عجلت پسند(قسط6)۔۔۔محمد اقبال دیوان | مکالمہ

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

پانچویں   قسط کا آخری حصہ

tripako tours pakistan

واپسی پر اس کے ابو سامنے والی نشست پر اور وہ جڑ کر ظہیر کے ساتھ بیٹھ گئی۔کوشش وہی کہ ظہیر کو یہ نہ لگے کہ اس کی تو پتنگ کٹ گئی ہے۔لمبی ڈھیل سے اب بھی اس بات کو سنبھالا جاسکتا تھا ہر چند کہ ٹیپو نے اس سفر میں بی نوکے دل میں مزید جگہ گھیر لی۔راستے بھر وہ کبھی ظہیر کی خاموش ٹھنڈی، بے سخن انگلیوں سے کھیلتی رہی تھی تو کبھی اس کے کاندھے پر سر رکھ کر جھوٹ موٹ سوتی رہی۔

وینکوور

چھٹی قسط

عجب سے دن تھے۔ظہیر کا فون آتا تو بولایا بولایا، ہراساں سا لگتا تھا۔بی-نو کی چھٹی حس کہتی تھی کوئی بڑی گڑبڑ ہونے والی ہے ۔ظہیر اس واردات کا کسی نہ کسی طور اہم راز داں یا حصہ دار ہے۔وہ ابو کو بتاچکا تھا کہ وہ عنقریب بی نو سمیت شاید کینیڈا منتقل ہو جائے گا۔ٹوانہ صاحب کا پلان فائنل ہے۔ طے ہوگیا ہے کہ وہ کراچی رقم پہنچادے۔ ہارون منی چینجر کے ساتھ ا یک ہی فلائیٹ سے نکل لے۔ ہارون وہاں وینکور میں اسے رقم دے گا۔اس کے ابو نے بہت کم الفاظ میں مگر فیصلہ کن انداز میں بی نو کو بھی اس حوالے سے باخبر کر رکھا تھا۔
ظہیر نے اشارتاً یہ بی نو کو بھی بتادیا کہ اب گفتگو،معمولات اور دیگر پروگرام شیئر کرنے میں خاص احتیاط کرنی ہے۔ معاملہ بڑی عدالت میں چلا گیا ہے۔پانامہ میں بہت کچھ لیک ہوگیا ہے۔
نام تو بہت سو ں کے ہیں مگر ٹوانہ صاحب کا کہنا ہے کہ ہاتھ دو تین بڑوں پر ہی پڑے گا۔ باقیوں سے مال پکڑ کر چھوڑ دیں گے۔ ہر چندنزلہ بڑوں پر گرنے والا ہے مگر کون کہہ سکتا ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی محاسبے کی چکی کے پاٹ میں ڈال د یں۔ سسر،داماد کی آپس میں کیا بات ہوئی اس کا بی-نو کو کچھ خاص علم نہ ہوا۔ظہیر اور اس کے ابو لاکھ پڑھے لکھے اور شہری سہی مگر اندر سے تاحال اپنے رویوں میں قدامت پسند تھے۔ان کے مکالمے اور مباحثے میں عورت کی حیثیت ثانوی اورNeed to know basisوالی تھی۔

تیندوا

اس راز کے خاندان میں آنے سے گھر میں ایک بوجھل سرگوشی کا ماحول طاری ہوگیا۔اس دوران ٹیپو کی کوشش سے ایک آرڈر نکل گیا جس میں بی-نو کی تعیناتی Detailmentپرملتان سے وہاڑی ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی تعیناتی تو بدستور ملتان کے ڈائریکٹوریٹ اور پہلے والے اسکول میں تھی مگر کام کرنے کی اجازت وہاڑی میں مل گئی تھی۔وہاں سے انگریزی کی استانی زچگی کی تعطیلات پر چلی گئی تھی۔اسے ہر طور وہاڑی حاضری کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے اورتنخواہ لینے ہر ماہ کم از کم دو مرتبہ ملتان جانا ہوگا۔

fulcrum

اس تعیناتی کے جشن کی دعوت کے طور پر وہاں کسی تفتیش و تحقیق کے لیے آئے ہوئے ٹیپو کو بی نو کے اصرار پر ظہیر نے گھر کھانے پر بلالیا۔بی نو کا کہنا تھا ہم غریب لوگ ایک وقت اچھا کھانا کھلانے اور دعا کے علاوہ ایسے محسنوں کو کیا دے سکتے ہیں۔ظہیر کو یہ دلیل پسند آئی۔

وہیں طے ہوا کہ تین چار ماہ گزر جائیں تو ٹیپو صاحب، ابو، ظہیر اور بی-نو کو لے کر اسلام آباد جائیں گے۔اسلام آباد کے فیصلوں کو ٹالنا کسی کی مجال نہیں۔وہیں سے وہ اپنے کسی بڑے سے چیف
منسٹر کو ایسا طاقت کے انجکشن والا فون کرائیں گے کہ اس کے تبادلے کے آرڈر ڈائریکٹر صاحب خودلے کر دوڑے دوڑے گھر پر آجائیں گے۔

ظہیر کی مرضی تھی کہ وہ اگر کینیڈا منتقل ہوبھی جائے تو بی نو کا اس کی غیر موجودگی میں تبادلے کا سرکاری کام قانونی اور پکا ہو۔ایسا کچھ موقع بنے کہ ٹیپو جی کو  اسے اور ابو کو لے کر اسلام آباد جانا پڑے تو وہ اس میں تامُّل سے کام نہ لے۔اس نے بی نو کو باور کرادیا کہ ٹیپو اس کی آخری امید تھے۔ وہ بخوبی اندازہ لگا چکا تھا کہ ٹوانہ صاحب اس تیندوے کی طرح ہیں جنہوں نے دولت کے
ہرن کو تاک لیا ہے اور وہ اس پر فائنل حملہ کرنے سے پہلے بی نو کے تبادلے جیسے ریزگاری آپریشن میں ملوث ہوکر کسی بھی قسم کی غیر ضروری حرکت نہیں کرنا چاہتے۔

Starbuck

پولیس موبائل

ڈنرکے دوران اس نے احتیاط کی کہ وہ ٹیپو  سلطان کو کم سے کم دیکھے گو اس نے کچن سے انہیں کئی دفعہ دیکھا۔فون پر ایس ایم ایس کے ذریعے پوچھ لیاکہ کھانے میں کیا پسند ہے۔ مٹن کڑھائی تو اس نے خاص افغانی انداز میں یو ٹیوب سے دیکھ کر بنائی۔ ٹیپودو تین دفعہ ظہیر کی موجودگی میں ان کے گھر آئے۔
بی نو نے پوچھا بھی کہ ہماری طرف کافی آنا جانا ہوتا ہے ایسا کیوں؟ ظہیر کہنے لگے کہ وہاڑی کی لوکیشن بہت مرکزی ہے۔ تخریب کار گروپس کو بورے والا، کہروڑ پکا، میلسی، جہانیاں، چیچہ وطنی، میاں چنوں سے بہت سے غریب جاہل جذباتی نوجوان جہاد کے چکر میں مل جاتے ہیں۔ اس لیے ان کی وہاڑی آمد ہر دوسرے تیسرے دن ہوتی ہے۔ بی نو نے نوٹ کیا کہ خالی ہاتھ  کبھی نہیں آتے،کوئی نہ کوئی تحفہ ہوتا ضرور ہوتا ہے۔بی-نو کے والدین کو ان کی آمد سے بہت دھاڑس بندھ جاتی ہے۔اس کا اپنا بڑا بھائی سہیل نیوی کی جانب سے سیکانڈمنٹ پر سعودی عرب میں تھا۔
ابو سے ٹیپو کی خوب گپ شپ ہوتی۔وہ شاید اندازہ لگا چکے تھے کہ خاندان میں فیصلہ سازی کا دُھراFulcrumبی نو کے ابو ہیں۔ ظہیر یا بی نو کی امی نہیں۔ظہیر اس موقع پر چپ رہتا تھا۔ وہ البتہ احتیاط کرتی کہ ٹیپو سے اس کا کم سے کم سامنا ہو۔ایسا نہ تھا کہ وہ بے خبر ہوتی کہ کیا باتیں ہورہی ہیں۔ ہر گھر میں عورتوں کو ایسے کئی کھانچے دریچوں کا علم ہوتا ہے جہاں سے ڈرائنگ روم میں موجود مہمان کو دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔اس دن ظہیر لاہور میں ہی تھے اور ٹیپو یہاں وہاڑی میں ہیں۔ ان کے آنے کی اس کو اطلاع تو پہلے سے مل گئی تھی۔مختصر ساٹیکسٹ میسج تھا۔۔
کافی؟
جواب میں اس نے بھی لکھ بھیجا
Starbuck here
انہوں نے کہا بھی تھا کہ رات دس گیارہ بج جائیں گے مگر بی نو مائی بھاگی کی  ایک لطیف سائین کی ایک کافی کی تفسیر بنی رہی جس کے بول یوں ہیں کہ
لورھن منجھاں لڑھندی اچے( دریا کی لہروں میں خس و خاشاک کی مانند بہتا میر ا سسی جیسا بے خوف پیار)

تارین میں ترندی اچے(پر سکوت لہروں میں تمہاری کھوج میں بہاؤ کے حوالے میرا پیار)
دل باروچل باروچل پئی کرے(میرا دل میرے بلوچ محبوب پنہوں تمہاری الفت میں بے قرار ہے)

موسم سرد تھا۔ابو کو بخار بھی تھا۔الٹیاں دست بھی ہورہے تھے۔دواپرہیزکے معاملے میں ہمیشہ سے لاپرواہ تھے۔ بی نو اور امی دونوں ہی پریشان تھے۔اسی نے گھبراکر ٹیکسٹ میسج دیا کہ آجائیں۔
۔ کوئی رات کے دس بجے  آمد ہوئی ۔ابو کی آدھی بیماری تو انہیں دیکھتے ہی ہوا ہوگئی۔ٹیپو نے بھی جب بیماری کا سنا تو جھٹ سے کہنے لگے کہ انکل ہماری گاڑی میں ہر وقت لازمی دواؤں کی ایک فوجی کٹ پڑی ہوتی ہے۔آپ تو جانتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی دوا فوجی گولی سے جلدی اثر نہیں کرتی۔پہلی ہی خوراک سے کچھ آرام آیا تو بی نو کے امی ابو نے ضد پکڑی کے رات کو کہاں ملتان واپس جائیں گے۔ وہاں جاکر بھی تو آخر سونا ہے۔ اوپر مہمانوں والا کمرہ خالی ہے۔ انہیں یہ کہہ کر روک لیا کہ ناشتے پر گپ لگے گی۔وہ مان گئے۔

ابو سو چکے تھے امی نچلی منزل پر تھیں ۔بی نواوپر کی منزل میں مہمانوں کے کمرے میں ان کا بستروغیرہ بچھارہی تھی۔ اسے پتہ ہی نہ چلا کہ  دروازے میں کون کھڑا اسے انہماک و الفت سے دیکھ رہا ہے۔ واپس جانے کے لیے پلٹی تو اندر داخل ہوتے ہوئے ٹیپو نے بانہیں پھیلادیں۔جانے وہ کون سے مقناطیس تھے کہ وہ کھنچتی چلی گئی اور ان مضبوط بانہوں میں ایسے سماگئی جیسے فیرنی میں زعفران کی خوشبو۔ ابتدا میں تو وہ ان بانہوں سے آزاد ہونے کے لیے کسمسائی بھی۔ پلنگ پر دور بیٹھ کر کچھ گفتگو بھی کی مگر جب ٹیپو نے پوچھا کہ
Do you trust me?
تو اسے لگا کہ اس کا اجتناب انہیں ناگوار گزرا ہے

اشارہ کیا تو کچھ دور ہوکر بیٹھ گئی مگر جسم اس پہلی اجنبی رفاقت کے ذائقے سے دھنک رنگ ہوکر ستار کی دھیمی دُھن کی طرح بج رہا تھا۔ایسا لگ رہا تھا کہ سارے بدن کا خون دماغ میں گھس گیا ہے اور دماغ گردش خون کی اس گھمن پھیری میں موت کے کنوئیں والی موٹر سائیکل بن گیا۔ انہوں نے اپنا سوال پھر سے دہرایا۔
Do you trust me?
کیا تمہیں مجھ پر وشواش ہے
ٰI do. Indeed. Always
جی مجھے ہے۔ یقیناً اور ہمیشہ کے لیے
Who am I to you?
میں تمہارا کون ہوں؟
My one and only true love. My man
میرا واحد سچا پیار۔میرے مرد
And who are you to me?
اور تم میری کون ہو؟
I am your woman. Your lost rib
میں تمہاری عورت ہوں تمہاری گمشدہ پسلی

چالاک ٹیپو اس لیڈ کو پاکر کہنے لگے تمہیں پتہ ہے پسلی گم ہوجائے اور دوری اختیار کردے تو دل کتنا غیر محفوظ ہوجاتا ہے۔ قریب آؤ تو میں تمہیں ایک وچن دوں۔ ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کریں تاکہ ہر رکاوٹ کو توڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا گھر بسالیں۔ہم دونوں کا ایک ہی مسئلہ ہے۔ تمہیں میاں مرضی کا نہیں ملا اور مجھے بیوی۔اس چکر میں ہمارے بچے آسمانوں میں ہمارے ملاپ کے منتظر بیٹھے ہیں۔

بچے گھر ازدواجی ناآسودگی کے جو یہ منتر ان کے لبوں سے آزاد ہوکر اس کے کانوں میں آئے تو اس کی مدافعت نسوانی کے بہت سے تربیلا ڈیم ٹوٹ گئے اور جذبات کا طوفان سارے وجود کو ڈبو گیا۔
بینو جو قریب آ کر بانہوں میں دوبارہ سمائی تو پھر بہت سے فاصلے مٹ گئے۔ اس نے بہت ہلکے سے اپنے کانوں کی لو کو چھوتے ہوئے مردانہ ہونٹوں کی زبانی سنا” بی-نو آئی لو۔ بی مائن”

محبت کو اظہار کا موقع  ملا توقول و قرار اور بوس و کنار ہوئے۔ بینو کو پہلی دفعہ اس مردانہ لمس کی وحشت بھری لگاوٹ کا اندازہ ہوا، جس کے خواب وہ بلوغت کی ابتدائی یلغار سے دیکھتی چلی آئی تھی۔
ٹیپو نے اسے یقین دلایا کہ وہ ذمہ دار،سچے ،میچور اور وفا شعارہیں۔اپنے کام کے حساب سے ان کے پاس خفیہ اور خطرناک رازوں کا ایک خزانہ ہے۔ اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ وہ بھی ایک پاکیزہ اور گھر بار والی معزز عورت ہے سو راز داری کا اہتمام رہے گا۔کاندھے پر سر رکھے ،سپردگی کی چاندنی کے گھیرے میں جگمگاتی بی نو کو مردانہ سینے کی کشادگی،بانہوں کی  تحفظ بھری اپنائیت اور مردانہ ہونٹوں کی مقناطیسی جکڑ پکڑ کا پہلی دفعہ احساس ہوا۔

can yaman

fried green chilli

بتارہے تھے کہ ان کی بیگم سے ویسے بھی نہیں بنتی۔مالدار گھرانے کی ہیں۔مکسڈ خاندانی پس منظر ہے۔کاروباری، گجراتی،کراچی کی پوسٹنگ میں شادی کی غلطی ہوگئی تھی۔جوانی کی بھول جانو۔والد، والدہ آج تک ناراض ہیں کہ کراچی میں شادی کیوں کی۔ بتارہے تھے کہ تحصیلدار پختون ابو کا اصرار ہے کہ کراچی کے تاجروں میں کلاس نہیں ہوتی۔شکر ہے اولاد نہیں ہوئی۔یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔

اس انکشاف پر بی نو کے کان کھڑے ہوگئے کہ بچے نہیں تو یہ کیا ظہیر والا ایکشن ری پلے ہونے لگا ہے مگر وہ کہنے لگے کہ بیگم کوچیک کرایا تھا کہ خرابی کیا ہے۔پتہ چلا primary ovarian insufficiency (POI)کا معاملہ ہے۔ڈاکٹر نے کہا کہ بچے  کی پیدائش سے جڑے کئی معاملات ہیں۔ درستگی میں خطرات ہیں۔ دواؤں کا  استعمال طویل عرصے رہے گا۔ پیٹ میں آنے والا بچہ کسی بد احتیاطی کی وجہ سے پیدا بھی ہوا تو وہ ذہنی جسمانی معذوری کا شکار ہوسکتا ہے۔ ماں باپ نہ بننے کو رضائے الہی مانو۔جاپانیوں کے ہاں بھی تو آٹھ ہزار افراد میں ایک بچے  کا برتھ ریٹ ہے۔اللہ کے آگے کس کی چلی۔تم مرد ہو۔ تم میں کوئی خرابی نہیں۔یہ سن کر بی نو ایسی جذباتی اور نہال ہوئی کہ  بوسے میں ان کی زبان بھی ہلکے سے کاٹ لی۔

ٹیپو بتانے لگے کہ اس مدعے کو لے کر بہت مذہبی ہوگئی ہیں۔گھر میں بھی بہت لپٹی لپٹائی رہتی ہیں۔اصرار یہ کہ گھر میں بھی مرد ملازم ہوتے ہیں۔میرا چھونا انہیں ایک طعنہ لگتا ہے۔ ہم ساتھ ہوں سوتی بھی علیحدہ کمرے میں ہیں۔کراچی کی لڑکیوں سے شادی کے معاملے میں انہوں نے طے کرلیا ہے کہ وہ اپنی سات پشتوں کو منع کردیں گے۔وہ کیوں؟ بی-نو نے پوچھا۔
Sense of Entitlementبہت ہوتا ہے۔ بی-نو کے من میں آئی کہ یہ کیا چیز ہے مگر یہ سوچ کر باز رہی کہ کہنے سننے کو ان مشکل سے حاصل لمحات میں اور بھی بہت کچھ ہے۔

اس بیان ازدواجی بے لطفی کو سن کر بی نو کی سخاوت اور سپردگی میں اضافہ ہوا۔اس کے بوسوں اور آغوش دونوں میں شدت آگئی۔ان ہی جسمانی لذتوں کے تبادلے میں اس کے Multi-Tasking Mindنے سوچا کہ کراچی کی لڑکیوں پر فی الحال مٹی پاؤ۔ جب ان کی شادی ہوجائے گی تو تاجر کی اس جنس بے زار بیٹی کو وہ سال بھر کے اندر میکے بھیج دے گی ۔ شادی ہوجائے گی تو خود لمحات وحشت و وصال میں سیکس اور دلداری کا ایسا سونامی لائے گی کہ اس کے جان یمان جیسے ٹیپو بھی بستر کے نیچے چھپتے پھریں گے۔ کمرے میں ہر طرف بس ایک گیت بجے گا کہ پورے ہوں گے سب ارمان،تم دیکھنا میری جان، بنے گا نیا پاکستان۔گرفت میں بتدریج بڑھتی وحشت سے اندازہ ہورہا تھا کہ ساری خرابی بیگم ٹیپو میں ہی تھی۔جب عورتیں ازدواجی حلال سیکس میں بھی ایسے درشت جنس دشمن اور بے زار سوکھی تلی ہوئی مرچ جیسے رویے اپنائیں گی  تو مرد کاتو دل، دماغ اور باڈی ڈیزائین ہے ہی ایسا کہ وہ اس کی تسکین باہر تلاش کرے۔اس نے دل ہی دل میں تف بر بیگم ٹیپو کہا۔

اس کے اندازے درست تھے۔ ٹیپو واقعی مرد ہیں۔ان میں کوئی خرابی نہیں۔ ان کی  گرج دار آواز گھٹی گھٹی سانسوں اور یہاں وہاں ٹٹولتے مردانہ ہاتوں کے لمس کے الجھتے پھیلاؤ میں دور سے آتی ہوئی ایک یقین دہانی بھی سنائی دی کہ اگلے سال کے آخر میں بورڈ ہے۔جب وہ اگلے رینک پر ترقی پالیں گے اسی ہفتے وہ مستقل طور پر ایک دوسرے کے ہوکر اپنا گھر بسالیں گے ان کاا اپنا گھر بچے ہوں گے۔ تب تک احتیاط اور رازداری، معاملہ فہمی اور ایک دوسرے پر اعتماد کرکے جینا ہوگا۔اس سارے مکالمے کو انہوں نے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر یہ کہہ کر سیل کردیا کہ
You never disobey me
and I
will not disappoint you.
میری حکم عدولی مت کرنا تو میں تمہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا
بی-نو کی انگریزی کوئی ایسی خاص نہ تھی مگر بوس و کنار اور ہم آغوشی میں سپردگی کا ایسا الاؤ دہکا کہ ہلکی سی سسکی بھر کر اس نے بھی کہا
Once Your’s
All and Always Your’s
ایک دفعہ تمہاری بنی تو ہمیشہ اور پوری کی پوری تمہاری ہوئی۔

تیندوا

یہ سلسلہء بوس و کنار اور لاگ لپٹ جانے کب تک چلتا رہتا مگر سیڑھیوں کے پاس سے بی-نو کو اپنی امی کی آواز سنائی دی۔ ڈری کہ کہیں اوپر ہی نہ آجائیں۔ حلیہ درست کر سیڑھیاں پھلانگ کر بھاگم بھاگ نیچے گئی تو پوچھنے لگیں کہ یہ مہمان کا بستر ٹھیک ہورہا ہے کہ ملتان میں کوئی پولو گراؤنڈ تیار ہورہا ہے۔ بستر بچھانے میں  پونا گھنٹہ  لگ گیا۔ کیا پہلی دفعہ پلنگ دیکھا ہے۔اسے اپنی امی کے اس ذو معنی جملے پر زور کی ہنسی آئی۔چیخ کر کہنے لگی ”گیزر نہیں چل رہا۔ میں باتھ روم میں لائن چیک کررہی تھی۔مہمان ٹھہرانے کا شوق ہے تو گرم پانی کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔بے چارے سردی میں کیسے نہائیں گے“۔امی نے کہا ”تم سویرے نیچے سے گرم پانی کی بالٹی اوپر لے جانا۔

صبح کو ملتان جاتے وقت وہ ابو کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر  بڑے ہسپتال کے ڈاکٹر کودکھانے ساتھ لے گئے۔ بی-نو نہیں گئی۔وہ ظہیر کو اس لاحاصل شک و حسد میں نہیں بدلنا چاہتی تھی کہ وہ اس کی گھر سے دوری  کو اپنے کسی ناجائز منصوبے کی عملداری کے حق میں استعمال کرکے مزے لوٹ رہی ہے۔ اس کی امی نے بھی اس کی تجویز اجتناب کی حمایت کی۔بینو کی ماں کا کہنا تھا ظہیر لاکھ سگے بھائی کا بیبا بیٹا سہی۔سات دلہنوں کے جیسا کم سخن و تابع دار۔پھر بھی ہے تو داماد ہی نا۔ بڑے بوڑھے کہتے تھے، داماد گدھے کی پچھلی لات ہوتا ہے کوئی پتہ نہیں وہ کس وقت اچھال دے۔دولتیاں جھاڑنے کا بلاوجہ موقع دینا قرین دانش نہیں۔

اس نے بہانہ کردیا کہ اسکول میں تقریب ہے اور شرکت لازم۔امی ساتھ چلی گئیں تھیں، ان کی روانگی کے بعد بی-نو کو لگا ایک نئی عورت نے اس میں جنم لیا ہے۔آزاد، بے باک،جسمانی لذت کی  کھوج میں سرگراداں۔محبوب کو سب کچھ سونپ دینے پر آمادہ۔نتائج سے بے پرواہ مگر تیندوے کی طرح بے وفائی کے درخت پر گھات لگا کر براجمان۔

ابو امی جب ملتان کے لیے رخت سفر باندھنے کمرے میں تھے، ٹیپو کی جانب سے بی نو کو بتادیا گیا کہ وہ فون وغیرہ کے معاملے میں احتیاط کرے۔اب ان کا ملنا اچانک ہوگا۔اسکول کی ملازمت کا جو موجودہ انتظام ہے وہ اس ملاقات میں معاون ہوگا۔کبھی وہاڑی تو کبھی ملتان۔اس میں اب فوری طور پر اس میں کسی تبدیلی کی کوشش سے معاملات آؤٹ آف کنٹرول ہو جائیں گے۔ سو اس معاملے میں چل (Chill) رہے ۔۔اس کی ملتان آمد کے لیے جب بھی ضرورت ہو چار گھنٹے میں مناسب کار بمع ڈرائیور اس کے حوالے ہوگی۔
جاری ہے




بشکریہ

جواب چھوڑیں