چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا کوئی خوابوں سے…

چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا
کوئی خوابوں سے مجھے دشت بلا تک لے گیا

ٹوٹتی پرچھائیوں کے شہر میں تنہا ہوں اب
حادثوں کا سلسلہ غم آشنا تک لے گیا

دھوپ دیواروں پہ چڑھ کر دیکھتی ہی رہ گئی
کون سورج کو اندھیروں کی گپھا تک لے گیا

عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں
وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا

More

جواب چھوڑیں