اصلاحات کا فطری عمل۔۔اسلم اعوان


بظاہر یوں لگتا ہے کہ سیاسی تنازعات قومی وجود کی جزیات تک سرایت کرتے جا رہے ہیں اور یہی کشمکش کسی ایسے انتشار کو جنم دینے والی ہے، جسے سنبھالنا دشوار ہو جائے گا لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اصلاحات کا عمل اس وقت تک کارگر ثابت نہیں ہوتا جب تک اس کے اثرات معاشرے کی جزیات تک رسائی نہیں پا لیتے۔ یہ پیچیدہ کام محض تشہیری مہمات، قانون کی قوت نافذہ یا سرکاری اہلکاروں کی مشقِ ناز سے ممکن نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اسے کشمکش ضدین ہی گراس روٹ لیول تک پہنچا کے کسی قابلِ عمل توازن میں ڈھالنے کا وسیلہ بن سکتی ہے؛ چنانچہ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ روز بروز بڑھتی ہوئی سیاسی مبارزت بالآخر قومی سیاست کو ایسا فکری ارتکاز فراہم کرے گی جو ہماری قومی سلامتی کا ضامن بن جائے گا۔ اگرچہ یہ بات کئی لوگوں کو ناگوار گزرے گی لیکن حقیقت یہی ہے کہ قوم کی اکثریت سویلین بالادستی کے جس بیانیے پہ یکسو ہوتی چلی جا رہی ہے وہی دراصل سیاسی تطہیر کا محرکِ اصلی اور ہمارے اجتماعی دکھوں کا مدوا ثابت ہو گا۔ ممکن ہے اس میں کچھ مزید وقت درکار ہو اور یہ امر بھی خارج از امکان نہیں کہ اس مقبول بیانیے کے حامل موجودہ سیاسی کردار منظر سے ہٹ جائیں لیکن اس زندہ و زرخیز سوچ کی لہروں کو اب زنجیر پہنانا ممکن نہیں رہا، جس نے پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ تیزی سے بدلتے حالات سے عیاں ہے کہ کوئی بھی خود کو اس مہم میں غیر جانبدار نہیں رکھ پائے گا کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وسعت اور سوشل میڈیا کے استعمال نے بائیس کروڑ لوگوں کو قومی امور پہ جاری اس کشمکش میں کھینچ لیا ہے، وسیع عوامی تلویث کے باعث کوئی سیاسی جماعت عوامی مفاد پہ سودے بازی کی جسارت نہیں کرے گی، اگر کسی نے آئینی و جمہوری حقوق اور بنیادی آزادیوں کی قیمت پہ اقتدار حاصل کرنے کی ٹھانی تو اسے بڑے پیمانے پر عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا، گویا ‘موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں‘۔
تخلیقِ پاکستان کے فوری بعد اگر صاحبانِ اختیار سماجی وجودکو آئینی خطوط پہ استوار کرتے تو ہماری قبائلی اور نیم قبائلی معاشرت بتدریج ایک ایسی صحت مند سوسائٹی کا روپ دھار سکتی تھی، جو اپنے آئینی، سیاسی اور سماجی حقوق کی نگران بن سکتی تھی لیکن افسوس کہ اس وقت کسی کج کلاہ کو سماجی نمو کا ارتقا سوٹ نہیں کرتا تھا؛ چنانچہ ہر طالع آزما سٹیٹس کو میں ہی اپنی بقا تلاش کرتا رہا، اس لئے دانستہ طور پہ قبائلیت، برادری ازم، نسلی و لسانی عصبیتوں اور علاقائی گروپوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا گیا تاکہ منقسم اور متحارب گروہوں کو آگے پیچھے کرنا اور سنبھالنا آسان ہو لیکن اسی چیرہ دستی نے پاکستان کے مجموعی قومی تشخص کو کنفیوز اور سماجی تفریق کی لکیروں کو مزید گہرا کر دیا۔ اسی وجہ سے سیاسی شعور اور عمومی سماجی بیداری کی سطح مزید نیچے ہوتی گئی اور یوں رفتہ رفتہ شہریوں کی اکثریت ملکی معاملات سے لاتعلق ہوتی گئی۔ اسی ذہنی زوال کی بدولت جمود کی یبوست ہمارے معاشرے کی رگ وپے تک اترتی چلی گئی، جسے روایتی طریقوں سے تیار کردہ اصلاحاتی مہمات کے ذریعے متوازن بنانا مشکل ہوتا چلا گیا بلکہ وہ لوگ جو عوام کیلئے دام بچھاتے تھے، نت نئی اصلاحات کے ذریعے غریبوں پہ کئی بوجھ لادتے اور طاقتوروں کو مزید توانائی فراہم کرتے رہے۔
اگر ہم پلٹ کے دیکھیں تو اسی نفسیاتی پس منظر میں ماضی و حال میں اعلیٰ سطح پہ متعارف کرائی جانے والی تمام اصلاحاتی سکیمیں ناکام ہو کے بگاڑ میں اضافے کا سبب بنتی گئیں۔ صدرایوب خان کی من مانی سیاسی اصلاحات نے تحریک آزادی کے دوران پروان چڑھنے والے نہایت فعال اور مخلص سیاسی کارکنوں کی کھیپ اور اُجلی روایات کی امین سیاسی لیڈر شپ کو نگل لیا، انہوں نے ایبڈو کے ذریعے سینکڑوں تجربہ کار سیاستدانوں کو قومی دھارے سے نکال باہر پھینکا اورمعاشرے کی اکثریت قومی امور سے بیدخل ہو گئی۔ ذولفقار علی بھٹو کی انبوہی سیاست نے قومی سطح پر سیاسی شعور کی آبیاری ضرور کی لیکن وہ خود ہی اپنے فکری تضادات کا شکار ہوگئے۔ ابتدا میں بھی اور اب بھی جمہوریت کا مفہوم متوسط طبقے کی حکومت ہوتا ہے؛ تاہم بھٹو صاحب جمہوریت کو جاگیرداروں کے مفادات میں ڈھالنے کی کوشش کرتے رہے، ان کی جمہوری اصلاحات کا ہدف صنعتکار طبقہ بنا اور سوشل ازم کے نعروں کی گونج میں انہوں نے نجی صنعتی ڈھانچے کو منہدم کر کے فطری بنیادوں پر کھڑے خود مختار معاشی نظم و ضبط کو تحلیل کرنے کے علاوہ سول بیوروکریسی کے مضبوط سرکاری ڈھانچے کو کمزور کر کے مارکیٹ اکانومی کے ساتھ قانون کی عملداری کو بھی ناقابلِ تلافی زک پہنچائی۔ پیپلزپارٹی کی جاگیردار قیادت نے جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ کے کھیت کھلیانوں میں کام کرنے والی خواتین اور مزدور کو یہ سمجھنے کی مہلت نہ دی کہ یہ آزادی اور مساوات کے نعرے انہی کیلئے تھے۔ زیڈ اے بھٹو نے سرکاری ڈھانچے کی تطہیر کی آڑ میں بغیر کسی منصفانہ تحقیق کے سینکڑوں سول اور عسکری افسران کو ملازمتوں سے برطرف کر کے ایسا گہرا انتظامی خلا پیدا کیا جسے پُر کرنے کیلئے مقتدر قوتوں کو آگے بڑھنا پڑا۔ بالکل اِسی طرح ضیاء الحق کی اصلاحات نے مقدس اقدار اور بوریہ نشیں علماء کرام کی ساکھ کو داغدار کرنے کے علاوہ عمیق تشدد کی آبیاری کر کے اجتماعی حیات کا سارا چین برباد کر دیا۔ اُسی عہد کے نادیدہ خوف نے ہر گروہ کو نسلی، لسانی اور دیگر عصبیتوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا جس سے پُرامن معاشرے کے قیام کا خواب چکناچور ہو گیا لیکن اس زیرک حکمران نے ملک میں ایسا توانا تجارتی طبقہ پیدا کیا جو نہ صرف جاگیرداروں کا مقابلہ کر سکتا تھا بلکہ اپنی اقتصادی طاقت کے مطابق حصولِ اقتدار کیلئے میدان میں اتر آیا ہے۔
پرویز مشرف کی آمریت گزیدہ روشن خیالی اور اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کی بابت متعارف کرائی گئی مہمل اصلاحات کے نتیجے میں سول بیوروکریسی پہ محمول انتظامی مشینری متروک بنا دی گئی اور اعلیٰ صلاحیتیں لے کر آنے والے ڈی ایم جی افسران سر جھکائے پیچھے پلٹ گئے، ضلعی سطح کی سول بیوروکریسی‘ جو گورنمنٹ کا چہرہ اورسرکاری احکامات کے نفاذ کا مؤثر ٹول تھی‘ غیرفعال ہوئی تو لوگوں نے جزا و سزا کا عمل ہاتھ میں لے کر سڑکوں پر خود انصاف دینا شروع کر دیا۔ المختصر اصلاحات کے یہ سارے طبع زاد منصوبے تجربات کی کسوَٹی پر بیکار ثابت ہوئے اور ہر آنے والے دن گورنمنٹ کی عملداری کوکمزور کرتے گئے۔ ماہرین سماجیات کہتے ہیں کہ معاشرتی وجود کو قانون کی طاقت سے متشکل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اجتماعی محرکات‘ جن پہ سماجی نظام کھڑا ہے‘ اُن انفرادی جبلتوں سے کہیں زیادہ کمزور ہیں جو حصولِ دولت اور جذبے سے متعلق ہیں اور یہی جبلتیں ہمارے اقتصادی و سیاسی نظام کی تہ میں کارفرما نظر آتی ہیں۔
خوش قسمتی سے آج سیاسی اصلاحات کا علم لے کر اٹھنے والی پی ڈی ایم کی تحریک‘ جو پوری توانائی کے ساتھ سرگرم عمل ہے‘ نے اصلاحات کی خواہش کو ہمارے سماج کی جزیات تک پہنچا کے کسی حقیقی تبدیلی کے امکان کو زندہ کر دیا ہے۔ اس وقت اگرچہ پی ڈی ایم کی جماعتیں اپنے داخلی تضادات پہ قابو پانے میں الجھی نظر آتی ہے لیکن پیپلزپارٹی سمیت تمام گریز پا قوتیں سویلین بالادستی اور آئین کی حکمرانی کے بیانیے سے انحراف کی جرأت نہیں کر پائیں گی۔ پیپلزپارٹی اور اے این پی کی بقا کے تقاضے انہیں ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے ہٹنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ ہمیں پیپلزپارٹی کے وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کی حکمت عملی پہ چیں بہ جبیں ہو نے کی ضرورت نہیں۔ وہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ سویلین بالادستی کی تحریک کا سارا فائدہ نواز لیگ اور مولانا فضل الرحمن کی جھولی میں گرے گا لیکن اسی اُلٹ پھیر میں وہ اپنا باقی ماندہ وجود بھی گنوا بیٹھیں گے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ملک میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا تو پیپلزپارٹی اور اے این پی پاور پالیٹکس کے اکھاڑے سے باہر ہو جائیں گی۔ نواز لیگ ملک کے طول و عرض میں پھیلے کمزور سیاسی طبقات اورجمہوریت کے طلبگاروں کیلئے امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔ اگر انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوئے تو جمعیت دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے خاصا ٹف ٹائم دے گی۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں