امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں افتخار عار…

امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
افتخار عارف
امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

بکھر چکے ہیں بہت باغ و دشت و دریا میں
اب اپنے حجرۂ جاں میں سمٹ کے دیکھتے ہیں

تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

More

May be an image of one or more people and people sitting

جواب چھوڑیں