گارسیںؔ: "بس چھوڑو اس بات کو۔ ۔ ۔ اس بات کا ذکر ن…

گارسیںؔ:
"بس چھوڑو اس بات کو۔ ۔ ۔ اس بات کا ذکر نہیں ہو گا۔ میں یہاں اس لئے ہوں کہ میں اپنی بیوی کو اذیت پہنچاتا تھا۔ بس۔ ۔ ۔ اور کچھ نہیں۔ ۔ ۔ پانچ سال تک ۔ ۔ ۔ وہ اب بھی اذیت میں ہے۔ ۔ ۔ وہ رہی میری بیوی ! جب بھی میں اس کا ذکرکرتا ہوں وہ میرے سامنے آجاتی ہے۔ میں اپنے دوست گومیزؔ کودیکھنا چاہتا ہوں اور میرے سامنے وہ آ جاتی ہے۔ گومیزؔ کہاں ہے؟ اوہ ۔ ۔ ۔ انہوں نے میری چیزیں اس کے حوالے کر دیں۔ وہ میرا کوٹ اپنے گھٹنوں پر رکھے کھڑکی کے پاس بیٹھی ہے ۔ ۔ ۔ بارہ گولیوں کے سوراخوں والا کوٹ ۔ ۔ ۔ میرا…

More

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3067080896855756

جواب چھوڑیں