عجلت پسند(قسط11)۔۔۔محمد اقبال دیوان | مکالمہ

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

دسویں قسط کا آخری حصہ

tripako tours pakistan

ڈی آئی جی محمود ٹوانہ کو بی نونے ظہیر کے جانے کے بعد دیکھا۔ سچ پوچھیں تو وہ اسے Human Index پر دونوں مردوں سے بھلے لگے۔کینیڈا میں جب اس نے انہیں بتایا کہ وہ باپ بننے جارہے ہیں تو وہ اسے بہت دیر پیار کرتے رہے۔ اسے  لو آف مائی لائف بھی کہا۔جیب سے فوراً تین ہزار ڈالر بھی نکال کر دیے۔تب اس کا پانچواں مہینہ تھا۔پہلے بچے پر پیٹ جلدی باہر نہیں آتا۔وہ بہت Relaxed ہیں۔ اسے کہہ رہے تھے کہ اگر چیف منسٹر نے ڈرایا نہ ہوتا تو وہ کبھی فرار نہ ہوتے۔محاسبے کے ادارے سفارش اور مال دے کر سنبھالے جاسکتے ہیں۔ہم پولیس والوں کے تعلقات بھی بہت ہوتے ہیں۔ہمارے بہت کم افسر محاسبے کی زد میں آئے جب کہ ہمارا ہر ایس ایچ او پچاس سے تین سو کروڑ کا مالک ہوتا ہے۔ٹیپو۔ ان سے بی نو کو عشق ہے۔وہ اس کے پہلے مرد ہیں۔

Verbal note
bhurbhan
آنند بخشی،ان دنوں جب “دل تو پاگل ہے”گیت لکھ رہے تھے
Tow Tractor
Tow Tractor

فیض یاد ہے نا کہتے تھے جن کی آنکھوں نے  بے سود عبادت کی ہے۔
ڈونگا گلی سے تو آخری ملاقات تک وہ ان کی نگاہوں کا ایک ایک رنگ، ہر لباس، ان کے لمس کا ہر ذائقہ، ان کی آغوش کی ہر خوشبو کو Recount کرسکتی ہے۔ اب وہ یہاں کینیڈا میں نہیں تو اس کے باوجود جب زونی کو وہ گلے لگاتی، یا سونگھتی ہے تو اس میں بی نو کو ان کی خوشبو آتی ہے۔

قسط نمبر گیارہ
ٹوانہ جی کا چوتھے مہینے کے اختتام پر فون آیا۔ابو کو کہہ رہے تھے بی نو کو تین دن میرے پاس چھوڑ جائیں۔اسلام آباد میں اس کا ویزہ لگوانا ہے۔ فارن آفس والوں نے ہائی کمشنر کو سفارتی چھٹی -verbal  note لکھ دیا  ہے۔ اسناد وغیرہ کی تصدیق بھی کرانی ہے۔ بی نو کوبھوربن میں رکھا تھا۔بہت پیار کیا۔ بی نو نے دونوں مردوں کے اظہار الفت میں ایک بڑا فرق محسوس کیا ہے۔سوچے تو وہ ظہیر کو بھی اس شمار قطار میں ڈال سکتی ہے۔ظہیر کے سامنے تو اسے لگتا تھا کہ وہ ابرار الحق کا پریتو میرے نال ویاہ کرلے والا گیت تھی جسے کسی نے غلطی سے سوئم ،چہلم پر بجادیا۔سو اس کا ذکر حرفِ  زیاں ہے۔
ٹیپو کی الفت میں مردانہ تسلط کا گماں ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے فوج اسے دشمن کا مفتوح علاقہ سمجھ کر کمانڈوز اور ٹینکوں سمیت بستر میں گھس آئی ہے۔۔اور ٹوانہ جی پیار کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے وزارت داخلہ سے گویا ممنوع بور کے اسلحہ کا لائسنس اور خصوصی اجازت لی ہوئی ہے۔ بستر میں گالیاں بھی بکتے ہیں۔ بی نو کے لیے نہ تو گالیوں میں مذکور عمل اب نیا ہے نہ وہ اعضا جن کا ذکر گالیوں میں ہوتا ہے۔ ان اعضا میں آدھے تو اس کے اپنے پاس بھی ہیں۔ ۔

ٹیپو کا بچہ پیٹ میں ہونے کے باعث شاید اس کو  ٹوانہ صاحب کی رفاقت میں الجھن ہوسکتی تھی مگر وہ جان چکی ہے کہ محبت اور اس کا اظہار دو مختلف تجربات ہیں۔ دونوں کا آپس میں کوئی تال میل نہیں بھی ہوسکتا۔عورت چاہے اور طوائفوں کی اکثریت تو شاید ایسا ہی کرتی ہے کہ وہ ان لمحا تِ  وصال کو حلوائی کے مٹھائی سے پیار کے طور پر نبھاتی ہے۔ عورت کا جسم اور عورت کا دماغ کا تعلق ایسا ہی اختیاری بھی ہوسکتا ہے جیسا ریل کے انجن کا ڈبوں سے یاAircraft Tow Tractors کا ہوائی جہاز سے ہوتا ہے۔ایک دفعہ ہوائی جہاز ٹیوب سے ہٹ جائے یا ٹیک آف رن وے کی جانب سیدھا کردیا جائے تو ٹو ٹریکٹر کو ہوائی جہاز ساتھ لے کر تھوڑی اڑتا ہے۔ٹرین کا انجن بھی تو بہت سے ڈبے پیچھے چھوڑ کر نئی مسافت پر روانہ ہوجاتا ہے۔

جذبات کی بات کریں توبھارت کی فلم انڈسٹری میں وہ جو عورتوں کے دل مسلم کی طرح قلب کو گرمانے اور روح کو تڑپانے والے سریلے من بھاؤنے ہندی گیت ہوتے ہیں ان کے گلوکار، موسیقار اور گیت کار ایسے ادھیڑ عمر مرد ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ ان کی ماں اور بیوی کے علاوہ کبھی کوئی عورت ان کے قریب سے بھی گزری ہوگی۔جیسے راجہ مہدی علی خان جن کے دو گیت مدھرتا اور نسوانی سپردگی اور آنند بخشی جی کا گیت شرارت اور مدھرتا کا انت ہیں۔۔
اگر مجھ سے محبت ہے مجھے سب اپنے غم دے دو (فلم آپ کی پرچھائیاں)
آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے(اَن پڑھ)
دل تو پاگل ہے، دل دیوانہ ہے۔

سو بی نو کی سپردگی کو بھی آپ ریل کے انجن اور Aircraft Tow Tractors کے کھاتے میں ڈال دیں۔

اب کی دفعہ بی-نو ٹوانہ صاحب کے پاس تھی تو بہت پیار کیا۔کہہ رہے تھے ملتان جاکر سامان پیک کرے بس ایک اٹیچی کیس۔ ضروری دستاویزات۔اچانک نکلنا ہوگا۔امی ابو کو سمجھادے کہ ان کے ظہیر کے پیچھے بھی سیاسی چکر میں بلاوجہ ایجنسیاں پڑی ہیں۔چیف منسٹر صاحب نے اوپر سے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے اپنے قریبی شمار ہونے والے تین چار افسروں کو خود ہی شارٹ ہونے کو کہا ہے۔ان میں وہ بھی شامل ہیں۔دونوں کراچی سے یا پشاور سے افغانستان کے راستے دوبئی۔ اوساکا اور وینکور جائیں گے۔
سی ایم صاحب نے یقین دلایا ہے کہ اگر انہوں نے زبان بند رکھی اور نیب کو پکٹرائی نہ دی تو جیسے ہی حالات ٹھیک ہوئے تو وہ ان کا عرصہء مفروری Leave Extra-extraordinaire (غیر معمولی چھٹی) مان کر تنخواہ سمیت انہیں عہدوں پر بھی بحال کردیں گے۔سینارٹی کے حساب سے اگر واجب ہوا تو پروموشن بھی کردیں گے اور ریٹائرمنٹ کا معاملہ ہوا تو کسی کارپوریشن،فاؤنڈیشن، محتسب یا سفیر کے عہدے پر بھیج دیں گے۔بی نو خوش ہے کہ ظہیر اور ٹیپو کے رشتوں میں نصیب کا یہ اچھال خوابوں میں بھی ممکن نہ تھا۔اسے ٹوانہ صاحب کی رفاقت میں اپنائیت اور ملکیت دونوں کا بھرپور احساس ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہر برہنگی پر اسے ٹیپو کی نگاہوں کے سائے اس کے بدن پر پھیلتے سمٹتے محسوس ہوتے ہیں۔

ابو امی اور بی نو ان دنوں ملتان میں اس لیے رہتے ہیں کہ ٹیپو جی نے وہاڑی والے بی نو کے ڈی ٹیل مینٹ کے آرڈر کینسل کرالیے ہیں۔ اس کا کارن یہ ہے کہ انہیں ملتان اور بھاولپور اورڈیر غازی خان تینوں ڈویژنوں کے معاملات کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ اس وقت اس ریجن کے وہی سب سے بڑے افسر ہیں ۔آج کل ملتان میں کوئی ان سے اوپر بڑا افسر نہیں۔فنڈز بہت ہیں سو ایک لاکھ روپیہ ٹیپو جی بھی ہاتھ  خرچے کا دے دیتے ہیں۔

ان کے ادارے میں تین نئے ماتحت افسر پوسٹ ہوئے ہیں۔ ٹیپو جی نے فیلڈ آپریشنز کی ذمہ داری انہیں سونپ رکھی ہے۔ ڈیرہ غازی خان والے کو مستقل وہاڑی میں رکھا ہے۔ جاسوسی کے چار سُو پھیلے نیٹ ورک کے حوالے سے ناممکن ہے کہ بی نو سے وہ وہاڑی میں مل پائیں۔ان کے خیال میں ایسی صورت میں ان کا وہاڑی آنا خطرے اور بدنامی دونوں سے خالی نہیں۔

chenab near multan
chenab near multan

ٹوانہ صاحب کے کسی دوست کا بنگلہ گل گشت کالونی میں خالی ہے۔سو بی نو اور اس کے والدین اسی میں رہتے ہیں۔ مالک مکان ان کا کزن اور کسٹم کا اپریزر ہے۔اس کی پوسٹنگ کراچی میں ہے۔ ٹوانہ جی نے ہدایت کررکھی ہے کہ کسی کو نہیں بتانا کہ وہ کس کے کرائے  دار ہیں کیوں کہ بنگلہ کبھی مستقل طور پر کسی ایک فیملی کے زیر استعمال نہیں رہا۔ٹوانہ جی بھی اب یہاں چھپتے چھپاتے آجاتے ہیں۔

iphone 5s
Lionesses-hunting-buffalo

ابو نے ٹیپو جی کو نہیں بتایا کہ یہ گھر کس نے دیا ہے۔ فطرتا ًپوچھا تو کہہ دیا کہ عزیزوں میں کسی بیوہ کا ہے۔شوہر کا انتقال حال ہی میں ہوا ہے سو وہ اپنے والدین کے پاس عدت میں پنڈی میں مقیم ہیں۔ ۔ یہاں ملاقات کا اس لیے منع کیا ہے کہ ارد گرد بھی اس خاتون کے عزیزوں کے گھر ہیں۔ابو نے ایک آدھ مرتبہ ان سے بی نو کی شادی کا پوچھا تو بی نو سے ناراض ہوئے کہ انہیں بچے کے بارے میں نہ بتایا ہوتا تو بہتر تھا۔ بی نو نے کہا سنیں اگر آپ اپنے گھر میں باپ نہیں بنے تو مجھے بتائیے ابو اسے الٹیاں کرتے اور الٹی سیدھی چیزیں کھاتا دیکھ کر اندازہ لگاسکتے ہیں کہ بچی کے ساتھ کوئی گڑبڑ ہوئی ہے۔ شکر کریں ان کا ارادہ تو لاہور میں آپ کی بیگم اور بڑوں  سے دونوں سے مل کر اصل واردات بتانے کا تھا۔اتنا سننا تھا کہ ٹی پو جی کا تو جیسے خون خشک ہوگیا۔آواز گلے میں رندھ گئی۔

ان کے اشتعال اور انتشار کے آگے بند باندھنے کے لیے بی نو نے لب و لہجہ دھیما کیا۔تریا چلتر(عورت کی چالبازی) دکھاتے ہوئے گلے میں  ہاتھ  ڈال گود میں بیٹھ گئی۔پوچھنے لگی کیا وہ باپ بننے پر خوش نہیں۔چوم کر بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کمال مکاری سے کہا جانو آپ بتائیں میں کس منہ  سے یہ پیٹ لے کر ظہیر کے پاس کینیڈا جاؤں۔میں ایسا کروں تو بغیر نیشنلٹی کے وہاں میرا اور میرے بچے کا کیا مستقبل ہے۔میں نے انہیں فی الحال تو یہ دھمکی دے کر روک دیا ہے کہ
He is love of my life. Please  don’t  you ever do it
اتنا سننا تھا کہ جان میں کچھ جان  آئی  اور بی نو کے ایک سو دس بوسوں کے بعد انہوں نے بھی جواب میں چوما۔پوچھنے لگے کہ انکل مان گئے؟۔میں بھی کہوں اتنی سرد مہری کیوں برتتے ہیں۔پہلے تو ٹیپو میاں اور ٹیپوبیٹا سے نیچے بات نہیں کرتے تھے اب سر اور رینک کا ستعمال کرتے ہیں۔بی نو نے کہا میں نے انہیں کہا کہ آپ نے ٹیپو کو یا ان کے کیرئیر کونقصان پہنچانے کا کوئی قدم اٹھایا تومیں چناب میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلوں گی۔ٹیپو جی مجھے صرف اتنا سمجھا دیں یہ بچہ جو اب میرے پیٹ میں ہے اور جسے میں نے کسی قیمت پر
Abortنہیں کرنا۔کیا آپ  کا یہ  بچہ آپ کی Good -Time Sex کا مجھ کنواری دکھیاری کے لیے ایک تمغہء بسالت ہے۔آپ کو معلوم ہے میرا سب سے بڑا اخلاقی مخمصہ کیا ہے۔میں نہ تو ایک معصوم بے خطا شوہر کو رسوا کرنا یا دکھ دیناچاہتی ہوں نہ ہی میری محبت مجھے اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ آپ چونکہ اپنی ذمہ داریوں سے دامن چھڑانے پر آمادہ ہیں تو میں آپ کی بدنامی اور بربادی کا حصہ ڈالوں۔ آپ کو کیا پتہ کہ عورت جب کسی مرد کو راضی بہ رضا اپنے بچے کا باپ بناتی ہے تو وہ اس کو کتنا بڑا مان دیتی ہے۔یہ زندگی بھر کا تعلق ہے جو وہ اس کے نام سے جوڑتی ہے۔ آپ کے لیے ممکن ہے میں Prize Catch ہوں۔آپ میرے لیے اس بچے کے باپ ہیں جو میرے پیٹ میں پل رہا ہے۔ آپ کو کیا پتہ عورت کے لیے پہلا مرد جسے وہ پیار بھی کرے اور اپنی فروغ نسل کا ذمہ بھی سونپے وہ تو اس کے نزدیک دیوتا ہوتا ہے۔پتی پرمیشور، مجازی خدا۔
آپ کے لیے ممکن ہے یہ  باتیں ڈراموں والے  ڈائیلاگز سے زیادہ کچھ نہ ہوں۔ ایک سستا .Soap Opera سونی ٹی وی کا کوئی ڈرامہ ۔ہم عورتوں کے لیے وجود ذات سے جڑے عظیم الشان نسوانی تصوارت ہیں۔میرا جب یہ پیٹ آپ کی محبت سے پھول کر دکھائی دینے لگے گا تو بتائیں میں اپنے رشتے داروں کو کیسے قائل کروں گی کہ باقی بچے بھلے نو ماہ یا اس سے کم عرصے میں پیدا ہوتے ہوں میرے شوہر کا بچہ گیارہ مہینے میں پیدا ہوا ہے۔انہیں پتہ ہے کہ ظہیر کو گئے اب دوماہ سے زائد کا عرصہ ہوچلا ہے۔کبھی سوچا آپ
کی اس حقیر کنیز بے دام نے آپ کا بنا کسی بندھن ایک بنا مال بنا مول کے رکھیل بن کر ہر دفعہ کہنا مانا ہے۔آپ مجھے بتائیں کہ ملتان وہاڑی اپنے رشتہء داروں کے درمیان اس حرام کی اولاد کے ساتھ کیسے جی سکتی ہوں۔آپ ابھی قاضی کو لائیں ہم ابھی نکاح پڑھ لیتے ہیں شادی کا اعلان تب کریں گے جب آپ کا  کاندھاپھولوں سے بھر جائے گا۔ابو کو بھی وہی جھوٹ بولا ہے کہ بورڈ ہوتے ہی پہلی بیگم کو ا ور ان کے والدین کو اعتماد میں لے کر فوراً شادی کرلیں گے۔

ملتان میں بینو کا گھر
lahore wala ghar
devdas-madhuri-shah-rukh

ابو اس جھوٹ کو سمجھتے ہیں ،مجھے کہتے ہیں پروموشن ہوا تو حضرت رات کی تاریکی میں نئی پوسٹنگ پر کسی سفارت خانے میں کورپوسٹنگ پر چلے جائیں گے۔ ہم انہیں کہاں ڈھونڈ تے پھریں گے۔ ہمیں تو   ان کا اصلی نام بھی معلوم نہیں۔ ٹیپو کو اس بارے میں کچھ علم نہیں کہ بی نو نے بتایا نہیں کہ اس نے بہت خاموشی سے ان کی کئی تصاویر اپنے آئی فون پانچ ایس سے کھینچ کر ہارڈ ڈسک میں لاک کر رکھی ہیں۔جب وہ اس کے گھر پر جیپ میں  سوار ہورہے تھے۔ جب وہ ابو کے ساتھ ملتان جارہے تھے۔جب وہ کئی دفعہ برہنہ سورہے تھے۔حتی کے انہیں پتہ بھی نہیں چلا مگر ڈونگا گلی میں اپنی سلیفیاں ایسی بھی لیں ہیں جن میں وہ دکھائی پڑتے ہیں۔وہ عورت جو مرد کو گھیرنا چاہتی ہو وہ اپنے تعاقب میں تنہا بھی شیرنیوں کا وہ پرائڈ ہوتی ہے جو کمال انداز تعاقب سے شکار گھیرتی ہیں۔ایسے موقعے پر وہ موساد اور را کو بھی دھول چٹا سکتی ہے۔ہماری مجبوری اور بے کسی تودیکھیں ہمیں محض آپ کی خاطر یہاں رہنا پڑرہا ہے۔چپ ہوگئے۔۔

چار دن بعد جب ملاقات ہوئی تو بی نو سے کہنے لگے سر دست تمہارا مسئلہ اس طرح سے حل کرتے ہیں کہ اگر تمہیں لاہور یا پنڈی میں کوئی گھر لے دیا جائے تو بچے والی بات کو میرے پروموشن تک ٹالا جاسکتا ہے۔اس سے تم اپنے والدین کے ساتھ امی ابو کے ساتھ لاہور میں رہ سکو گی۔تمہارا لاہور میں خود ٹرانسفر کرادوں گا۔ٹائمنگ کا ایشو ہے تو بچہ سی سیکشن سے کرالینا ہے۔بی نو نے اس پیشکش میں انہیں احساس دلائے بغیر ایک بہت بڑا کھانچہ دیکھ لیا۔ اسے پتہ ہے کہ اسے ٹوانہ کے ساتھ جلد فرار ہونا ہے ،وہ اگر سمجھ کر کھیلے تو اس میں مالی فائدوں کی امید ہے۔

اس نے بڑا جذباتی پتہ کھیلا۔دونوں نے کئی دفعہ شاہ رخ ایشوریا اور مادھوری کی فلم  دیوداس وہاڑی میں ساتھ بستر میں لیٹ کر دیکھی تھی۔بہت سے مشترکہ حوالے تھے۔اسی لیے اس وقت بھی جھوٹ موٹ کے آنسو آنکھوں میں لا کر فلم دیوداس میں طوائف چندر مکھی کی طرح کہنے لگی ”چھوڑیں ٹی پو صاحب! ہم رکھیلوں کا کیا سوچنا ۔ چلیں ہمیں تو آپ اپنی سرکاری جیپ میں بٹھاکر چناب دریا میں پل پر سے اپنے ہاتھوں سے دھکا دے دیں۔دھکا دینے سے الزام سر لگنے کا خطرہ ہے تو یوں کریں پل تک چھوڑ کر الوداع کہہ کر آجائیں۔آپ کی رکھیل کی آخری خواہش ہے کہ آپ کا چہرہ ہی وہ روپ ہو جو وہ مرنے سے پہلے دیکھنا چاہتی ہے۔جب آپ دفتر پہنچ جائیں مجھے پیغام دے دیجیے گا جاکر Reached Office -Safely

rehman dakait
raja mehdi ali khan

اس وقت آپ کی یہ چندر مکھی اپنے آئی فون پانچ سمیت سوہنی بن کر خود کو چناب کی بپھری لہروں کے حوالے کرکے جان دے دے گی۔بس وہ ایک دعا مانگے گی کہ اللہ مرنے کے بعد تو کسی وردی والے افسر سے مت ملانا۔ ظہیر اور ٹی پو نے اتنا تپایا ہے کہ مجھے یہ وردی سے نفرت ہوگئی ہے۔ہم دونوں ماں بیٹا آپ کو روز محشر کے بھی کچھ الزام نہیں دیں گے۔ایک بدن تھا میرے ٹیپو  سلطان ۔۔شیر ملتان یہ سوچ کر بیٹھے تھے  ظہیر نے شادی کرکے مول لیا آپ نے استعمال کرکے برباد کیا۔اس بدن کا کیا پچھتاوا جو آپ کو سونپا، آپ نہ آتے تو مٹی کو دے دیتی۔

بانہوں میں سمیٹ کر بی نو کوکہنے لگے جذباتی باتیں مت کرو۔ تم ڈونگا گلی میں بھی میری بیوی تھیں۔تم وہاڑی اور ملتان میں بھی بیوی ہو۔ہماری شادی اور بچے میں صرف ٹائمنگ آؤٹ ہے۔میں نے بات تو کی ہوئی ہے۔کل آپ اور ٓاپ کے ابو  لاہور جاکر  ایک آٹھ کنال کا گھر دیکھ لیں۔مل جائے گا۔ بتارہے تھے۔ ایک چھوٹے سے گروہ کے ارد گرد گھیرا تنگ ہوا ہے۔ایم پی اے صاحب کی مرضی ہے کہ بندے چھوڑدیں ۔یہ دہشت گردی سے  زیادہ دھندے کی بات ہے۔اس گروہ کے افراد سرکاری پائپ لائنوں سے بھی تیل چراتے ہیں۔ ان کا ایرانی۔ڈیزل کی اسمگلنگ کا بھی کام ہے۔ سفارشی سیاست کار کا کہنا ہے گرفتار افراد دہشت گرد نہیں مگر آپ کو پتہ ہے جنوبی پنجاب سارا ہی ایک دوسرے کا رشتہ دار ہے۔اب ان حرامیوں کی وجہ سے ہم اپنا کاروبار لے کر کہاں جائیں۔ایک طرف سے یہ مارتے ہیں دوسری طرف سے آپ کے بندے۔دشمنیاں بھی ہیں۔ کچے کے ڈاکوؤں سے مقابلے کے لیے ان کا ساتھ بھی ضروری ہے۔ اپنی  پروٹیکشن کے لئے ان گرفتار بندوں کے رابطے دہشت گردوں سے ہیں۔

بی نو کو کہنے لگے تمہاری خاطر ڈیزل چوروں کو چھوڑ رہا ہوں۔بی نو نے شرارت کی، عبدالرحمن ڈکیت کو بھی تو چھوڑا تھا بیگم کے زیورات اور افسر کی جیپ کے لیے۔وہ کونسا میرا ماموں تھا۔کہنے لگے گھر خریدنے تم بھی ساتھ چلی جاؤ تمہارے ابو کو سمجھادیا ہے۔کوٹ ادو سے کوئی انہیں لاہور میں ملے گا۔ساٹھ ستر لاکھ کا ایک گھر دیکھ لیں۔مالک مکان کو ان کی طرف سے کیش میں ادائیگی ہوجائے گی۔

تین دن کے قیام کے دوران ہم نے ساٹھ لاکھ روپے میں غیر ملکی فٹنگز والا   ایک چار بیڈ روم کا گھر ای ایم ای کالونی لاہور میں لے لیا ہے۔دو گلیاں چھوڑ کر تایا ابو کا بھی گھر ہے۔یہ ان کے کسی دوست کا تھا جن کی پوری فیملی اب آسٹریلیا ہجرت کرگئی ہے۔ٹی پو کو ابو نے کہہ دیا کہ سمجھ لیں یہ گھر آپ دونوں کی اولاد کا ہے۔ میں چپ چاپ تب تک ظہیر کے پاس چلی جاؤں گی جب ٹی پو کینیڈا ٓئیں  گے تو بی نو ظہیر سے طلاق لے کر ان سے باقاعدہ نکاح کرلے  گی۔تب تک امی ابو وہاڑی چھوڑ یہاں لاہور میں رہیں گے۔اتنی ہی رقم ابو کے اکاؤنٹ میں ڈیزل چوروں نے اور بھی جمع کرادی ہے۔تب تک بچے والے معاملے میں ابو اور بی نو کی جانب سے مکمل خاموشی رہے گی۔ بی نو نے کہا بھی کہ آپ کی سرکاری مہر سے ایک اشٹامپ پیپر بنوالیتے ہیں۔ پہلی دفعہ پتہ چلا کر اسٹامپ پیپر درست ہجے ہیں۔اس کو قانونی زبان میں ایفی ڈیوٹ کہتے ہیں۔بچے کا باپ پڑھا لکھا ہو تو اس کے یہ فائدے ہیں کہ
آپ کو صحیح ہجے آجاتے ہیں۔

ٹی پو جی کہنے لگے تمہاری زبان میرے لیے آئین پاکستان کا درجہ رکھتی ہے۔ میں نے اس   آئین پر حلف اٹھایا ہے۔ بی نو چوں کہ اچھی طرح سے چونا لگا چکی ہے لہذا اس نے ان کے دو تین بڑوں کا نام لے کر چھیڑتے ہوئے ان ہی الفاظ اور لہجے میں کہا۔ جذباتی باتیں مت کرو۔ بھوتنی کے بھانجے یہ بتاؤ تمہارے ان بڑوں نے کیا کاما سوترا اور نیپال کے آئین پر حلف اٹھایا تھا۔؟

Advertisements

merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk




بشکریہ

جواب چھوڑیں