’’اپنے گھر کو درست کرنے‘‘ اور’’ ڈان لیکس‘‘ میں فرق۔۔محمد عامر خاکوانی


چند دن پہلے آرمی چیف جنرل قمر زماں باجوہ کی ایک تقریر سامنے آئی جس میں انہوں نے بعض دیگر اہم باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنا گھر درست کرنا ہوگا۔ یہ بیان کئی اعتبار سے اہمیت کاحامل ہے۔ اس کے بعد ہمارے ہاں نئی بحث شروع ہوگئی کہ اگر اپنا گھر درست کرنے (House In order)کی بات سویلین حکمران کرے تو اس کی حب الوطنی مشکوک ہوجاتی ہے جبکہ عسکری سربراہ یا فوجی آمر دوران اقتدار یہ بیان دے تو اس کا یہ حق سمجھا جاتا ہے۔ ایک دعویٰ یہ بھی ہوا کہ ڈان لیکس میں یہی تو کہا گیا تھا، تب اتنا شور کیوں مچایا گیا؟ میاں نواز شریف نے بھی موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پر بیان دیا کہ یہی بات میں کہتا تھا ۔ ادھر مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ داغ دیا کہ یہی با ت میں نے ڈھائی سال پہلے کہی تھی۔ان سب کا مقصد کنفیوژن ہی پیدا کرنا ہے ورنہ صاف بات ہے کہ جب تک اپنا گھر درست نہ کیا جائے، مسائل خاص کر معاشی مسائل دور نہ ہوں ، تب تک چیزیں ٹھیک نہیں ہوسکتیں۔ پھر الجھن کاہے کی؟ کنفیوژن دراصل دو تین بنیادی نوعیت کی چیزوں کو نہ سمجھنا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ ڈان لیکس کا اس’’ ہائوس آن آرڈر‘‘کرنے والی بات سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈان لیکس دراصل ایک ہائی کانفیڈنشنل ٹاپ میٹنگ کی تفصیلات میڈیا میں لیک کرنے کامسئلہ تھا۔ سول ملٹری قیادت پر مشتمل اہم میٹنگز ہوتی رہتی ہیں۔، ان میں ریاست کو درپیش اہم ترین چیلنجز اور مسائل زیربحث آتے ہیں، ان کے ممکنہ حل بھی تجویز کئے جاتے ہیں، بحث ہوتی ہے اور پھر نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ میڈیا سے کوسوں دور ہی رکھا جاتا ہے۔ٹاپ میٹنگ میں کوئی ایسا نکتہ طے پائے جسے کسی مصلحت کے تحت میڈیا میں مشتہر کرنا مقصود ہو تو وہ جاری کر دی جاتی ہے۔ ڈان لیکس میںپہلی بار ایسا ہوا کہ ہائی کانفیڈینشل میٹنگ کے مبینہ اہم نکات یعنی منٹس ایک بڑے انگریزی اخبار کے رپورٹر سے شیئر کئے گئے اور اس نے وہ سٹوری اگلے روز اخبار میں چھاپ دی۔ یہ سب کچھ بڑی مہارت اور چالاکی کے ساتھ ہوا۔ مختلف واسطوں اور ہاتھ سے ہوتی ہوئی یہ چیزیں اس صحافی کے پاس گئیں تاکہ بعد میں یہ ثابت نہ ہوسکے کہ کس نے یہ خبر لیک کی۔ صحافی اور اس کے ایڈیٹر نے اسے کنفرم کرنے کے لئے اس وقت کے وزیراطلاعات پرویز رشید کو فون اور میسج کئے ،مگربظاہر سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے مطابق وزیرموصوف نے اس خبر کو رکوانے کی کوشش نہیں کی۔ بطور وزیراطلاعات ان کی ذمہ داری تھی کہ جب یہ معاملہ ان کے نوٹس میں آ گیا ہے اور انہیں علم ہے کہ اگلے روز فلاں اخبار اس سٹوری کو شائع کر رہا ہے تو وہ ان سے رابطہ کریں ۔ اگر اس ٹاپ کلاس میٹنگ کی مبینہ تفصیلات اور منٹس غلط ہیں تو ان کی تردید کر کے انہیں چھپنے سے روکا جائے۔مذکورہ وزیر خاموش بیٹھے تماشا دیکھتے رہے۔ ڈان لیکس کے حوالے سے اگلے روز دو دلچسپ کام ہوئے۔ڈان اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اس اہم اجلاس میں غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے معاملے میں فوج اور سول حکومت میں اختلاف ہوا ہے۔ تاہم اگلے روز حکومت اور عسکری ذرائع دونوں نے اس خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ حکومت نے انکار کیا کہ ایسی کوئی بات میٹنگ میں زیربحث آئی ہی نہیں ۔اس سے صورتحال مزید گمبھیر ہوگئی کہ نہ صرف اہم میٹنگ کی تفصیلات لیک ہوئیں بلکہ وہ غلط اور خلاف حقائق آگے پہنچائیں گئیں۔چاردن بعد ، دس اکتوبر کووزیراعظم ہاوس سے بیان جاری کیا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اس خبر کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔اس کے تین دن بعد یعنی تیرہ اکتوبر 2017 کو وزیرداخلہ چودھری نثار نے کہا کہ اس خبر سے دشمن ملک (انڈیا) کے بیانیے کی تشہیر ہوئی ہے، اس لئے اس کی مکمل تفتیش کی جائے گی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، تیس اکتوبر کو چودھری نثار نے قوم کو بتایا کہ قومی سلامتی کے منافی اس خبر کو رکوانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کرنے پر وزیراطلاعات پرویز رشید کوان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ چودھری نثار نے بتایا کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ یہ جھوٹی خبر نہ رکوانا پرویز رشید کا قصور ہے ۔ ڈان لیکس کا معاملہ اس کے بعد بھی چلتا رہا، ایک انکوائری کمیٹی بنی اور پھر اس کی سفارشات کے مطابق مشیر برائے خارجہ امور طارق فاطمی سے استعفا لے لیا گیا جبکہ پرنسپل انفارمیشن افسر رائو تحسین کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔وزیراعظم کی جانب سے کئے گئے یہ اقدامات ناکافی سمجھے گئے اور میجرجنرل آصف غفور نے ریجکٹڈ والی مشہور ٹوئٹ جاری کی جس کے بعد خاصا شور شرابا مچا۔ آخر وہ ٹوئٹ بھی ڈیلیٹ ہوئی۔ ایک ہائی کانفیڈنشل میٹنگ میں کی جانے والی بحث اور ان کے نکات دانستہ طور پر چالاکی سے باہر لیک کرنا ہی اصل غلطی تھی۔ اسے ڈان لیکس کہا گیا چونکہ وہ خبر ڈان اخبار کو دی گئی تھی۔اب اس میں دو باتیں ممکن ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ خبر ہی جھوٹی تھی اور غلط خبر لیک کی گئی جیسا کہ تب حکومتی ترجمانوں اور وزرا کی فوج ظفر موج کا دعویٰ تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر ڈان لیکس کا حالیہ بیان سے کوئی موازنہ ہی نہیں بنتا۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ ڈان کی مذکورہ سٹوری میں چھپنے والی باتیں درست ہیں، وہ زیربحث آئیں اور انہیں دانستہ طور پر ہوشیاری سے باہر پہنچایا گیا تاکہ دو مقصدحل ہوں۔ میڈیا میں ایک منفی مہم چلے،جس سے عسکری ادارے دبائو میں آئیں اور دوسرا سول حکومت عالمی سطح پر اپنی ’’گواہی‘‘دے سکے کہ دیکھیں ہم توان کالعدم تنظیموں والا چیپٹر ختم کرنا چاہ رہے ہیں، مگر غیر سویلین قوتیںنہیں کرنے دے رہیں۔یہ منظرنامہ بھی ہر اعتبار سے غلط ہے۔ اپنے اداروں کے خلاف میڈیا مہم چلانا کہاں کی حب الوطنی یا دانشمندی ہے؟ اگر آپ کسی کام کو درست سمجھتے ہیں اور کوئی ادارہ آپ کو نہیں کرنے دے رہا تو پھر سادہ سی بات ہے کہ استعفا دے دیا جائے۔ یہی جمہوری طریقہ ہے۔پھرکسی قومی جماعت یا عوامی لیڈر کو عالمی قوتوں یا عالمی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے گواہی دینے اور اپنے نمبرٹانکنے کی کیا تک اور منطق ہے؟ حکومت پاکستانیوں کے لئے ہے یا عالمی اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار؟ بڑا سادہ نکتہ ہے جو میرے جیسے عام اخبارنویس بھی اپنے واجبی سے مطالعے کی بنیاد پر سمجھ چکے ہیں کہ کوئی بھی پالیسی بنائی یا بدلی جا سکتی ہے ،اس کے لئے مگر لازمی ہے کہ جو کچھ بھی ہو، وہ سوچ بچارسے تمام اداروں کی اِن پٹ کے بعد ہو۔ اس لئے کہ نیشنل سکیورٹی کے حوالے سے ہر فیصلے کے بہت گہرے، دور رس اثرات ہوتے ہیں۔یہ مذاق نہیں ہے کہ ایک روز بادشاہ سلامت اٹھیں اور صبح نہاری، ہریسے کی پلیٹیںکلچے کے ساتھ صاف کرنے کے بعد کشمیری چائے کے دو کپ چڑھائیں اور پھر فیصلہ کریں کہ آج سے ہم بھارت کے خلاف کوئی پراکسی وار نہیں کریں گے اور جو تنظیمیں وغیرہ پچھلے تیس برسوں میں بنائی ہیں، وہ اب سے ختم ۔ ایسا نہیں ہوتاحضور والا۔ اس میں ہزاروں لوگوں کی زندگیاں ملوث ہیں، بے شمار لوگوں نے وطن کی خاطر جان کی بازی لگائی ۔ برسوں بلکہ عشروں میں نیٹ ورک بنتے، انسانی اثاثہ جات بنتے، سلیپر سیل تشکیل دیے جاتے ہیں۔ یوٹرن لیا جاسکتا ہے، مگر اس بڑے اقدام کو ادارہ جاتی موو ہونا چاہیے۔ اثرات کا اندازہ لگا کر کچھ کیا جائے۔ جنرل ضیا اور مشرف جیسے فوجی ڈکٹیٹر متنازع ہیں،خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے بسا اوقات بڑے نرم، بظاہر پیچھے ہٹنے والے بیانات دئیے جو دیرینہ موقف سے پسپائی لگے، مگر ضروری نہیں کہ چیزیں جیسے نظر آئیں، ویسے ہی ہوں۔ وہ تمام Institutional Movesتھیں اور سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ایساکہا گیا ۔ جنرل ضیا الحق نے بارہا بھارت کو کہا کہ ہم ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ کرتے ہیں۔ ضیا نے امن اور جنگ نہ کرنے والی بات اتنی بار دہرائی کہ بھارتی ماہرین چکرا گئے ، وہ اس کا توڑ نہ کر سکے۔ کوئی ملک اگر کہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اورامن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو اسے کیسے انکار کیا جائے؟ڈپلومیسی کی دنیا میں اسے ضیا ڈاکٹرائن اور Peace Offensive کہا گیا۔جنرل مشرف نے بارہا امریکہ کا دہشت گردی میں اتحادی ہونے کا دعویٰ کیا، آج دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے اس گریٹ گیم میں اپنے مفادات سامنے رکھے اور افغان طالبان کی سلامتی اور وجود یقینی بنایا۔ پندرہ سال نام نہاد لبرل دانشور پاکستان کی طالبان پالیسی کو غلط کہتے رہے، آج امریکیوں کو پاکستان سے طالبان کو منانے کی درخواست کرتے دیکھ کر وہ ہکے بکے ہیں۔ ہمارے سول حکمرانوں کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ اقتدار میں آ کرتھنک ٹینک نہیں بناتے،اپنی جماعتوں میں ایسے ماہرین تیار نہیں کرتے اور پھر اقتدار ملتے ہی ان کے سر پرپچاس ساٹھ سال پرانی نیشنل سکیورٹی پالیسیاں یکا یک بدلنے کا بھوت سوار ہوجاتا ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ’’ گھر درست کرنے ‘‘کے لئے بھی جامع منصوبہ بنانے اور اس کے تمام مضمرات پر غور کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ کام سب کو ملا کر ، سوچ بچار ، مشاورت کے بعد ہی ممکن ہے۔ ورنہ باقی صرف کہانیاں ہیں بابا۔ ایسی کہانیاں جن میں ڈان لیکس جیسے ندامت آلود تذکرے بھی ملتے ہیں۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں