اب حکومت کیا کرے گی؟۔۔محمد منیب خان

بات کو جیسے بھی گھما لیں ایک سوال سب کے ذہنوں میں آتا ہے، کہ پی ڈی ایم اب کیا کرے گی۔ ؟

زرداری صاحب کے پی ڈی ایم سےاختلافات کے بعد وزراء  کی خوشی بتاتی ہے کہ کچھ ایسا ہوا ہے جو حکومت کے لیے باعث ِ اطمینان ہے۔ سوشل میڈیا پہ تحریک انصاف کے فالورز کا شور بتاتا ہے کہ کچھ انکی جماعت کے حق میں بہتر ہوا ہے۔گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغسے والا معاملہ نہ ہوتاتو حکومتی وزرا ء وہی روایتی ٹویٹس داغ رہے ہوتے اور فالورز وہیسیاست سے دستبرادریکا اعلان برقرار رکھتے۔ لیکن سیاست کااونٹ کس روز کس کروٹ بیٹھے یہ بتانا مشکل ہوتا ہے۔

tripako tours pakistan

زرداری صاحب اور ان کی جماعت عین امامت کے وقت بتا رہی ہے کہ ان کو یقین نہیں کہ انکا وضو سلامت بھی ہے یا نہیں۔ لہذا وہ جماعت کی سی ای سی سے مشاورت کریں گے کہ آیا ان پہ یہ نماز فرض بھی ہے یا نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی ناراضی یہ واضح کرتی ہے کہ زرداری صاحب کی مشاورت کے بعد آنے والے فیصلے کا ان کو ادراک ہے۔

حالات کے خد و خال کا بغور جائزہ لیا جائے توایک فرضی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پی ڈی ایم کی سب جماعتیں بشمول پیپلزپارٹی 26مارچ کو اسلام آباد جائیں اور  28 یا 29مارچ کو سب استعفے دے دیں تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ ملکی سیاست کی ادنی سا فہم رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ  آئین کے اندر وسط مدتی انتخابات کی کوئی بات نہیں ہے۔ جبکہ الیکشن قبل از وقت محض اسی صورت  میں ہو سکتے ہیں جب حکومت خوداسمبلیاں تحلیل کرے۔ لیکن کیا پی ڈی ایم کے استعفوں کے بعد حکومت اسمبلی تحلیل کر دے گی؟

اس سوال کا جواب تحریک انصاف کے خیرخواہوں کانہیںمیں ہو گا جبکہ مخالفین سمجھتے ہیں کہہاںحکومت اور ان کی پشت پناہی کرنے والی طاقتیں مجبور ہوں گی کہ اگلا الیکشن کروائیں۔ میرا خیال ہے اس ملک میں کیا ہوگا یا کیا نہیں ،یہ میری یا آپ کی خواہش سے وابستہ نہیں ہے۔ یہ فیصلےاندرون و بیرون ملک طاقت کے مراکز طے کرتے  ہیں کہ سیاست کی کونسی کل سیدھی ہوگی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ سے ایک دو واقعات کی بنیاد پہ استدالال کرتا ہوں۔ آپکو یاد ہوگا کہ مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگا کرججوں کو معزول کیا، اور  پھر زرداری صاحب اور میاں صاحب نے ایک مشترکہ وعدے پہ الیکشن لڑا کہ جیت کر جج بحال کر دیں گے۔لیکن پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی مشترکہ حکومت بنتے ہی زرداری صاحب کو خیال گزرا کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ لیکن اس کےبعد پہلے مسلم لیگ ن حکومت سے باہر نکلی پھر ایک لانگ مارچ کیا۔ پولیس اور پنجاب میں لگا گورنر راج بھی اس لانگ مارچ کو محدودکرنے میں ناکام رہا، اور لانگ مارچ کے گوجرانولہ پہنچنے پہ جج بحال ہو گئے۔ لانگ مارچ سے ایک روز قبل تک کے اس حکومت کےبیانات ان کی رائے اور سوچ دیکھ لیں۔ اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈوگر صاحب کا اطمینان دیکھ لیں۔ آئین پاکستان اور قانون کی کتابیں گھنگال لیں ایسی نظیر نہیں ملتی۔ لیکن ہمارے ملک میں جب اقتدار کے مراکز ارادہ کر لیتے ہیں تو وہ سب کچھ ہوکر رہتا ہے۔

اس ملک میں پانچ بار آئین معطل ہوا ،ہر بار آئین معطل کرنے کے بعد آئین کی معطلی کو آئین سے ہی نظریہ ضرورت مل جاتا ہے۔ جہاں آمر محض تین سوالات کے جوابات کے نتیجے میں خود کو منتخب کر لیتا ہے اس ملک میں سب کچھ ممکن ہے۔ مڈ ٹرم انتخابات بھی ہوسکتے ہیں اور الیکشن قبل از وقت بھی، یہ بھی ممکن ہے کوئی تیسرا بندوبست ہو جائے لیکن اس کا دارومدار اس بات پہ ہوگا  کہ میری آپکی خواہش کے علاوہ اس ملک کے طاقت کے مراکز کیا چاہتے ہیں اور پی ڈی ایم کے استعفے ان مراکز کو کونسی چال چلنے پہ مجبورکرتے ہیں۔ لہذا امید ہے کہ جو فرضی سوال ابتدا میں اٹھایا تھا اس کا جواب ہمیں مل چکا ہے۔

قبل از وقت انتخابات کا انعقاد اس وقت نسبتاً مشکل ہے ۔ پاکستان کی معاشی حالت اور کرونا کی صورتحال بہت   اہم فیکٹرز ہیں ۔ جبکہ طاقت کے مراکز کیا سوچ رہے ہیں یا کیا کر سکتے ہیں اس کا کس حد تک درست اندازہ پی ڈی ایم کے سربراہان  نے لگایا ہوگا ،یہ وہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اگر محض موجودہ حالات کو دیکھ کر تجزیہ کیا جائے تو پی ڈی ایم کے استعفی ایک طرح سے تحریک انصاف کو کھلا میدان مہیا کر سکتے ہیں۔ آپ تصور کریں جس جماعت کا  حمایت یافتہ صدر پاکستان خلاف آئین آرڈیننس جاری کرکے سپریم کورٹ سے رائے مانگ لیتا ہے جس جماعت کا حمایت یافتہ صدر پاکستان  صدر سپریم کورٹ کے جج بارے بادی النظر میں بدنیتی پہ مبنی ریفرنس بنا سکتا ہے۔ وہ میدان خالی دیکھ کر کیا کچھ نہیں کریں گے؟ اگر آمروں کو دس دس سال حکومت کرنا ملک میں کوئی آئینی بحران نہیں لا سکا تو یقین کریں ایک سو چالیس ممبران کے استعفی بھی کوئی آئینی بحران نہیں لائیں گے۔

دوسری جانب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ بھی ایک صفحہ پہ بدستور موجود ہے۔ ایک صفحے پہ موجود ہوتے ہوئے کبھی کبھی باہمی لکیروں کافاصلہ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے لیکن صفحہ ایک ہی ہے۔ اس ایک صفحہ پہ موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ صادق سنجرانی دوسری بار سینیٹ چئیرمین منتخب ہو چکے ہیں۔ خیال رہے انکا ایوان میں موجود تینوں بڑی جماعتوں میں سے کسی سے تعلق نہیں۔اور حکمران اتحاد کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ اگر میاں صاحب اور مولانا فضل الرحمٰن اب بھی استعفوں پہ اصرار کرتے ہیں تو ان کے فہم کے مطابق حکومت اورمقتدرہ حلقوں پہ اتنا پریشر کیسے پڑ جائے گا کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اپوزیشن نے توقع کی ہوئی ہے۔ یا پھر دوسری صورت میں جس وجہ سے زرداری صاحب استعفوں سے فرار حاصل کر رہے ہیں وہ وجہ مستقبل کا بہتر تجزیہ ہے۔ یعنی کہ استعفوں کے بعدحکومت کو کھلا میدان مل جائے گا۔

میرا خیال ہے اپوزیشن کا جس طرح سے انتخابات کی شفافیت پہ عدم اعتماد تھا اس تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن کا اس وقت کاموقف درست ترین تھا۔ اگر اسی وقت اسمبلیوں میں نہ جایا جاتا تو حکومت اور مقتدرہ کو اندرونی اور بیرونی شدید اخلاقی دباؤ کاسامنا ہوتا جس کے نتیجے میں غلطی کا زیادہ احتمال تھا۔ اس وقت استعفی دینا اور اسمبلیوں سے راہ فرار اختیار کرنا زیادہ موثرنہیں ہوگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جلسے جلوسوں سے اگر حکومت گرے تو کوئی اور ہی برسر اقتدار آتا ہے۔ آج اپوزیشن کے سارے لیڈر اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ اسمبلی کے اندر بد ترین ماحول کے باجود اپنی بات کہہ سکتے ہیں اور وہ باتیں ریکارڈ کا حصہ بنتی ہیں ،جبکہ اسمبلی سے نکلنے کے بعد کوئی بھی بیان محض اخباری تراشا ہوتا ہے۔

پی ڈی ایم کو زرداری صاحب نے فیس سیونگ کا موقع دے دیا ہے۔ اس میں اپوزیشن کا بھی بھلا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کا بھی۔ اپوزیشن مزید دو سال تک موجودہ حکومت کی کارکردگی کو آشکار کر سکتی ہے۔ جبکہ لوگوں کا تبدیلی کا بچا کھچا شوق بھی پورا ہو جائے گااور دل میں کوئی حسرت نہیں رہے گی۔ دوسرا مقتدرہ بھی اپنے ایک صفحے کو ہاتھ والا پنکھا بنا کر مسلسل ہوا لے سکتی ہے۔ زرداری صاحب کا اب اس سسٹم میں مکمل سٹیک محض سندھ حکومت یا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تک محدود ہے۔ جبکہ ن لیگ کے سٹیک بہت زیادہ ہے۔ ان کا پنجاب میں ووٹ بینک ہے جبکہ مرکز اور پنجاب میں بھی اگر آر ٹی ایس نہبیٹھےتو وہگورنمنٹ ان ویٹنگہیں۔ لہذا نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔ دیوار جب اپنے بوجھ سےگر رہی ہو تو اسکو دھکا دینے پہ توانائی کیوں ضائع کی جائے؟ حکومت کا آنے  والا بجٹ اور کرونا سے متعلق آنکھ مچولی کی پالیسی اس عوام کا بھرکس نکالنے کے لیے کافی ہے۔ میاں صاحب انتظار کریں کہ کس وقت عوام ٹپنگ پوائنٹ پہ پہنچتی ہے۔ وہی بہترین وقت  ہوگا۔ اور سیاستدان سے زیادہ بہترین وقت کا کون ادراک رکھ سکتا ہے۔

اس ساری صورتحال میں حکومت کیا کرے گی؟ تو حکومت وہی کرے گی جو گذشتہ ڈھائی سال سے کر رہی ہے۔ حکومت کسی کو این آر او نہیں دے گی، حکومت مافیا کو نہیں چھوڑے گی، حکومت ملکی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کرے گی۔ حکومت مفت کھانے کےمزید پراجیکٹس لانچ کرے گی۔ حکومت عوام کو بتائے گی کہ ستر سال تک پاکستان کو کیسے لوٹا گیا۔ اور آپ سب ان سب باتوں پہ تالیاں پیٹیں گے۔ ہندوستان سے اردو کے مشہور شاعر اور فلم گیت کار شکیل بدایونی نے کہا تھا:

کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر

پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں!




بشکریہ

جواب چھوڑیں