آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے…

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
حیرت الہ آبادی ( بحوالہ جواہر سخن صفحہ 546)
…..
چاہت کا جب مزہ ہے کہ وہ بھی ہوں بیقرار
دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی
ظہیر دہلوی (بحوالہ دیوان ظہیر صفحہ 235)
……
کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنادیتے…

More

May be an image of text

جواب چھوڑیں