پیپلز پارٹی بطور سرکاری اپوزیشن۔۔ محمد اسد شاہ


قارئین کو یاد ہو گا کہ 2018 میں سینیٹ انتخابات سے چند دن قبل اچانک ایک رات بلوچستان میں مسلم لیگ (نواز) کی حکومت ختم کر کے ایک نئی حکومت ، اور ایک نئی جماعت بھی قائم کی گئی جس کا نام بی اے پی رکھا گیا – صحافتی و سیاسی حلقے اس نام کو ملا کر پڑھتے ہوئے محبت اور احترام کے ساتھ “باپ” کہتے ہیں – اس واردات میں نامعلوم قوتوں کی راہ نمائی میں پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کی خدمات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ناقابلِ فراموش رہیں گی – یہ تو خیر ماضی کی ایک یاد تھی – لیکن نامعلوم قوتوں اور “باپ” کے ساتھ زرداری صاحب کا نیاز مندانہ تعلق اس واردات کے بعد بھی ، کبھی نہیں ٹوٹا – بل کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں گہرائی اور مضبوطی آتی رہی ہے – اور “باپ” کے جس حکم پر عمل کرنا کسی اور کے بس میں نہیں ہوتا ، اس پر زرداری صاحب عمل کر دکھاتے ہیں اور اسی وجہ سے مطمئن رہتے ، اور ہر تصویر میں مسکراتے نظر آتے ہیں –
“باپ” نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ میں سنجرانی چیئرمین ہو اور گیلانی ڈپٹی چیئرمین ہو – “باپ” کا یہ فیصلہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ، دونو نے نہایت فرمان بردار بچوں کی طرح تسلیم کیا – چناں چہ “باپ” کے حکم پر چند سینیٹرز نے پہلے “حکومت” بن کر سنجرانی کو چیئرمین بنوایا ، پھر نہایت خفیہ طریقے سے ، رات کے چند نامعلوم لمحوں میں “اپوزیشن” بن کر گیلانی کی درخواست پر دستخط کیے – ان نامعلوم اور تاریک لمحوں کا علم انسانوں میں سے “باپ” کے علاوہ صرف دو افراد ، یعنی بلاول اور ان کے والد گرامی کو تھا – یہی وجہ ہے کہ ان تاریک اور خفیہ لمحات میں “باپ” کے ساتھ صرف پیپلز پارٹی کے افراد پہنچے ہوئے تھے – باقی دنیا بھر میں کسی کو خبر ہی نہ ہو سکی کہ “باپ” کے سینیٹرز کس وقت اپوزیشن بنے – اس ساری واردات کا جب راز طشت از بام ہؤا ، تو بجائے شرم سار ہونے کے ، بلاول زرداری خود کو اپوزیشن بھی کہہ رہے ہیں اور اپوزیشن کے سینٹرز پر الٹا طنز کرتے اور ٹھٹھا اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹھنڈا پانی پئیں – سیاست میں لوگ پہلے بھی ننگے ہؤا کرتے تھے ، لیکن کچھ نہ کچھ آڑ بنا کر ، چند گنے چنے لوگوں کے سامنے – اور اگر بات عوام تک پہنچتی ، تو اول تو مکر جاتے ، جھوٹے بہانے گھڑتے ، یا پھر مصنوعی شرمندگی کا اظہار کرتے تھے – لیکن زرداری اور ان کے صاحب زادے نے ملکی سیاست کو ایک نئی روایت سے روشناس کرایا ؛ یعنی اگر آپ ننگے ہو جائیں تو شرمانے کی بجائے فخر کریں ، اس کو اپنی “مہارت” اور کامیابی قرار دیں اور اعتراض کرنے والوں کو وہ کھری کھری اور الٹی سیدھی سنائیں کہ ہر طرف دھول اڑنے لگے – کسی کو کچھ سجھائی نہ دے اور آخر کار بات آئی گئی ہو جائے –
دوسری طرف مسلم لیگ (نواز) ہے – اگر آپ مانتے ہیں کہ پاکستان میں اصل حکومت کسی نادیدہ مخلوق کے ہاتھوں میں ہے ، تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ پاکستان میں اصل اپوزیشن صرف مسلم لیگ (نواز) ہے – کیوں کہ گزشتہ کئی سالوں ، خصوصاً 1999 سے اب تک ، ہر فیصلے میں اصل فائدہ کسی نادیدہ مخلوق کا ہوتا ہے ، اور ہر فیصلے میں اصل نقصان صرف مسلم لیگ نواز (نواز) کا ہوتا ہے – باقی سب جماعتیں مختلف سمتوں میں شطرنج کے مہروں کی طرح حرکت کرتی ہیں – اس کے باوجود مسلم لیگ (نواز) کے ہاں بچگانہ پن ، بل کہ حماقتوں کا دریا موج زن ہے – اتنی اذیتوں ، تحقیر ، بدنامی ، پروپیگنڈہ ، قید و بند ، گالم گلوچ ، پتھراؤ اور نااہلیوں کے فیصلوں کے باوجود عقل کا دامن مسلم لیگ (نواز) کے ہاتھ نہیں آ سکا – آزاد کشمیر میں مسعود خان نامی شخص کو صدر بنایا – آج تک کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس انتخاب کے پیچھے کون سی حکمت پوشیدہ تھی – موصوف نے مسلم لیگ (نواز) کے ٹکٹ پر صدر بننے کے بعد آج تک کبھی مسلم لیگ (نواز) کا نام تک لینا گوارہ نہیں کیا – روبوٹ کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے چلتے رہتے ہیں اور بس – آج بھی لگتا ہے کہ کوئی سرکاری ملازم ہے جو افسروں کے حکم پر چلنے پر مجبور ہے – اسی طرح آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (نواز) کے ساتھ بھوربن میں ایک تحریری معاہدے کے بعد اعلانیہ مکرتے ہوئے یادگار جملہ کہا؛ معاہدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے -” شرعی لحاظ سے تو یہ جملہ قابلِ گرفت تھا – لیکن حیرت اس بات پر کہ پھر بھی مسلم لیگ (نواز) زرداری صاحب کے ساتھ معاہدے کرتی اور پھر پچھتاتی رہتی ہے -مسلم لیگ (نواز) کو یاد رکھنا چاہیے کہ زرداری صاحب نے جب سے پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لی ہے ، تب سے وہ اپوزیشن کا حصہ کبھی نہیں بنے – ان کے لیے اقتدار اتنا ہی لازمی ہے ، جتنا زندگی کے لیے آکسیجن – اینٹ سے اینٹ بجانے والا بیان ان کے منہ سے نکل گیا جس پر وہ کئی ماہ پچھتاتے رہے – ورنہ وہ ہمیشہ نادیدہ قوتوں کی انگلی پکڑ کے ہی چلتے ہیں – مسلم لیگ (نواز) اور جمعیت علمائے اسلام (مولانا فضل الرحمٰن) کی جنگ بظاہر سیاست میں ان قوتوں کی مداخلت کے خلاف ہے جن کا دراصل فرض ہے کہ سیاست سے دور رہیں – جب کہ زرداری صاحب کی پیپلز پارٹی ان ہی قوتوں کے ایجنڈے پہ کام کرتی ہے – اب مناسب یہ ہے کہ پی ڈی ایم ، خصوصاََ ن لیگی قیادت ، پیپلز پارٹی اور بلاول وغیرہ کے خلاف بچگانہ بیان بازی کرنے کی بجائے انھیں مکمل نظر انداز کریں ، اپنی سیاسی تحریک کا کڑا جائزہ لیں ، غلطیوں کی نشان دہی کریں اور یہ یاد رکھیں کہ پیپلز پارٹی کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ کردار بے نظیر کے ساتھ ہی وفات پا چکا ، اور جماعت اسلامی کا آزادانہ کردار سید منور حسن کے بعد ختم ہو چکا – بظاہر تو پیپلز پارٹی بھی خود کو اپوزیشن کہتی ہے ،اور جماعت اسلامی کے جلسے بھی حکومت کے خلاف تب ہوتے رہتے ہیں جب پی ڈی ایم کے جلسوں پر کرونا کے بہانے پابندیاں لگائی جاتی ہیں – لیکن میرے سادہ مزاج قارئین کے لیے دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے مابین اصل مقابلہ یہ چل رہا ہے کہ “باپ” کی زیادہ خدمت کون کرتا ہے –




بشکریہ

جواب چھوڑیں