ظلمت سے نور کا سفر(قسط16)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش


ضحی باغ میں سیر کرتے ہوۓ تھک کر بنچ پر بیٹھ گئی۔ جوگرز سے پاؤں آزاد کرکے گھاس پر رکھے، نم گھاس کی ٹھنڈک دماغ کو سکون پہنچا رہی تھی۔اب اس ایک مثبت تبدیلی یہ کی کہ اپنے آپ کو چست رکھنے کے لیے ورزش واک کا معمول اپنی زندگی شامل کر لیا ۔ باغ میں اُس نے وہیل چیر پہ اک لڑکی کو دیکھا جو ٹانگوں اور ہاتھوں سے معذور تھی پر اس کے چہرے کا اطمینان اور چمک ضحی کے کپڑوں پر لگے موتیوں کو بھی ماند کر رہی تھی ۔
ضحی اُٹھی اور اُس کے پاس جاکر سلام کیا اجازت مانگتی نظروں کے ساتھ اُس کی وہیل چیر کو تھام لیا۔ باغ میں چہل قدمی کے راستے پر وہیل چئیر چلاتے ہوۓ اُس سے باتیں کرنے لگی۔ ضحی نے اُس سے باتوں کے درمیان محسوس کیا کہ وہ اپنی معذوری کے بارے میں بتاتے ہوۓ بے چین، افسردہ اور غم زدہ نہیں تھی بلکہ اُس کے چہرے سے مضبوط قوتِ ارادی اور عزم جھلک رہا تھا۔ ضحی پوچھے بنا نہیں رہ سکی۔
“آپ اپنے وجود کے ساتھ مطمئن ہیں۔ کیا میں اس طمانیت، بشاشت کی وجہ جان سکتی ہوں؟”۔
مِرحہ نے مسکرا کر کہا “احساسِ قبولیت”، اطمینان کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود کو اپنی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کر لیں۔ دنیا میں سب سے بے فائدہ اور بے مقصد جنگ اپنی فطرت کو بدلنا ہے۔ میں نے قبول کرلیا ہے کہ میں معذور ہوں۔ میں نے اس بات پر پریشان ہونا، زیادہ سوچنا اور حساسیت رکھنا چھوڑ دیا ۔ زندگی میں سکون کے لیے امن ضرور ہے۔ جتنا انسان کے دل میں قرار ہوگا اتنا کسی کی شخصیت میں ٹہراؤ ہوگا”
ضحی نے سرہلا دیا.
” ہاں!!!! شاید مجھ میں قرار ہی نہیں ہے ۔”
اس نے اپنی ایک کمزوری پر غور کیا ۔
” شاید مجھے اپنی حساسیت کو قبول کرنے کی اور خود کو اس جال کے ساتھ قبول کرنے کی ضرورت ہے ۔”
گھر آکر آمنہ سے ناشتے پر یہ سب بتاتے ہوئے اس سے کہنے لگی
” یار اُس کا عزم دیکھنے لائق تھا وہ اپنی کمی اور خامی سمیت بامقصد جی رہی ہے۔ ذہنی اضطراب بھی تو جسمانی نقص ہے اور میری حساسیت فطرتاً ہے۔ مجھے خود کو اپنے تمام ڈیپریشن کے جال سمیت قبول کرنا ہوگا “۔
آمنہ نے چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھا اور کہا “اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اُس نے اپنی ذہنی الجھنیں سلجھا لیں ہیں۔ مثبت سوچوں کو اون کا گولہ بنا کر ایک طرف کردیا ہے اور منفی سوچوں کو ایک طرف، اب کبھی نہیں الجھیں گے تو ایسا سمجھنا ٹھیک نہیں ہے۔ جو فوبیک یا ڈیپریشن زدہ ہوتے ہیں وہ تمام عمر حساس رہتے ہیں۔ میں مِرحہ سے متاثر ہوگئی ہوں۔ اُس نے حق بات کہی۔ ہم اپنے مضبوط ارادے، مقاصد اور خوابوں کی بنیاد، طوفانوں کی زد میں آئی ہوئی اپنی کھوکھلی ذات پر نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں زندگی میں احساسِ قبولیت پانی کی مانند چاہیے۔ بے انتہا اور بے پناہ ۔۔”
ضحی نے گہری اور لمبی سانسیں لیتے ہوۓ کہا
” ٹھیک کہا۔ مجھے قبول کرلینا چاہیے اپنی ذات کو، اپنے ساتھ جوڑے رشتوں کی حقیقت کو، تب ہی اس مسلسل جنگ کی کیفیت سے نکل سکتی ہوں۔ ”
آمنہ نے اس کی بات سنی اور کہا
” ایک بات اور یاد رکھوں ۔یہ دنیا ہے حقیقت پسند بنو، کسی سے امیدیں وابستہ کرنا چھوڑ دو سوائے اللہ کی ذات اور اپنی قابلیت پر ۔اگر کوئی آپ کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اس کا تہی دل سے شکر گزار رہو َکوئی برائی کرتا ہے تو اس کی فطرت سمجھ کر دل پر لے کر رنجیدہ نہ ہو ۔ہر انسان کو اس کے مزاج کے ساتھ قبول کرو ۔پھر دیکھنا زندگی کتنی سہل اور پرسکون رہے گی ۔”
آمنہ نے اُسے تھوڑی سخت نظروں سے دیکھا تو اُس نے فوراً  کہا۔
“اچھا اچھا میں سمجھ گئی، میں نے رات کپڑوں کے ڈیزائن بناۓ تھے کاپی پر، میں لے کر آتی ہوں”۔
ضحی کے جاتے ہی آمنہ کھل کر شفقت سے مسکرا دی۔ اپنے لگاۓ ہوۓ اُمید کے پودے پر عزم کی کونپلیں کِھلتے دیکھنا خوش کُن احساس ہے اور اگر کہا جاۓ کہ خواب کی تکمیل ہوگئی تھی تو غلط نہیں تھا۔ ضحی کاغذات اور کاپیوں کا پلندہ لے کر آئی تھی۔ جس پر نہایت ماہرانہ انداز میں کپڑوں پر لگانے کے لیے کچھ ڈیزائنر بنے ہوئے تھے۔
اب اسے سمجھ آ رہی تھی، اگر زندگی کو درست سمت رکھنا ہے تو اپنی سوچوں کو تخلیقی مشاغل میں مصروف رکھنا پڑے گا، دستکاری اس کا شوق کے ساتھ ذریعہ معاش بھی تھا اس لیے اس نے اپنے آپ کو ڈرائینگز بنانے میں مصرف کیا ۔
آمنہ نے باریک لکیروں پر ہاتھ پھیرا اور کہا ” واو بہت خوبصورت کل ہم مارکیٹ جائیں گے ۔ کچھ کپڑے خرید لو۔ پھر فیکٹری جانا”۔
ضحی کی شکل پہ ڈیزائن دیکھتے ہوۓ جو جوش وخروش تھا وہ سب مانند پڑ گیا۔ ڈرتے ہوئے کہا “میں نہیں جاؤں گی. مجھے رش والی جگہ جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ اجنبی احساسات، غیر مانوس آوازوں سے وحشت ہوتی ہے۔ ”
آمنہ نے کاپی بند کردی۔بے تاثر چہرے کے ساتھ گویا ہوئی۔
“باہمت اور باعزم لوگ سہاروں کے سنگ نہیں چلا کرتے۔ جب ہم خوف کو شکار ہوتے ہیں خاص طور پر موت کے خوف کا تو ہمیں ہر وہ چیز جہاں چہل پہل ہو یا ہجوم ہو تو یہی لگتا ہے ۔کہ یہاں کچھ ہوا ہے یا ہو جائے گا ۔اور پھر وہ دائرہ میں سمٹ جاتا ہے ۔تنہائی کا زہر اس کی زندگی کو آلودہ کرنے لگتا ہے ۔تمھیں باغ میں لے کے جانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ اندر کی بے چینی اور وحشت پر قابو پانا سیکھ لو۔اس لیے کل ہم بازار جا رہے ہیں ۔تم ابھی کچھ مزید ڈیزائن بناؤ۔میں بریانی بنا رہی ہوں لنچ میں مرحہ کو دینے جائیں گے”۔
ضحی نے ہمیشہ آمنہ کا مسکراتا چہرہ دیکھا تھا پر آج کے بے تاثر چہرے نے اسے سمجھا دیا کہ ہمت کرنی ہوگی ورنہ گزارا نہیں ہے۔ڈیزائنز بناتے ہوئے اسے اپنی فیکٹری کا آفس یاد آیا تھا ۔فوبیک ہونے کے بعد سے ایک لائن سیدھی نہیں کھنچی جاتی تھی۔پہلے دن ڈیزائن بناتے ہوئے پینک اٹیک ہوگیا۔دوسرے دن بمشکل لائن ہی کھینچ پائی۔اکثر وہ کاپی پنسل ہاتھ میں لیے بیٹھی رہتی ۔گھنٹوں تک اس کے ذہن میں کوئی خیال نہ آتا کہ کیا بنایا جائے۔آمنہ ہی کی محنت تھی کہ اب وہ چھوٹے چھوٹے پھولوں سے لے کر گلے کے ڈیزائن اور دوپٹے کے بارڈر بناتی تھی۔
مرحہ کے دروازے پہ دستک دیتے ہوئے کچھ عجیب سے احساس تھے۔اجنبیت سی وحشت تھی اور اب بے چینی دوبارہ شروع ہوگئیحالانکہ صبح وہ خود ہی ملی تھی۔گھر والوں نے ڈرائنگ روم میں بیٹھا کر چائے سرو کی تو مرحہ کا پیغام آیا کہ اندر آجائیں ۔
مرحہ کے کمرے میں داخل ہوتے وقت ضحی کی تو آنکھیں ہی پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ زمین سے لے کر چھت تک کمرے کی دو دیواریں کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔
مرحہ نے بہت خوش اسلوبی سے استقبال کیا اور بریانی کے لیے شکریہ ادا کیا۔ضحی آمنہ کو رشک سے دیکھ رہی تھی جو کچھ ہی سکینڈز میں مرحہ کی پکی دوست لگ رہی تھی۔ضحی صوفے میں اندر تک دھنسی بس یہ سوچ رہی تھی کہ میں تو اتنی کتابیں نہیں پڑھ سکتی ۔ہمت ہے بھئی۔میری آنکھوں میں درد شروع ہوجائے ۔ضحی کو ماضی کے دریچوں سے وہ وقت یاد آیا جب کتاب بینی کے دوران ہی وہ بے ہوش ہوگئی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ پینک ہوتی مرحہ کی آواز اسے حال میں کھنچ لائی۔
مرحہ نے ضحی کو سوچوں میں گم کتابوں کی طرف تکتے ہوئے پا کر کہا۔
“ضحی یہ کتابیں میری انرجی جنریڑرز ہیں۔میری بہترین دوست، تنہائی کا ساتھی ہیں ایک کمرے رہتے ہوئے مجھے پوری کائنات سے متعارف کرواتی ہیں، مجھے ان سے ہمت اور طاقت ملتی ہے۔سوچ کو مثبت اور اچھی خوراک ملتی ہے ۔تم جو چاہو ان میں سے پڑھنے کے لیے لے سکتی ہو” ۔
ضحی نے بس سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔ آمنہ مرحہ سے اجازت لے کر نکل آئی اب دونوں باغ کی طرف محو سفر تھیں۔ جہاں مالی کچھ بیج لگا رہا تھا۔آمنہ نے ضحی سے اچانک پوچھا۔۔
“ضحی خوابوں کی آبیاری لگن سے کی جاتی ہے اور اس کا بیج کیا ہوتا ہے؟”.
ضحی کے سوالیہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“محبت۔۔۔”
جاری ہے




بشکریہ

جواب چھوڑیں