حیراں ہوں اس قدر کہ شب وصل بھی مجھے تو سامنے ہے …

حیراں ہوں اس قدر کہ شب وصل بھی مجھے
تو سامنے ہے اور ترا انتظار ہے

غلام مصحفی ہمدانی

جواب چھوڑیں