گھڑی گھڑی اسے روکو گھڑی گھڑی سمجھاؤ مگر یہ دل ہے …

گھڑی گھڑی اسے روکو گھڑی گھڑی سمجھاؤ
مگر یہ دل ہے کہ کچھ دیکھتا ہے آؤ نہ تاؤ

اب اس کے درد کو دل میں لئے تڑپتے ہو
کہا تھا کس نے کہ اس خوش نظر سے آنکھ ملاؤ

عجب طرح کے جھمیلے ہیں عشق میں صاحب
برت سکو تو ہو معلوم آٹے دال کا بھاؤ

چلو وہ اگلا سا جوش و خروش تو نہ رہا
مگر یہ کیا کہ ملو اور ہاتھ بھی نہ ملاؤ

More

جواب چھوڑیں