سوچ کے دریا سے ابھرے گا ایک سفینہ۔۔۔ احمد شمیم مس…

سوچ کے دریا سے ابھرے گا ایک سفینہ۔۔۔ احمد شمیم
مستنصر حسین تارڑ
اپنے گزشتہ کالم میں، مَیں نے احمد شمیم کی نیرہ نور کی گائی ہوئی نظم ’’کبھی ہم خوبصورت تھے‘‘ کا حوالہ دیا تھا۔۔۔ ایک پُرتاثیر نظم لکھنا مشکل ہوتا ہے، آپ کے پاس نہ تو قافیے ردیف کی قلابازیاں ہوتی ہیں اور نہ ہی آپ بے وجہ شوکت الفاظ کی…

More

May be an image of 3 people and text

جواب چھوڑیں