چین کے نظام نے اس پر حیران کن انداز میں قابو پایا اور وہ وھان کھلا ہے، جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا اور نیویارک و لندن بند پڑے ہیں۔ امریکہ میں ایک دن میں چار چار ہزار اموات ہو رہی ہیں اور لاکھوں لوگ اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اب اسی جمہوری نظام پر امریکہ کے اندر سے عدم اعتماد کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر کے رہنماء امریکہ میں ہونے والے اس پرتشدد رویئے پر ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

جرمنی کی چانسلر، انجیلا مرکل نے کہا، جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انتخابات کے بعد ایک ہارتا ہے اور دوسرا جیتتا ہے۔ دونوں کو شرافت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ جمہوریت ہی فاتح بنی رہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شرمناک مناظر ہیں۔ انڈیا کے وزیراعظم نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں فسادات اور تشدد کو دیکھ کر پریشان ہوں۔ اقتدار کی منظم اور پرامن منتقلی ہونی چاہیئے۔ غیر قانونی احتجاج کے ذریعے جمہوری عمل کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ نیوزی لینڈ کے وزیراعظم جیکنڈا آرڈرن نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ غلط ہے۔ جمہوریت لوگوں کا حق ہے کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں، ان کی آواز سنی جائے اور پھر اس فیصلے کو پرامن طریقے سے برقرار رکھا جائے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ واشنگٹن میں جو کچھ ہوا، وہ امریکہ نہیں تھا۔ ہم جمہوریت کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ فرانسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ جمہوریت پر بڑا حملہ ہے۔

نیٹو کے سکرٹری جنرل اور ناروے کے سابق وزیراعظم جینز اسٹولٹن برگ نے ٹویٹ کیا کہ انتخابات کے نتائج کا احترام کرنا ضروری ہے اور متنبہ کیا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے۔
یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے ٹویٹ کیا: “امریکی کانگریس جمہوریت کے لیے ایک ٹیمپل کی طرح ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں آج رات کے مناظر کا مشاہدہ کیا، یہ ایک صدمہ ہے۔ ایک عراقی رکن پارلیمنٹ حکیم الزیمیلی نے کہا کہ امریکہ کو جمہوریت کا کامیاب ماڈل سمجھا ہے، لیکن اب ہم افراتفری، کانگریس ممبروں کے خلاف حملے اور لوٹ مار کے واقعات دیکھ رہے ہیں۔ اس طرح تو تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخار نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ امریکہ میں انتخابی نظام بوسیدہ ہے۔ یہ جدید جمہوری معیاروں پر پورا نہیں اترتا۔

دنیا کا ردعمل بتا رہا ہے کہ ہر کوئی امریکہ کو ایک ماڈل کے طور پر دیکھ رہا تھا اور ہر جگہ اس کے معیارات کو اپنانے کی کوشش میں کامیابی کو ہی دنیا میں کامیابی کا پیمانہ مانا جا رہا تھا۔ امریکی سینیٹ پر ہوئے اس عوامی بلوے نے امریکی نظام کے کھوکھلے پن کو دنیا کے سامنے عیاں کیا ہے۔ روسی ترجمان نے بالکل درست کہا کہ یہ نظام بوسیدہ ہوچکا ہے، یہ عوام کو ڈیلیور کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، اسے جتنی جلدی ہوسکے بدل دینا چاہیئے۔ ٹرمپ اور اب ٹرمپ ازم کی صورت میں امریکہ کے موجودہ نظام کو چیلنج کرنے والی قوت میدان میں آچکی ہے، جو سفید سپرمیسی کی ایک نئی شکل ہے۔ مرور زمانہ کی بات ہے، جو امریکہ دنیا بھر کو جمہوریت کے سبق دیتا تھا، اب جمہوریت اس کے ہاں زیر سوال چلی گئی ہے اور مشرق و مغرب کے رہنماء امریکہ کے موجودہ غیر جمہوری رویوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں