​وہ لائے میرے لیے اک لگام ہیروں جڑی۔۔ستیہ پال آنند


لگام کیا تھی، جھمکڑا تھا، جگمگاہٹ تھی
کہ جیسے کوئی بھبھک، پھلجھڑی ہو، کوندا ہو
مرا تو جی بہت للچایا دیکھ کر اس کو
خیال آیا، اک مدّت سے میں مقید ہوں
یہ اصطبل ہی مرا بندی گھر ہے، زنداں ہے
بندھا ہوا طنابوں سے ہر چہار طرف!
ہے شرط ایک ہی ان سے مری رہائی کی
اصیل بن کے رہوں شاہ کی سواری میں
یہ ناک بند شکنجے، یہ کاٹھ بیڑیاں، سب کچھ
اٹھا ئے جائیں گے، اور پھر غرور و نخوت سے
لگام ہیروں جڑی میں کروں گا زیب گلو
مگر یہ یادیں مرے ذہن سے کہاں جائیں
کہ ’’پیدا شدہ‘‘ تو آزاد تھا ہوا کی طرح
وہ ٹنڈرا، وہ ’پریری‘ ، مراغ، کاہستان
وہ بے عنان چراگاہوں میں ہوا خوری
وہ بھاگ دوڑ، وہ پھُرتی، وہ جوش، بل بوتا
وہ میری ترت پھرت، ذوق و شوق، تاب و تواں
یہ یادیں مجھ کو تو راضی نہیں ہونے دیتیں
مجھے یہ روک ، یہ بندش، یہ حبس ہے منظور
مگر میں ہیروں جڑی اس لگام کی خاطر
کسی بھی شاہ کا محکوم نہیں بن سکتا
(یہ نظم پہلے انگریزی میں لکھی گئی)




بشکریہ

جواب چھوڑیں