خود کو نظر کے سامنے لا کر غزل کہو اس دل میں کو…

خود کو نظر کے سامنے لا کر غزل کہو
اس دل میں کوئی درد بٹھا کر غزل کہو

اب تک تو مے کدوں پہ ہی تم نے غزل کہی
ہونٹوں سے اب یہ جام ہٹا کر غزل کہو

محفل میں آج شمع جلانے کے دن گئے
تاریکیوں میں دل کو جلا کر غزل کہو

غزلیں بھی آدمی کی عبادت ہیں دوستو…

More

May be an image of 1 person

جواب چھوڑیں