ظلمت سے نور کا سفر(قسط15)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش


سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں

زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
“اے ریشمہ سن میری بات”
ضحی کی اماں نے چھوٹی بیٹی کو آواز دی ۔
“جی اماں کیا ہے؟”
اور وہ ضحی کے گھر سے جانے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل، اس کے کاروبار اور اثاثہ جات پر مشاورت کرنے لگے ۔
ازلی بے حس ، خود غرض اور لالچی طبیعت کی حامل اس کی بہن پہلے ہی اس کی آمدن پر نظر رکھتی تھی ۔مکر و فریب اور جذباتی بلیک میلنگ سے اپنی خواہشات کی تکمیل کرنا اس کی فطرت تھی ۔اب اماں کی طرف سے حوصلہ افزائی گویا اس کی لاٹری نکلنے کے مترادف تھا ۔۔۔ ضحی کے بوتیک کی انچارج پہلے ہی اپنی میڈیم کی بیماری اور گھر والوں کی لالچی طبیعت کی بنا پر کاروبار پر نظر جمائے بیٹھی تھی ۔
“اماں میں بوتیک کی انچارج سے بات کرکے کاروباری معاملات کو ہاتھ میں لیتی ہو، لیکن ہمیں پہلے آپی کے تمام ڈاکومنٹس، بینک سے منسلک اس کے اکاونٹ کی تفصیلات وغیرہ وغیرہ لینے ہو گے تاکہ سرمایہ ہمارے ہاتھ میں آ جائے ۔”
ریشمہ چلتا کاروبار اور اس کے اثاثہ جات کو اپنے ہاتھ میں کرنے کی پلاننگ کرنے لگی ۔ ضحی کا شادی کے لیے اکھٹا کیا زیور، شو روم اور بینک بیلنس ہدف تھا ۔اور اماں کی طرف سے گرین سگنل نے اسے اب شہ دے ڈالی ۔
مزید مشورہ کے لیے صبح وہ بینک گئی
” ہماری بہن پاگل ہو گی ہے ہم اس کا علاج کروا رہے ہیں، اس وقت وہ ذہنی امراض کے ادارے میں داخل ہے ۔ چونکہ کاروبار، چیزیں اس کے نام سے ہیں ۔ عدم توجہ کی بنا پر کاروبار تنزیلی کا شکار ہو رہا ہے ۔ ان معاملات کو خود سے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ تاکہ جب وہ ٹھیک ہو جائے تو زندگی میں پھر سے اپنے معاملات دیکھے ۔ہم آپ سے مشورہ کے لیے آئیں ہیں تاکہ راہنمائی ملے ”
مکر سے کام لیتے ہوئے ۔ریشمہ نے بینک مینجر سے بات کی ۔
” مجھے سن کر بہت افسوس ہوا ۔ ہماری بہت ہی اچھی ملنسار کسٹمر ہیں وہ، دیکھیں میڈیم قانونی طور پر بہت سی چیزیں ہوتی ہیں ۔پاور آف اٹارنی ، یا پاگل خانے کا سرٹیفیکیٹ چاہیے ہوتا ہے کہ یہ فرد عملی زندگی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا ۔ اس لیے یہ یا کوئی اس چیز کا ناجائز فائدہ اٹھاتے نقصان سے دوچار نہ کر دے ۔مریض کے تمام اثاثے ہمارے حوالے کیے جائیں ۔جب ہی ہم ان کے اثاثے آپ کو حوالے کر سکتے ہیں ۔”
لٹکتے چہروں کے ساتھ ماں اور بیٹی گھر واپس آئیں ۔انہوں نے اپنی طرف سے اسے پاگل خانے بھیج کر جان ہی تو چھوڑائی تھی ۔
” کاش اسے پاگل خانے بھیجتے وقت چیزیں تو کنٹرول میں لے لیتے ” کف افسوس سے دونوں ماں بیٹی نے ہاتھ ملے ۔
” اماں ایسے کرتے ہیں واپس چلتے ہیں ۔زیادہ مسئلے بینک سے ہیں ایسا کرتے اس سے اے ٹی ایم کارڈ کے ساتھ بینک چیک بک پر دستخط لے لیتے ہیں ۔اور پھر رقم نکلوا کر اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لیں ”
ریشمہ نے تجویز دی ۔اور اس کی ماں نے اتفاق کر لیا ۔
دو ماہ بعد!
“ضحی سے ملنا ہے ۔ ہم اسے یہاں داخل کروا کر گے تھے کیسی ہے ہماری بیٹی؟ ”
ضحی کی اماں نے تمام تر فکر مندی ممتا کی چاشنی کو اپنے لہجوں میں سمیٹ کر وارڈن سے بات کی ۔ جسے سن کر ایک طنزیہ مسکراہٹ وارڈن کے چہرے پر نمودار ہوئی ۔
“جی بی بی وہ تو یہاں سے جا چکی ہیں”
ایک بم ہی ان کی سماعتوں میں پھٹا”
“کس کے ساتھ؟ اس کا ہمارے علاوہ تو کوئی بھی نہیں ۔ آپ نے کیسے جانے دیا؟ ”
” میڈیم آج دو ماہ بعد آپ اس کا پتہ کرنے آئی ہیں اچھی ماں اور بہن ہیں ۔ یہ نمبر ہے جن کے ساتھ وہ چلی گئی اس پر رابطہ کریں ”
وارڈن نے انہیں شرمندہ کرنے کی ناکام سی کوشش کی ۔ جس کا دور دور تک کوئی اثر بھی نہیں  دکھائی دیتا تھا ۔کسی نے درست ہی کہا ہے ۔مادیت پرست رشتوں کے احساس سے نابلد، خواہشات کے غلام انسان ہوتے ہیں ۔
” چلو ریشمہ فون کرکے دیکھتے ہیں کون سے اس کے ہمدرد ہیں ”
صبح چاشت کے وقت آمنہ نے موبائل-فون گرنے کی آواز سنی اور پھر تب سے وہ ہاسپٹل تھی۔ ضحی کے گھر سے فون تھا۔ آمنہ پاگل خانے میں اپنا نمبر لکھا آئی تھی کہ شاید ان کو رحم جاۓ پھر بالآخر رشتے ہی انسان کا اصل ہوتے ہیں۔ ماں کے رحم سے جو دھاگہ انسان کے ساتھ جڑتا ہے پھر چاہے انسان دنیا میں کہیں چلا جاۓ وہ رحم سے منسلک رہتا ہے ۔رحم سے جڑے رشتے تکلیف دہ بھی ہوں تو یا تو انسان الجھے دھاگے کی طرح بار بار ٹوٹ جاتے ہیں یا پھر کاٹ دیا جاتے ہیں ۔آمنہ کی ساری یہی کوشش تھی کہ یہ دھاگہ اس بار جو ٹوٹا ہے تو پھر ہمیشہ کے لیے مضبوط ہوجاۓ۔ ضحی کو کسی صورت بھی موت کے خوف کے حوالے نہیں کرنا، مگر ضحی کی قسمت کے آج انکا فون آیا بھی تو اس لیے کہ وہ پاگل خانے لوٹ جاۓ تاکہ پاگل خانہ سرٹیفکیٹ جاری کرسکے جو جائیداد کو ان کے حوالے کردے۔
ضحی سوکھی مٹی کہ طرح بُھر کر زمین پہ آ گری ۔آمنہ سارا وقت ہاسپٹل میں خاموش رہی پر گھر جاکر اس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
آمنہ نے وہیں ہاسپٹل کے بنچ پر بیٹھ کر مختلف انسانوں کو دیکھتے ہوۓ سوچا کہ کیا چیز انسان کو پُر سکون بناتی ہے؟
پیسہ امیر کے پاس بھی تو وہ اور سمیٹتا ہے لیکن غریب بھی تو ساری عمر پیسہ کی خواہش کرتا اس کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہے پھر آخر وہ کیا چیز ہے جو ہر حال میں انسان کو مطمئن رکھتی ہے؟یہ وہ سوال تھا جس کے جواب سے وہ ضحی کو جائیداد کے معاملے میں پُرسکون کرسکتی تھی تاکہ پینک اٹیک نہ آئے ۔
واپسی پر گھر جاتے ہوۓ جُھگیوں کے ساتھ سے گزرتے ہوۓ نگاہ ایک سوکھے درخت پہ پڑی، عورت آئی اور اس نے چھابی نکال کر روٹی رکھ کر زمین پہ بیٹھ گئی ۔بس یہ ایک لمحہ کی بات تھی پر آمنہ کے ذہن میں بجلی سی کوند گئی۔
یہ غنـی ہے ۔ غنا کسی بھی چیز سے بے نیاز ہوجانے کو کہتے ہیں۔ اگر دل کو غنی مل جاۓ تو اس کو کوئی چیز پریشان نہیں کرسکتی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یاد آۓ کہ بے انتہا دولت کے باوجود وہ غنی کے اعلیٰ رتبے پہ فائز تھے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امیر نہیں تھے پھر بھی غنی اس قدر کے گھر کی سب چیزیں صدقے میں لے آۓ۔ پر غنی کسی بڑے مقصد، کسی بڑے خواب کو سامنے رکھ کر حاصل ہوسکتا ہے اور اب وقت تھا کہ ضحی کے دل کو غنی اور آنکھوں کو خواب مل جائیں۔
آمنہ نے گھر آکر ضحی سے کہا کہ فریش ہوجاؤ مجھے بات کرنی ہے۔
ضحی سر ہلا کر کمرے میں چلی گئی پر ہاتھ منہ نہیں دھویا، کچھ دیر بعد کمرے سے نکل کر کھانے کی میز پر بیٹھ گئی۔ آمنہ بھی آکر مسکرا کر بیٹھ گئی۔
“دیکھو ضحی جو میں کہہ رہی ہوں۔ غور سے سننا ۔انسان کو زندگی کے آخری لمحہ تک بہت سے معاشرتی عوامل سے نبرد آزما رہنا پڑتا ہے۔
وہ عوامل چاہے سماجی ہو، چاہے معاشی ہو، چاہے سماجی رشتوں کے ناہموار رویوں کا سامنا ہو، چاہے وہ خود کے اندر اٹھنے والے خیالات ۔
جیسے موسمیاتی تبدیلیاں انسان کو متاثر کرتی ہیں۔ ایسے ہی یہ معاشرتی عوامل انسان کو روحانی اور جسمانی طور پر متاثر کرتے ہیں ۔
اس کا اظہار ہمارے لباس، تراش خراش سے لے کر اس کے چہرے کے خدوخال تک سے ظاہر ہوتا ہے۔
تناو زدہ ماحول میں انسان کے الفاظ، لب و لہجہ اور نشست و برخاست تک کا انداز اس کی شخصیت کا پتہ دیتے ہیں ۔ اس کے اردگرد کے ماحول سے اس کی ذات کی کمزوری یا مضبوطی کا اندازہ لگ جاتا ہے۔
ایسے حالات میں انسان کو ہمیشہ اپنی ذات کا خیال دوسروں سے زیادہ رکھنا چاہیے ۔
جیسے مضبوط بنیادوں اور ستونوں پر کھڑی عمارت ہمیشہ زمانے کے گرم سرد کو برداشت کرتی ہے ۔ایسے ہی مضبوط اعصاب، مضبوط کردار کا انسان ثابت قدم رہتاہے ۔ انسان کو ایسے حالات میں اپنی سیلف گرومنگ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے ۔اپنے ظاہر کو کمزور حالات میں ہمیشہ مضبوط کرکے پیش کرنا چاہیے ۔
کمزور اور پست ذہنیت لوگ ہمیشہ خود تو بکھر رہے ہوتے ہیں۔ دوسروں کو بھی بکھیرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔
اپنی ذات کو ہمیشہ ایسے لوگوں اور ماحول سے بچانا آپ پر فرض ہے ۔ چاہے اس کی جتنی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔
ضحی نے انگلیوں کو مروڑتے ہوۓ کہا “میری ساری زندگی کی محنت تھی۔ میرا کاروبار میرا واحد خواب تھا۔ میں تمہاری مشکور ہوں پر ہمیشہ ادھر ہی نہیں رہ سکتی، مجھے دوبارہ سب کرنا ہوگا، میں کیسے کروں گی؟ میرا سب کچھ کھو گیا ہے”
آمنہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا “کاروبار کو چھوڑ دو ۔ذہن سے نکال دو، اصل سرمایہ تمہاری صلاحیت ہے۔ اس وقت تم اہم ہو ۔وہ تمھارا کاروبار اور اثاثے تو چھین سکتے ہیں ۔لیکن تمھارا ہنر، تمھاری قابلیت اور تمھارا نصیب تو نہیں لے سکتے ناااا
میری جان!!! تم ٹھیک ہوجاؤ گی تو سب کچھ دوبارہ بنا لو گی ۔اپنے دل کو بے نیاز کرلو۔ دنیا کی چیزوں سے دل لگتا ہے تو ان کے کھو جانے کا دکھ لگتا ہے ۔دل کو غنی سے مالا مال کرلو پیاری ۔۔”آمنہ نے اپنائیت سے اس کے دکھی دل پر مرہم رکھا ۔
ضحی اپنا ہاتھ آمنہ کے ہاتھ سے چھڑا کر کمرے میں چلی گئی ۔اپنا قلم اور کاپی نکل کر لائینیں کھنچنے لگ گئی ۔
زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے

tripako tours pakistan

دور تک بکھری ہوئی آواز ہے

خامشی اس کی ہے مثل گفتگو

ہر نظر جذبات کی غماز ہے

جاری ہے




بشکریہ

جواب چھوڑیں