​شعر مرزا غالب کا، نظم ستیہ پال آنند کی۔اور تبصرہ شمس الرحمن فاروقی کا

شعر مرزا غالب کا
ہوئی ہے مانع ِ ذوق ِ تماشا خانہ ویرانی
کف ِ سیلاب باقی ہے برنگ پنبہ روزن میں

نظم ستیہ پال آنند کی
یقیناً کچھ سبب تو ہے ،حضور اس گریہ زاری کا
کہ یہ مضمون، یعنی خانہ ویرانی پہ جزع فزع
کئی اشعار میں ملتی ہے گویا اک حقیقت ہو
مگر کس گھر کی ہے تصویر یہ بیزار کن منظر؟
خد ا رکھے، کہ عالی جاہ کا گھر تو سلامت ہے

tripako tours pakistan

مرزا غالب
ضروری تو نہیں ہے جوں کا توں نقشہ بنا دینا
اسی اک فرق سے تو زندگی اور فن عبارت ہیں
اگر میرا ہی گھر ہوتا تو شاید اس نفاست سے
کبھی بنتی نہ مجھ سے اس کی ایسی ہو بہو تصویر

ستیہ پال آنند
یہی تو فرق ہے ’’گھر‘‘ اور ’’مکاں‘‘ میں، جانتاہوں میں
مگر اک بات تو واضح کریں اے محترم میرے
تصور خانہ ویرانی کاہے سیلاب ہی کیوں کر؟

مرزاا غالب
سمجھنے کی ذرا کوشش کرو ،اے ستیہ پال آنند
یہاں سیلاب تو ہے استعارہ اشک ِ گریاں کا

ستیہ پال آنند
تو یہ سیلاب گویا ٓآنسوؤں کا اس غر ض سے تھا
کہ گھر میں ہر طرف اک خانہ ویرانی کا منظر ہو
کہ جس کو دیکھ کر تسکین ہو ذوق ِ تماشا کی
بُرا ہو اس ’’کف ِ سیلاب‘‘ کا جو اب بھی باقی ہے
برنگِ پنبہ اس منظر میں اب وہ اک رکاوٹ ہے

مر زا غالب
حقیقت میں کف ِ سیلاب کا ایسے مخل ہونا
مجھے خود ’’دور کی کوڑی‘‘ سا ہی محسوس ہوتا تھا
مگر اک دفعہ جب لکھا گیا یہ شعر تو میں نے
برنگ ِ پنبہ کو ہی خوبصورت، بر محل سمجھا

ستیہ پال آنند
مگر دیوان کی زینت بنانا کیا ضر وری تھا ؟
کہ گو مہمل نہیں، پر شعر تو بے جان ہے، قبلہ

مرزاا غالب
نہیں سمجھو گے تم اے ستیہ پال آنند ، یہ نکتہ
تصور خانہ ویرانی کا ہے میراث شعرا کی
اسے برتا ہے سب اہلِ سخن نے ہر زمانے میں
یقیناً پُر تصنع ہے مگر اولاد ہے میری
میں اس کو عاق کر دوں؟ جی نہیں! بالکل نہیں، صاحب
——-
تبصرہ شمس الرحمان فا روقی کا

ایک برقی مکتوب کے کچھ حصص، جس کے متن سے غیر متعلق مواد۔۔۔ شخصی ، ذاتی،اور دیگر موضوعات اور شخصیات کے بارے میں مواد مِنہا کر دیا گیا اور صرف اس شعر سے متعلق مرحوم کے ارشادات کو پیش کیا جا رہا ہے

——————————-
اس شعر پر صدہا اقسام کے جو اعتراضات ہوئے ہیں ان کا لب لباب صرف یہی ہے کہ گھر کے اندر رہتے ہوئے شاعر گھر کی ” ویرانی ” کا تصور اور پھر اس کا بیان کیسے کر سکتا ہے۔ آپ اگر گھر کے اندر ہوں تو “روزن دیوار” کی ضرورت پیش نہیں آتی۔۔۔اور اگر روزن ِ دیوار نہیں تو کف سیلاب (جو برنگ پنبہ اس میں بھر گیا ہے) لا یعنی ہو جاتا ہے۔۔۔۔ اور شعر اس بارے میں بھی کچھ نہیں بتاتا کہ اگر گھر کے باہر ہوں اور اندرون ِ خانہ کو دیکھنا چاہیں تو یہ دقت پیش آتی ہے، کہ آنسوئوں کا بہنا جو سیلاب ِ اشک بن کر سد ِ راہ ہو گیا، بے معنی ہو جاتا ہے۔
کچھ شارحین نے یہ خیال پیش کیا کہ سیلاب خود میں ہی مانع تماشا ہے ۔ اس میں غلطی یہ تھی کہ شاعرسبب کو مسبب قرار دے کر صرف خانہ پری کرنا چاہتا ہے۔

میں شاید “مہمل ” جیسے سخت الفاظ تو استعمال نہ کرتااور جیسے کہ آپ نے نظم میں صاف صاف کہا ہے،کہ اس شعر کو دیوان سے خارج کر دینا چاہیئے، یہ ضر ور کہتا کہ اس غزل کے دوسرے اشعار بلند درجے کے ہیں، ان سے یہ شعر میل نہیں کھ اتا۔

شارحین نے،بشمولیت طباطبائی ،بیخود دہلوی، جوش ملسیانی ، یہ کہنے میں عذر نہیں کیا کہ شعر تصنع سے پُر ہے ۔میرے خیال میں اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جس کا ذکر آپ نے اپنی نظم میں کیا ہے۔یعنی “گھر” اور “مکان” میں فر ق۔ یہ محض اتفاق ہی ہے کہ کسی شارح نے آپ کے تجویز کئے ہوئے لفظ “مکان” کے نہ ہونے پر غورنہیں کیا۔ ۔ “گھر” کا اپنی ذات سے متعلق ہونا اور مکان کا دیار ِدیگر ہونا سمجھ میں آ سکتا ہے۔ اور آپ کی نظم میں اس پر واضح اشارہ موجود ہے۔

مرزا غالب کے منہ سے سے یہ کہلوانا کہ ہر شعر شاعرِموصوف کی معنوی اولا د ہے اور اسے پدری حق سے عاق کرنا مناسب نہیں، ایک نادر نکتہ ہے اور اسے صرف آپ نے ہی پیش کیا ہے۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں