ڈاکٹر وزیر آغا (مرحوم)کے میرے نام منتخب خطوط(3)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اکادمی ادبیات کی چھپی ہوئی ضخیم کتاب ’’مزاحمتی ادب ۔اردو‘‘، شاید جناب ماجدؔ سرحدی کے توسط سے مجھ تک 1996 میں پہنچی تھی۔ اس کتاب کے مختصر پیش لفظ میں فخر زماں صاحب نے تحریر کیا تھا۔ ’’1977ء  کا مارشل لاء  اور ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت ہماری قومی تاریخ کے دو ایسے بڑے المیے ہیں جنہوں نے ہر سطح پر ہماری قومی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ فکری اورتخلیقی سطح پر ان کا گہرا رد عمل ہوا ہے اور مزاحمتی ادب کے حوالے سے ایک نئی سوچ اور فکر سامنے آئی ہے۔ ہماری ادیبوں کی اکثریت نے اپنی تاریخی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے نہ صرف اس دور سیاہ کو ریکارڈ کیا ہے، بلکہ اس کے خلاف اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی ادب کو ایک نئے شعور سے متعارف کروایا ہے۔۔‘‘ اس کتاب میں شاعروں کی فہرست میں چھیاسی نا م تھے۔

ڈاکٹر وزیر آغا اس میں شامل نہیں تھے

tripako tours pakistan

فون پر بات ہوئی تو میں نے اس کتاب کا ذکر کیا۔ کہنے لگے، ’’خدا جانے کیسے میرا نام رہ گیا۔۔۔‘‘ پھر کچھ سوچ کر بولے، ’’۔۔۔لیکن،ڈاکٹر صاحب، میں بھی تو اس قماش کا شاعر نہیں ہوں، جو ادب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ شاید میں نے اس زمرے میں فِٹ کی جا سکنے والی کوئی نظم لکھی ہی نہ ہو۔
میں نے عرض کیا، ’’یا شاید آپ کی کسی علامتی نظم میں اس طرح کے معانی تلاش کرنے کی کسی نے کوشش ہی نہ کی ہو۔۔۔
بولے، ’’نہیں، اب یاد آتا ہے کہ میں نے لکھی ہی نہیں۔۔

میں نے عرض کیا، ’’کیا واقعی کسی ملک کے سیاسی بحران میں جینوئن آرٹسٹ کو کوئی ایسا مسئلہ بھی درپیش آتا ہے، جب وہ محسو س کرتا ہے، کہ اس کو اس ـمسٗلے پر لکھنا چاہیے۔
کہنے لگے۔’’ میری نظر سے یہ مجلہ نہیں گذرا، لیکن آپ اتنا تو بتائیں کہ مشمولات کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

میں نے عرض کیا،’’بہت سے افسانے اور نظمیں یا غزلوں کے اشعار اچھے ہیں، لیکن چونکہ ان کے نیچے سن ِ تالیف یا کس رسالے میں شامل ِ اشاعت ہوئے ،اس کا اندراج نہیں ہے، یہ معلوم کرنا واقعی نا ممکن ہے کہ آیا برسوں پہلے وہ اُس دور میں لکھے بھی گئے یا نہیں۔ اس بات سے قطع نظر بھی مضامین نظم و نثرمیں بہت سے ایسے بھی ہیں جن سے یہ ظاہر ہی نہیں ہوتا کہ وہ پاکستان میں آمریت کے کس دور کے بارے میں ہیں ، کیونکہ۔۔”

میری بات کاٹ کر بولے، ’’ چھوڑئیے اس بات کو، معاف کر دیجئے،مجھے یہ تو بتائیں کہ مزاحمتی ادب یا پروٹسٹ لٹریچر کو وقتی یا short-lived کیوں کہتے ہیں آپ؟

میں نے عرض کیا، ’’اگر استعاراتی سطح پر اس سے کچھ یوینورسل معانی بھی اخذ کیے جا سکیں اور تاریخ کے دھارے میں بہتے ہوئے چالیس پچاس برس کے بعداسے صرف ان واقعات کے حوالے سے ہی نہ پڑھا جائے، تو شاید اس کی عمر لمبی ہو سکے۔

بولے، ’’ یہ شرط لازمی ہے۔۔۔آپ مجھے اس بارے میں تفصیل سے ایک خط لکھ دیں تو میں ممنون ہوں گا۔

تب میں نے انہیں ایک خط لکھا اور ایک تاریخی واقعے کی بابت بتایا۔ میرے اس خط کی نقل۔ جو میں نے اپنے کمپیوٹر میں رکھ لی تھی، حسب ذیل ہے۔

’’مکرمی و محبی ڈاکٹر صاحب۔ آداب۔ آپ سے فون پر جو بات ہوئی تھی ، چاہیے تو یہ تھا کہ آج میں فون پر ہی آپ سے بات کرتا ، لیکن کیا کروں ،بسیار کوشش کے باوجود آپ کا نمبر نہیں ملا۔ ہر بار ایکسچینج سے یہ ریکارڈنگ ملی کہ یہ نمبر غلط ہے۔ پھر ڈاکٹر انور سدّید صاحب کا نمبر ڈائل کیا تو بھی فون پر یہی جواب ملا۔یقین ہو گیا کہ ایکسچینج میں ہی کچھ خرابی ہے۔یہاں امریکہ  میں یہ بات شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے ملکوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔

آپ نے مجھے تفصیل سے فون پر بتانے کے لیے کہا تھا۔ امید ہے ، میرا یہ مکتوب اس واقعے کو تحریر میں لا کر زیادہ آسانی سے اس کی اہمیت بیان کر سکے گا۔ویتنام کی جنگ میں جب امریکی ہوائی جہاز اس چھوٹے سے ملک پر نہ صرف ’کارپٹ بامبنگ‘ کر رہے تھے اور قدم قدم پر گرتے ہوئے بم انسانی زندگی کا خاتمہ کر رہے تھے، بلکہ وہ کیمیکل بھی چھڑک رہے تھے جن سے سب درخت، پودے، جھاڑیاں، فصلیں، گھاس پھوس مر جاتے ہیں اور اس زمین پر آنے والے برسوں میں کچھ نہیں اگتا، تو فرانس کے شہرہ آفاق فلسفی ادیب ژاں پال سارترؔ نے ایک خط ہو چی مِنھ کے نام تحریر کیا تھا جس میں اس نے اپنے ویتنام آنے اور ویتنامی فوجیوں کے دوش لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس خط کے سلسلے میں جو رد عمل فرانس کے دوسرے ادیبوں نے کیا تھا اس سے ظاہر تھا کہ کسی جذباتی لمحے میں سارترؔ اپنا سارا فلسفہ بھول گیا اور جلدی میں یہ خط تحریر کر دیا۔ اخباروں کے ادبی ضمیموں اور ادبی رسائل کے اداریوں میں شدید رد ِ عمل ہواتھا جس میں کسی بھی قومی یا بین الاقوامی واقعے یا حادثے کے بارے میں ایک آرٹسٹ کے فرائض پر بحث کی گئی تھی۔یہ بات بھی کچھ مضحکہ خیز سی لگتی ہے کہ چند ہفتوں کے بعد سارترؔ نے اپنا دفاع کچھ عجیب الفاظ میں کیا۔ اس نے کہا کہ وہ جہاں ایک مصنف، دانشور اور فلسفی ہے، وہاں ایک جذباتی انسان بھی ہے۔ دانشور اور مصنف ہونے کی حیثیت میں اسے یقینا یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ ایک ایسے بین الاقوامی سیاسی مسئلے پر اپنا رد عمل اس طرح کھل کر ظاہر کرتا جو نہ صرف صدیوں کے انسانی سفر میں ایک لمحے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا بلکہ چند برسوں میں ہی بھلا دیا جائے گا۔ صلیبی جنگیں دو تین صدیوں تک جاری رہیں اور ان کے بارے میں یورپ کی مختلف زبانوں میں سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں، لیکن آج انہیں کون یاد کرتا ہے؟ جبکہ انقلاب فرانس کے بارے میں کارلائلؔ کی ضخیم کتاب کو بھلا دیا گیا ہے لیکن اس پس منظر میں لکھا گیا چارلس ڈِکنزؔ کا لکھا ہوا ناول آج تک ایک مکمل دستاویز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ میں نے وہ مکتوب ایک جذباتی انسان کے طور پر تحریر کیا تھا جسے ہوچی مِنھ کے کمیونزم سے کوئی ہمدردی نہیں، لیکن جسے شہریوں کے قتل عام سے اور ماحول کو تباہ کرنے والے مہلت ہتھیاروں سے نفرت ہے ۔۔‘

میں نے وزیر آغا صاحب سے کہا، ’’وہی ویتنام ہے، جس کی فیکٹریوں میں آج سرمایہ دار ملکوں، خصوصاً امریکا کی کمپنیوں کو در آمد کر نے کے لیے قمیضوں اور پتلونوں کی سلائی ہوتی ہے، سویٹریں ان مشینوں پر بُنی جاتی ہیں جو امریکن کمپنیوں کی ارسال کردہ ہیں۔ اس کمیونزم کا کیا ہوا، جس کا خواب ہو چی مِنھ نے دیکھا تھا اور جس کے استحکام کے لیے چین کی مدد سے اس نے امریکہ کے خلاف لڑائی نہ صرف برقرار رکھی تھی بلکہ اس میں فتح حاصل کی تھی؟‘‘ میں نے یہ بھی کہا کہ ویتنام کی جنگ کے خلاف جو نظمیں ان برسوں میں یہاں امریکا میں لکھی گئیں ان کی تعدا د ہزاروں میں ہے۔ صر ف ڈراموں کی تعداد ہی تین سو سے زیادہ ہے۔ یہ سب کتابیں شاید اُس وقت شوق سے پڑھی بھی جاتی رہیں تھیں، لیکن اب یہ نا پید ہیں۔ لائبریریوں نے انہیں فاضل اور فضول سمجھ کر کوڑے دانوں میں پھینک دیا ہے۔ادب کے نصاب سازوں نے اُس دور کی اس موضوع پر لکھی گئی تحریروں کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ عصری ادب کی تاریخوں میں پورے دور کا ذکر ایک دو پیراگرافوں میں کر دیا جاتا ہے، اور بس۔تو کیا اس اڈنبر کا جسے پاکستان میں ’’مزاحمتی ادب‘‘ کا نام دیا گیا ہے، وہی حشر ہو گا؟۔۔احباب کو آداب۔ نیاز مند: ستیہ پال آنند

دو تین ہفتوں کے تعطل کے بعد میں نے فون کیا، انہیں میرا خط ملا گیاتھا اور وہ میرے فون کے انتظار میں تھے، لیکن کسی خانگی وجہ سے پریشان سے تھے، زیادہ بات چیت نہیں ہو سکی ۔ انہوں نے صرف اتنا کہا، ’’میں نے آپ کا خط پڑھ لیا ہے۔ کچھ دوستوں کو پڑھ کر سنایا بھی ہے، جنہیں سارترؔ کے بارے میں اس واقئعے کا علم نہیں تھا۔ میں آپ کے ساتھ تفصیل سے بات کرتا لیکن بوجوہ آج نہیں کر سکتا، ۔ سارترؔ کے بارے میں مجھے یہ علم نہیں تھا، آپ مجھے کچھ میٹیریل ڈاک سے بھیج دیں۔‘‘
میں نے وعد ہ کر لیا۔ کچھ تلاش کے بعد میں نے انہیں نہ صرف اس واقعے کے متعلق فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں پندرہ بیس صفحات فوٹو کاپی کر کے بھیج دیے، بلکہ ایک خط بھی لکھا، جو انگریزی میں تھا، اور جس کی نقل آج تک میرے کمپیوٹرمیں محفوظ ہے۔ میں وہ خط اور اردو میں موصول شدہ ان کا جواب یہاں ری پروڈیوس کر دوں گا۔

خود سے پوچھتا ہوں
کیا وزیر آغا مرحوم کے بارے میں یہ نوشتہ یہاں ہی ختم کر دیا جائے؟ خود سے پوچھتا ہوں۔ تو جواب ملتا ہے ۔۔نہیں! وہ اس لیے کہ چونکہ میری اس خود نوشت سوانح کا بنیادی مقصد ہی یہ بتانا ہے کہ میں نے کس کس سے کیا کیا کچھ سیکھا، یا ہندی میں کہیں تو ایسے کہیں گے، کیا کچھ ’’گرہن‘‘ کیا، تو کیا یہ عجیب نہیں لگے گا کہ ڈاکٹر وزیر آغا پر بات کو مختصر کر دیا جائے؟دنیا کی چار دِشاؤں  سے، ایک درجن سے بھی زیادہ زبانوں میں لکھنے والوں سے ،میں نے ایک لالچی بھکشو کی طرح گیان کی بھکشا پائی ہے تو اس مرّبی کا ذکر ادھورا چھوڑ دوں جس کی بھکشا میرے کمنڈل میں اب تک پڑی ہوئی ہے؟ وہ تو خود اتنے ’’اُدار ہردے‘‘ یعنی فراخدل واقع ہوئے تھے کہ کہا کرتے تھے، ستیہ پال آنند سے بات چیت میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

جاری ہے




بشکریہ

جواب چھوڑیں