پاکستان۔ زمین سے ہر کوئی اونچا دکھائی دیتا ہے۔۔اسد مفتی

ہمارے معاشرے میں جرائم کی رفتار جس تیزی سے بڑھ رہی ہے،اس سے دو ہی نتیجے اخذ کیے جاسکتے ہیں،
پہلا نتیجہ یہ کہ انتظامیہ اور حکومت اس رفتار کو خاطر میں نہیں لاتی،لہذا ان کے نزدیک کوئی تشویشناک بات نہیں،
دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جرائم کو ختم کرنے کے ذرائع انتظامیہ کے پاس نہیں ہیں۔۔لہذا وہ بے بس ہے۔

اور اس پر طرّہ یہ کہ جرائم کی نوعیت میں بھی فرق آچکا ہے،چوری،لوٹ مار،ڈکیٹی،قتل و غارت،تو روز مرہ کے جرائم ہیں،اب ان میں جنسی جرائم بھی نمایاں ہورہے ہیں،جرائم میں اضافے کے کئی اسباب ہیں،معاشرے میں اقتصادی تغیّر رونما ہوچکا ہے،قدیم زمانے کی وہ اخلاقی قدریں ختم ہوچکی ہیں،جن قدروں کے حوالے سے اخلاقیات کا رونا رویا جاتا ہے،ہم معاشرتی تبدیلیوں کو محسوس تو کرتے ہیں لیکن ان کا تجزیہ کرنے کو تیارنہیں،ہماری فکر کے ڈانڈے ماضی سے ملتے ہیں،حال کو دیکھنے اور پرکھنے کی جرات نہیں،
یہی وجہ ہے کہ ان گفتگو اور تحریر مبہم اور غیر یقینی باتیں پائیں گے۔

tripako tours pakistan

جو لوگ کہتے ہیں کہ تنظیمِ نوء کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا،ان کی بات کوئی سننے کو تیارنہیں،اور یہ کہ اب معاشرے میں اصلاحات کوئی معنی نہیں رکھتیں،تنظیمِ نوء کے ضمن میں بنیادی بات تو یہ ہے کہ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ معاشرتی زندگی کی بنیاد نظریات نہیں بلکہ “پیداواری رشتے” ہیں،

معاشرے کی ہیّت اس کی پیداواری صلاحیت کے مطابق نہیں ہے،ہمارے ہاں گزشتہ باسٹھ سالوں سے پیداوار کے ذرائع اور اس کی تقسیم میں بہت تبدیلی آچکی ہے،لیکن ہم اس تبدیلی کو معاشرے کی ہیت پر اثر انداز ہونے نہیں دیتے۔ہم صنعت و تجارت اور زرعی پیداوار کے نئے طریقوں اور انداز کو بحیثیت حقائق نہیں لیتے،

مثال کے طور پر ہم چور بازاری،رشوت،اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بہت کچھ کہتے ہیں،لیکن یہ سوچنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے کہ چوری بازاری اور ذخیرہ اندوزی سرمایہ پرست معیشت کے لازمی پہلو ہیں ا،گر آپ سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت برقرار رکھنے پر تیار ہیں،تو پھر چور بازاری،مہنگائی،ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی لعنت سے چھٹکارہ حاصل نہیں کرسکتے۔

ہمارے ہاں ایسے سیاستدانوں اور رہنماؤں کی کمی نہیں،جو ان معاشرتی برائیوں کو اخلاقیات کی تعلیم سے ختم کرنا چاہتے ہیں،یہ دراصل معاشرتی حقائق سے چشم پوشی کرنے کے مترادف ہے،وہ سرمایہ دار اور جاگیر داروں کے طبقوں کی حیثیت قائم رکھنا چاہتے ہیں،کہ وہ خود سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ ذہنیت کے مالک ہیں۔

پنڈٹ جواہر لال نہرو جاگیرداری کے خلاف اپنے دلائل دیتے ہوئے اکثر کہا کرتے تھے کہ روس نے زار کے بعد یہ کام انتہائی مختصر عرصے میں کرلیا تھا،تو بھارت ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔
ہمارے ہاں کے قائدین اور راہنماؤں کے لیے سائنٹیفک تنظیمِ نوء کا لفظ انتہائی تکلیف دہ بن گیا ہے،دراصل یہی وہ لوگ ہیں،جو معاشرے کی تبدیلی کے خواہاں نہیں م
یہی وہ صاحب اثر ہیں جو تنظیمِ نوء ے لفظ سے بدکتے ہیں،یہ عام لوگوں کی بھلائی ہر گز ہیں چاہتے۔بلکہ یہ لوگ ذاتی ملکیت کو زندگی کا محور سمجھتے ہیں۔اور ملکیت کے زمرے ہی میں اخلاق آجاتا ہے،اور اخلاق بھی ذاتی ملکیت بن گیا ہے،

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرتی زندگی کے اقتصادی اور مادی عوامل کو زیرِ بحث لائیں اور معاشرتی برائیوں اور ان کے اسباب کا سائنٹیفک مطالعہ کریں،اور حقیقت پسندانہ نگاہ سے معاشرے کو دیکھیں،جب تک میں،آپ اور ہم سب ایسا نہیں کریں گے،اُس وقت تک معاشرے میں انتشار موجود رہے گا۔

میرے حساب سے سائینٹیفک تحقیق کا انحصار کسی مسئلے کے بارے میں ذاتی نقطہ نظر،تجزیہ،تجربہ یا احساس پر مبنی نہیں ہوتا،بلکہ تحقیق،ریسرچ اور دستیاب مواد کو سائنسی نقطہ نظر سے زیرِ تجزیہ لانے کا عمل ہے،یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ بتانا بھی ضروری سمجھا ہے کہ پاکستان کی معاشی،سماجی،مذہبی،سیاسی اور اقتسادی و معاشرتی زندگی میں تیزی سے پھیلتی ہوئی کرپشن سے افواجِ پاکستان بھی نہیں بچ سکی،کہ فوج کی طاقت بے حساب ہے،اس لیے اس کی کرپشن کی بھی کوئی حد نہیں،کہ کون اپنے “سیاسی کردار”سے دستبردار ہونا چاہے گا،جب کہ اس کے کردار کے ساتھ وافر مال و دولت وابستہ ہو۔۔

ایک بار اگراس ادارے نے اپنی بیرکوں سے نکل کر اپنے آپ کو ملک شاد باد کی معاشی سٹریم سے جوڑا تو بعض افراد کی دولت میں بے حساب و بے پناہ اضافہ لازم تھا۔
میرے حساب سے جب سے سیاسی اور معاشی مفادات یکجاہوجائیں تو فوج کا پنی بیرکوں میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اس آئیے ایک حکایت سنیے۔۔
یاد رہے کہ اس حکایت کا میرے کالم سے ہر گز کوئی تعلق و واسطہ نہیں،

ایک ایسے ہی انتشار زدہ معاشرے اور لہولہان ملک کا “بادشاہ”جنگل میں شکار کھیلنے گیا،

اس نے ایک  خوبصورت ہرنی کا نشانہ لیا،جو خطا ہوگیا۔۔بولا،بچ گئی
پھر ایک خرگوش کا نشانہ لیا،وہ نشانہ بھی خطا گیا۔۔بولا، بچ گیا
اتنے میں پہاڑسے ایک بھاری پتھر لڑھکا
قریب تھا کہ بادشاہ اس پتھر کے نیچے آکر کچلا جاتا،مگر وہ تیزی سے پہلو بچاگیا
اتنے میں کہیں سے آواز آئی۔۔بچ گیا!

لوگ بچتے ہیں محبت کی پریشانی سے
میں نے سیکھا ہے محبت میں پریشاں ہونا!




بشکریہ

جواب چھوڑیں