خالد رحمان : خودی سے مرد خود آگاہ کا جلال و جمال – سید ایاز محمود

سن ۱۹۸۴ کا اختتامی مہینہ تھا۔ میں نے مقابلے کا تحریری امتحان دیا ہوا تھا جس کا نتیجہ ابھی مہینوں دور تھا۔ ایک دن ابو احمد عاکف جو اسٹاف ٹاؤن، جامعہ کراچی میں میرے پڑوسی اور دوست تھے اور سی ایس ایس کے امتحان منعقدہ ۱۹۸۲ میں اوّل پوزیشن لے کر ملک گیر شہرت پا چکے تھے، مجھے ایک دن اورینٹ ایڈورٹائزنگ کے دفتر لے گئے جس کی غرض و غایت یہ تھی کہ امتحان اور اس کے حتمی نتیجے کے دوران وقت کو کسی نتیجہ خیز سرگرمی میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ آمدنی کے ساتھ ساتھ دفتری ماحول میں کام کرنے کا کچھ تجربہ بھی حاصل کیا جا سکے۔ سرکاری نوکری سے پہلے عاکف خود بھی اورینٹ میں کام کرتے رہے تتھے۔

ہم کمپنی کے ڈائرکٹر جناب مسعود ہاشمی کے دفتر پہنچے جہاں ایک رسمی انٹرویو کے بعد میرا تقرر بطور کاپی رائٹر کر دیا گیا۔ کاپی رائٹنگ سیکشن دفتر کی عمارت کے پہلے فلور پر تھا۔ یہاں چیف کاپی رایٹر خالد رحمان تھے جنہوں نے مجھے میری دفتری ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں بتائیں۔ انٹرویو کے دوران تنخواہ کا سوال سرے سے موضوع گفتگو ہی نہیں بنا۔ اس بابت اس وقت پتا چلا جب مہینے بعد تنخواہ کا لفافہ میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ تنخواہ خاصی معقول اور میری توقع سے کچھ زیادہ ہی تھی – بعد میں پتہ چلا کہ مہینے بھر کا کام دیکھنے کے بعد خالد صاحب نے اس بابت پُزور سفارش کی تھی۔

مجھے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ خالد صاحب متفقہ طور پر ہر دل عزیز شخص ہیں جن کے کام اور برتاؤ کی وجہ سے کمپنی میں بہت عزت ہے۔ اس وقت خالد صاحب کی عمر ۳۴/۳۵ برس تھی مگر کمپنی میں با لحاظ عمر اور تجربہ بہت سینئیر افراد بھی ان سے مرعوب رہتے تھے۔ خالد صاحب عزت کرنا اور عزت کروانا جانتے تھے۔ معروف صحافی ظفر صمدانی جب بھی خالد صاحب سے ملنے اورینٹ آتے تو خالد صاحب اپنی “افسرانہ” کرسی سے اٹھ کر ملاقاتیوں والی کرسی پر ان کے ساتھ بیٹھتے۔ یہ ان کا ایک سینئر صحافی کو تکریم دینے کا انداز تھا۔

M. Khalid Rahman - Pakistan | Professional Profile | LinkedInپھر مجھے اندازہ ہوا کہ خالد صاحب اپنے پیشہ ورانہ کام کے حوالے سے غیر معمولی طور پر باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ ادب اور فنون کا اعلی ذوق بھی رکھتے ہیں۔ ان سب عوامل کی وجہ سے بہت جلد ان کے ساتھ احترام اور انسیت کا وہ رشتہ قائم ہوا جس میں گزرتے وقت کے ساتھ استحکام آتا گیا۔ چند مہینوں بعد تحریری امتحان کا نتیجہ آ گیا جس کے بعد تین سو نمبروں پر مشتمل انٹرویو کا ہفت خوان طے کرنا تھا۔ یہ انٹرویو ایک مشکل مرحلہ تصور کیا جاتا تھا جس میں امیدوار کو پانچ سینیر ترین حکومتی افسران کے پینل کے سامنے اپنی قابلیت اور اعتماد کا مظاہرہ کرنا ہوتا تھا۔ خالد صاحب کو جب انٹرویو کا پتہ چلا تو انہوں نے ہمت بڑھائی اور کہا کہ “جتنا میں تمہیں جانتا ہوں اس کی بنیاد پر یہ اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ تمھارے لئے یہ مرحلہ چنداں دشوار نہ ہو گا”۔ ان کی اس بات سے میرے اعتماد میں کئی گنا اضافہ ہوا اور میں اس کار دشوار کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگا۔

اس دوران میں خالد صاحب کو خاصا جان چکا تھا اور اس جان پہنچان کے نتیجے میں یہ یقین ہو چلا تھا کہ ہمارا یہ رشتہ اس دفتر تک محدود نہیں رہے گا۔ خالد صاحب گہری وابستگیوں کے آدمی تھے۔ انہوں نے میری ساخت و پرداخت اور تراش خراش میں اہم کردار ادا کیا اور میں نے یہ جانا کہ آدمی میں خود شناسی، اعتماد اور خودداری ہو تو اس کے لئے کوئی کام مشکل نہیں رہتا۔ خالد صاحب ایک بہترین لکھاری تھے جو صحت زبان کے معاملے میں کسی سمجھوتے کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نے ہمیشہ لفظوں کو ان کی درست ترین مناسبت کے ساتھ استعمال کرنے کی تلقین کی۔ وہ ڈکشنری ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے اور اکثر و بیشتر اس سے استفادہ کرتے۔ ایک مختصر عرصے میں ان کی دی ہوئی یہ تربیت میری بعد میں آنے والی پیشہ ورانہ زندگی میں ہمیشہ کام آئ۔

خالد صاحب کے اپنے کام سے خلوص کے بارے میں دو آراء نہیں تھیں۔ انہوں نے عام روئیے کے برخلاف اپنے کام کو بیگار سمجھنے کے بجائے ایک مشن کا درجہ دیا جس کے شداید کو وہ اپنی شگفتہ مزاجی اور حوصلے سے آسان کر لیا کرتے تھے۔ کام اشد ضروری نوعیت کا ہوتا تو دفتری اوقات کار ان کے لئے بے معنی ہو جاتے۔

اس میدان میں بابائے اشتہار سازی David Ogilvy خالد صاحب کی پسندیدہ ترین شخصیت تھے۔ Ogilvy کی کتابیں خالد صاحب نے پڑھی ہوئ تھیں جن کے بیشتر حوالہ جات انہیں زبانی یاد تھے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش میں اشتہار سازی کے بین القوامی جرائد اور مختلف انسائ کلو پیڈیاز ہمہ وقت ان کے مطالعے میں رہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مغربی ممالک کے بنے ہوئے اشتہارات کی نقل تو کسی حال میں نہیں کرنی چاہئے بلکہ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم میں بھی اس معیار کو چھو لینے کی تحریک پیدا ہو۔

میں نے ان سے سیکھا کہ کاپی رائٹر کا کام اشتہاری مواد کو فقط تحریر کرنا ہی نہیں ہے بلکہ وہ اس بنیادی تصور کو لے کر چلتا ہے جس کے تحت کسی اشتہاری مہم کو لانچ کیا جاتا ہے۔ اسے اشتہار کی تکمیل شدہ صورت کو پیشگی طور پر ذہن میں رکھتا ہوتا ہے جس کے لئیے وہ اپنی قوت متخیلہ سے بھرپور کام لیتا ہے۔ پھر اسے ان مخصوص صارفین (target audience) کی نفسیات کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جو بالخصوص اس اشتہار کا ہدف ہوتے ہیں۔ پھر اشتہار کو سننے، دیکھنے یا پڑھنے کے لئے رغبت دلانے کا پہلو بھی بہت اہم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا بنایا ہوا اشتہار دیگر اشتہارت کے ہجوم میں کہیں گُم ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ صنعت اشتہار سازی کو تخلیقی سطح پر پیشے کے طور پر اختیار کرنے والے بیشتر خواتین و حضرات خالص ادبی معاملات میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ شان الحق حقی، کیف رضوانی، حمایت علی شاعر، کیف بنارسی، مہدی ظہیر، نفیس فریدی، منو بھائ، ظفر اللہ پوشنی، شبی فاروقی، انور مقصود، جاوید جبار، ایس ایم شاہد، قیصر عالم، شوکت عابد، سلیم مغل، عافیہ سلام، ڈاکٹر محمود غزنوی، ابو احمد عاکف، خلیل اللہ فاروقی، اخلاق احمد، انیق احمد، مبین مرزا، نجمہ صادق، تہمینہ احمد اور خالد رحمان وہ چند نام ہیں جو اس وقت بلاتردد یاد آرہے ہیں۔


خالد رحمان نے ۱۹۵۰ میں اس دنیائے رنگ و بو میں آنکھیں کھولیں۔ حکیم فضل الرحمان ان کے والد تھے جو ۱۸۸۶ میں ٹونک، راجھستان میں پیدا ہوئے۔ اس اعتبار سے خالد رحمان اپنے والد سے ۶۴ برس چھوٹے تھے۔ فضل الرحمان صاحب اپنے وقت کے نامور حکیم، اور حکیم اجمل خان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ طبی تحقیق حکیم فضل الرحمان کی دلچسپیوں کا محور تھی۔ آپ طب کی متعدد کتابوں کےمصنف اور مترجم بھی ہیں۔ حکیم صاحب طبیہ کالج، دہلی کے نائب پرنسپل اور جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد دکن میں قائم کردہ یونانی شفا خانہ کے سربراہ بھی رہے۔ آپ کا انتقال ۱۹۷۰ میں بمقام حیدر آباد سندھ میں ہوا۔ خالد صاحب نے اپنے والد سے کچھ حکمت کے گر بھی سیکھے۔ کچھ بنیادی ادویات بھی بنا لیتے تھے۔

خالد صاحب کے آباو اجداد کا تعلق کابل میں احمد زئی پٹھانوں کے قبیلے جبرخیل سے تھا۔ انیسویں صدی میں جب کابل میں امیر عبدالرحمن کے خلاف بغاوت ہوئ تو انہیں مجبوراً پشاور ہجرت کرنی پڑی۔ اس کے بعد اس خاندان کے افراد چارسدہ، مردان اور صوابی کے مختلف گاؤوں میں قیام پزیر رہے جہاں انہوں نے دینی معلم کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ نقشبندی صوفی سلسلے کی ترویج میں اپنا کردار ادا کیا۔ خالد صاحب کے دادا اخوند عبدالرحمان کا پیدائشی تعلق پشاور سے تھا۔ آپ ایک صاحب حال صوفی اور مبلغ قرآن تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے طول عرض کا سفر کیا اور ٹونک، احمد آباد، پٹنہ، نوا کھالی، اور فتح پور دہلی میں قیام پزیر رہے۔

خالد صاحب کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز صحافت سے ہوا۔ وہ ایک انگریزی اخبار The Starسے منسلک رہے۔ بعد ازاں انہوں نے قائد اعظم اکیڈمی کو جوائن کر لیا اور یہاں پروفیسر شریف المجاہد کی سرپرستی میں علمی کتابوں کی تدوین و ترجمہ کا کام سیکھا۔

سن اسی کی دھائی کے ابتدائ برسوں میں خالد صاحب بطور چیف کاپی رائٹر، اورینٹ ایڈورٹائزنگ میں آ گئے۔ میں ۱۹۸۴ میں جب اس ایجنسی سےمنسلک ہوا تو اس وقت خالد صاحب کاپی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے۔ اورینٹ کے علاوہ انہوں نے ملک کی موقر ترین اشتہار ساز ایجنسیوں مثلا انٹر فلو، مین ہیٹن، پرسٹیج اور کچھ دیگر ایجنسیوں میںCreative Director کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ خالد صاحب نے WizAds کے نام سے اپنی ایک ایجنسی کا آغاز کیا جس میں ان کو ابتدائ طور پر کچھ کامیابی بھی ملی مگر وہ جلد ہی اپنے بنیادی سروکار یعنی صحافت کی طرف لوٹ گئے۔

خالد صاحب بہت اعلی پائے کے کاپی/کانسپٹ رائٹر تھے۔ انہیں انگریزی اور اردو، دونوں زبانوں پر یکساں عبور تتھا۔ خاص طور پر انگریزی زبان پر ان کی مہارت قابل دشک تھی۔ وہ غیر معمولی طور پر ذہین اور بامطالعہ شخص تھے اور علوم و فنون کے بیشتر شعبہ ہائے جات میں کچھ نہ کچھ درک رکھتے تھے۔ انگریزی ادب سے انہیں خاص شغف تھا خاص طور پر انیسویں اور بیسویں صدی کے امریکی مصنفین سے انہیں بہت لگاؤ تھا۔ غالبا اسی وجہ سے کئی مرتبہ ان کی لکھے ہوئے اشتہاری پیغامات کو انعام کا مستحق گردانا گیا۔ خالد صاحب تحریر کے معیار پر کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرتے تھے اور ان کا علمی و ادبی ذوق انہیں بہترین سے کم پر مطمعن نہُ کرتا۔ دوران ملازمت وہ دفتری مناقشوں، چکمکوں اور رقابتوں سے کوئ علاقہ نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے اصولوں کے تحت نوکری کی اور جب کبھیی یہ لگا کہ ان کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا ہے، استعفی دے کر گھر چلے آئے۔

خالد صاحب ایک اچھے استاد اور منتظم بھی تھے۔ انہوں نے آج سے ۳۵ برس قبل حیدرآباد کالونی، کراچی انگریزی زبان سکھانے کا ایک ادارہ The Living Language قائم کیا تھا جس کا نصاب بھی ان ہی کا مرتب کردہ تھا۔
پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا سلسلہ انہیں بیرون ملک بھی لے گیا۔ آج سے تقریبا دس برس قبل وہ اپنی بڑی بیٹی سے ملنے امریکہ تشریف لے گئے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہاں ان کا بیشتر وقت کتب خانوں کے دوروں اور مختلف ادبی و علمی سیمیناروں کی شرکت میں صرف ہوا۔

خالد صاحب متلون مزاج شخص تھے۔ انہوں نے کئی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ صحافت اور صنعت اشتہار سازی کے علاوہ وہ تعلقات عامہ سے متعلق ایک بڑی کمپنی سے منسلک رہے۔ ان کی آخری صحافیانہ ذمہ داری اخبار ڈان تھا جہاں وہ Science dot com نامی ہفتہ وار میگزین کے انچارج تھے۔ خالد صاحب نے ایک برقی فائن آرٹ میگزینIris کے مدیر کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رسالے “نبض” کی ادارت بھی کی۔ آپ اس جریدے کے بانی مدیر تھے۔ اسی کی دھائ کے اوائل میں خالد صاحب نے اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے جریدے The Universal Message کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی۔

ایک اعلی پائے کے مضمون نگار ہونے کے ساتھ خالد صاحب بہترین مترجم بھی تھے، انگریزی سے اور اردو سے انگریزی دونوں طرح کے تراجم میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ وہ ایک اچھے افسانہ نویس بھی تھے لیکن اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے اس شعبے کو اپنی تمام تر توجہ نہ دے سکے۔ ان کے کئی افسانے خالد آزر کے قلمی نام سے ملک کے موقر ادبی رسائل میں شائع ہوئے۔ خالد صاحب نے صحافت، صنعت اشتہار سازی اور ابلاغ عامہ کے موضوعات پر طویل اور مختصر دورانئیے کے ورک شاپس منعقد کئے اور ملک کے موقر ترین تعلیمی اداروں میں مہمان مقرر کے طور پر مدعو کئے گئے۔

انتقال سے ایک روز قبل یعنی نو اپریل کو میرا ان کے ساتھ برقی پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ میں نے ایک کتاب بھیجنے کی بات کی تو کہا کہ “منتظر رہوں گا”۔ نہ جانے کس خیال کے تحت یہ شعر بھی لکھا:
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے

آج سے چند برس قبل عارضہ قلب کے شدید حملے ان کو نڈھال کر دیا تھا۔ کچھ عرصے بعد ان کی قوت گویائ بھی متاثر ہو گئی۔

اتوار کے روز ان کو اپنی چھوٹی بیٹی کے گھر جانا تھا۔ پروگرام طے تھا مگر جب فون پر بیٹی سے بات ہوئ تو کہنے لگے کہ “میرا وقت کم رہ گیا ہے۔ نہ جانے تمہارے گھر آ بھی پاؤں گا یا نہیں”۔

انتقال سے ایک روز قبل اپنے قریبی دوستوں سے برقی پیغامات کا تبادلہ کیا۔ لگتا ہے انہیں اپنے جانے کا احساس ہو چکا تھا اور وہ اپنے چاہنے والوں کو خدا حافظ کہہ رہے تھے۔

دو بیٹیوں کے علاوہ خالد صاحب نوفل شاہ رخ کے والد تھے۔ نوفل معروف علمی و تحقیقی ادارے انسٹیٹوٹ اوف پالیسی اسٹڈیز میں جنرل منیجر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں