مسلح افواج کا تمسخر اُڑانا۔۔ثاقب اکبر

پاکستان میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک مجوزہ بل کی منظوری دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کا ارادتاً تمسخر اڑاتا ہے، وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے، وہ ایسے جرم کا قصور وار ہوگا جس کے لیے اتنی مدت کے لیے سزائے قید جو دو سال تک ہوسکتی ہے یا مع جرمانہ جو پانچ لاکھ روپے تک ہوسکتا ہے یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ یہ بل ابھی قائمہ کمیٹی نے منظور کیا ہے، اب اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے۔ بل پاکستان تحریک انصاف کے رکن امجد علی خان نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور جب مجوزہ بل پر ووٹنگ کروائی گئی تو اس کے حق اور مخالفت میں پانچ، پانچ ووٹ آئے۔ اس کے بعد چیئرمین کمیٹی خرم نواز نے اس کے حق میں ووٹ دیا اور یوں یہ مجوزہ بل کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔

اس بل پر نقد و نظر اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وفاقی کابینہ میں یہ بل زیر بحث نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد وفاقی وزراء اس بل کی مخالفت کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم ردعمل وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا ہے۔ انھیں ایک بے باک شخصیت سمجھا جاتا ہے، وہ موجودہ حکومت میں پہلے وزیر اطلاعات رہ چکے ہیں، یوں معلوم ہوتا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد بھی ان کے اندر سے وزیر اطلاعات نہیں نکل سکا۔ انھوں نے اس موضوع پر بہت معنی خیز ٹویٹ کیا ہے:
absolutely ridiculous idea to criminalize criticism, respect is earned, cannot be imposed on people, I strongly feel instead of new such laws Contempt of Court laws should be repealed…. یہ ایک انتہائی بھونڈا خیال ہے کہ تنقید کو جرم قرار دیا جائے، عزت کمائی جاتی ہے، لوگوں پر مسلط نہیں کی جاسکتی، میں شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ اس طرح کے قوانین کے بجائے توہین عدالت کے قوانین کو بھی ختم کیا جانا چاہیے۔۔۔

tripako tours pakistan

ایک اور وفاقی وزیر جن کے پاس انسانی حقوق کا قلمدان ہے، ڈاکٹر شیریں مزاری نے فواد چوہدری کی ٹویٹ پر لکھا ہے کہ میں پوری طرح اتفاق کرتی ہوں اور (جو کچھ اس میں کہا گیا ہے) میں اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں ہی اس بل کے خلاف نہیں بلکہ برسراقتدار پارٹی کے نہایت اہم اراکین بھی اس بل کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے موقف پر قائم رہیں تو یقینی طور پر اسمبلی میں یہ بل منظور نہیں کیا جاسکے گا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے بل کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے یہ بات واضح کی ہے کہ بل حکومت کی طرف سے پیش نہیں کیا گیا بلکہ یہ پرائیویٹ ممبر بل ہے اور اسمبلی کا کوئی بھی رکن ذاتی حیثیت سے ایسا کرسکتا ہے۔

اگر یہ بل اسمبلی سے مسترد ہوگیا، جس کا امکان واضح ہے تو تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان کو فوج کی توہین اور تمسخر اڑانے کا مرتکب قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ بقول فواد چوہدری ’’فوج پہلے سے ہی سب سے زیادہ قابل عزت ادارہ ہے۔‘‘ گویا اس ادارے کو اس بل کے ذریعے متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر امجد علی خان خود تنہائی میں ایسے اقدام کے لیے پہلے سوچ لیتے تو شاید وہ اس کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔ فوج کے ذمہ دار حلقوں میں بھی یہ محسوس کیا جائے گا کہ بظاہر ان کی حمایت میں پیش کیا جانے والا بل ان کے لیے مناسب نہ تھا۔

اس بل کے مندرجات پر بھی خاصی لے دے کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں مہم جُو جرنیلوں نے بار بار آئین شکنی کی ہے اور جمہوری تسلسل کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان میں سے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکی لیکن فوج ہی کے بہت سے سابق عہدیدار ان پر تنقید کرچکے ہیں، بعض اہم سابق فوجی افسر فوجی حکومتوں کے دوران بھی ان پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ بی بی سی اردو نے 5 فروری 2008ء کو ایک رپورٹ شائع کی، جس کا عنوان ہے ’’کورٹ مارشل کی بجائے صدارت‘‘ اس رپورٹ کے مطابق سابق فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی کے زیراہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل (ر) حمید گل نے کہا: ’’پاکستان کے ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان اور بھارت میں دفاعی توازن پیدا ہوگیا تھا لیکن کارگل کی لڑائی کے بعد یہ توازن ختم ہوگیا، جس کے ذمہ دار صدر جنرل مشرف ہیں، جس کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا، وہ پاکستان کا صدر بن گیا ہے۔‘‘

سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ نے اس موقع پر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’امریکہ کے ساتھ بغیر کسی معاہدے کے جنگ میں جانے کی وجہ سے پاکستان کو امن عامہ کے حوالے سے اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ یہ پالیسی جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں اختیار کی تھی۔ اس موقع پر جنرل ریٹائرڈ فیض چشتی نے صدر جنرل پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انھیں بھارتی ایجنٹ قرار دیا۔ مرحوم ایئر مارشل اصغر خاں تو پوری زندگی فوج کے سیاست میں آنے کی مخالفت کرتے رہے، انھوں نے ایک کتاب بھی لکھی ’’Generals in Politics Pakistan 1958-1982‘‘۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ بل کی منظوری کے بعد ریٹائرڈ فوجی اس طرح کی تنقید ترک کر دیں گے اور اگر انھوں نے ترک نہ کی تو کیا انھیں بھی دو سال تک قید، یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی؟ اسی طرح پاکستان کے سیاستدان، بیوروکریٹ، صحافی اور عام شہری بھی فوج کی مختلف پالیسیوں اور خاص طور پر سیاسی امور میں ان کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت پر تنقید کرتے رہتے ہیں، کیا مذکورہ بل ایسی تنقید کے راستے میں دیوار چین بن جائے گا؟

Advertisements

merkit.pk

ایک عرصے سے پاکستان میں جبری طور پر گمشدہ افراد کے مسئلے پر تحریک چل رہی ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام سنجیدہ حلقوں کی رائے یہ ہے کہ ریاستی ادارے ایسا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا عمل پاکستان کے آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ ان حلقوں کی رائے ہے کہ کوئی بھی شہری اگر قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی راستہ ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔ جبری گمشدگی کا راستہ ٹھیک نہیں ہے۔ جب آئین اور قانون کی موجودگی میں جبری گمشدگی سے لے کر پورے آئین کو برطرف کر دینے کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، ایسے میں امجد علی خان کے پرائیویٹ بل کی ضرورت اور حیثیت کیا رہ جاتی ہے! پاکستان کے تمام اداروں اور شہریوں کو یہ عہد کرنا ہے کہ ہم پاکستان کو آئین اور قانون کی بالادستی والی جمہوری ریاست بنائیں گے۔ اس کے علاوہ ہماری مشکلات کا کوئی حل نہیں۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں