سماج میں کمزور کی نفسیات – قاسم یعقوب

بچے کو پیدا ہوتے ہی جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ شناخت کا ہے۔ وہ اپنے اردگرد سے مطابقت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی شناخت تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ وہ تجزیہ کرتا ہے کہ اس کے اردگرد کس طرح کے افراد ہیں اور وہ ان میں کیسا ہے؟ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا اور اس کا مقصدِ حیات کیا ہے؟ اپنے اردگرد افراد سے اس کا کیا رشتہ ہے؟ اسے کن اشیا کے لیے تگ و دو کرنی پڑتی ہے اور کون سی چیزیں اسے خود بخود میسر آ جاتی ہیں؟ وہ بہت جلد ایک فہرست مرتب کر لیتا ہے کہ اس کے وجود کو کن اشیا کی ضرورت ہیں اور کن کے بغیر وہ باآسانی گزارہ کر سکتا ہے؟ کون سی چیزیں اس کی حیاتیاتی ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں اور کون سی جمالیاتی طور پر اس کے احساس میں شامل ہیں؟ یہ کانٹ چھانٹ اس کے فطری عمل کا حصہ ہوتا ہے۔ بالکل یہی عمل جانوروں کے بچوں میں بھی رونما ہو تا ہے۔ وہ بھی آنکھ کھولتے ہی اپنے معروض سے نبردآزما ہونے لگتے ہیں۔ جانور اور انسان کے بچپنے میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ انسان کا بچہ معروض میں اپنی شناخت متعین کرنے کے علاوہ سماج سے بھی ٹکرارہا ہوتا ہے۔ جانور سماج میں نہیں رہتے مگر انسان ایسا جاندار ہے جو سماج کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔اسے ہر حال میں دوسرے انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہنا ہوتا ہے۔ وہ سماج میں رہتے ہوئے صرف اپنے حصے کاکردار ادا کرتا ہے۔ اس کے زندہ رہنے کے لیے بہت سا کام سماج کر رہا ہوتا ہے۔ ایک جانور کو زندہ رہنے کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ انسان اس حوالے سے بہت خوش قسمت ہے کہ وہ زندہ رہنے کے بنیادی تقاضوں کے لیے پریشان نہیں رہتا۔ جیسے لباس، بھوک اوربیماری وغیرہ۔ وہ بہت کچھ سماج سے اخذ کرتا ہے مگر اس کے لیے محدود سا کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تمام انسان مل کر ایک سماج کی تشکیل کرتے ہیں تو زندہ رہنے کے لیے تھوڑا تھوڑا کام سب کے حصے میں آتا ہے۔

یوں ایک سماج کا حصہ بننے والے بچے کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ صرف فطری شناخت ہی کا نہیں رہتا بلکہ وہ یہ بھی جان رہا ہوتا ہے کہ سماج اس پر کتنا اثر انداز ہو رہا ہے اور وہ اسے کیسے متاثر کر سکتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سماج کو گرفت میں لے اور اپنی مرضی اسے چلائے۔ اس کے حصے کا کام بھی وہ خود نہ کرے بلکہ دوسرے کریں، مگر اسے جلد احساس ہو جاتا ہے کہ اس کا دائرہ اثر بہت محدود ہے۔ سماج میں جگہ جگہ رکاوٹیں اُسے روکتی ہیں، اس کی آزادی کی راہ میں مزاحمت پیش کرتی ہیں۔ ایسا بچہ جو سماج کی طرف سے متعین کردہ رکاوٹیں کم کرنے یا توڑنے میں کا میاب ہو جاتا ہے، اس کے اندر یہ احساس جاگنے لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے۔ وہ جانچتا ہے کہ اس کے اردگرد افراد کو طرح طرح کی سماجی و فطری رکاوٹوں کا سامنا کیوں رہتا ہے۔ ہر انسان اپنی حدود کے اندر کسی دوسرے کی مداخلت پسند کیوں نہیں کرتا۔ ایک فرد جونہی کسی دوسرے کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسے پرے دھکیل دیتا ہے۔ بچہ بہت آغاز میں اس عمل اور ردعمل کو سمجھ لیتا ہے کہ چند افراد تو ایسے ہیں جوخود پر نافذ رکاوٹوں کو توڑ سکتے ہیں۔ ان کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ سماج میں اپنی مرضی کا کچھ کر سکیں مگر بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جو اپنے دائرے میں بھی اپنی مرضی نہیں کر سکتے۔ یہ احساس بچے میں طاقت اور شناخت کے فرق کے ساتھ پیدا ہونا شروع ہوتا ہے۔ فطری اور سماجی شناخت کو پہچاننے کے بعد اس کا پہلا مرحلہ طاقت کو پہچاننا ہوتا ہے۔ وہ اس سوال کا جواب پانے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے کہ آخر یہ طاقت کیا چیز ہے؟ اگر بچہ ہوش سنبھالتے ہی اپنے اردگرد طاقت کا منفی اثر دیکھ رہا ہے تو اسے اس کی اہمیت کا شدید احساس ہونے لگتا ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ بہت غریب، محروم اور کمزور بچے بہت ابتدائی عمر میں ہی طاقت کے شدید خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ جونہی فطری شناخت سے آگاہ ہوتے ہیں، ان کو سماج میں طاقت کی ٹھوکروں کا سامنا ہونے لگتاہے۔ وہ دھتکارنے اور رَد کیے جانے کے تجربات سے گزرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح دوسری طرف ایسے بچے ہوتے ہیں جو طاقت کے اثر انداز ہونے کے واقعات کو بہت چھوٹی عمر میں ہی تجربہ کرنے لگتے ہیں۔وہ طاقت کو اپنے بدن میں جنسی جذبے کی طرح موجزن ہوتے محسوس کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ طاقت ایسی قوت ہے جو سماج میں رہنے کے لیے بہت لازمی ہے۔ اس کے بغیر سماج کا حصہ نہیں بنا جا سکتا۔ ان کی تربیت میں بھی اسی ایک بات پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ خود کو کمزوروں سے ممتاز رکھیں۔یوں وہ کائنات سے اپنے فطری رشتوں کی تلاش کے ساتھ ساتھ اپنی طاقت کی حدود کو بھی پوری طرح سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

کمزور کی نفسیات بہت دلچسپ ہوتی ہے۔ وہ اپنی حدود کا تعین کرنے کے بعد مندرجہ ذیل تین طرح کی کیفیات میں رہنے لگتاہے:

۱۔   کمزور بہت جلد پہچان لیتا ہے کہ وہ طاقت نہیں رکھتا اور اس کا دائرہ اثر بہت محدود اور مختلف ہے۔ کمزور شخص سماج کا حصہ بنتے کے لیے قدم قدم پر اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ وہ طاقت ور کے دائرے میں کہیں پاؤں نہ رکھ دے۔ اسے ہر حال میں اپنے دائرے میں رہنا ہے۔ یوں اس کے اندر طاقت کا خوف ہر وقت موجود رہتا ہے۔ جبھی تو وہ یہ محتاط عمل انجام دے سکتا ہے۔ اس کی نفسیات اس خوبصورت عورت کی طرح ہوجاتی ہے جو بھیڑ میں جنسی درندوں سے بچنے کی کوشش میں علیحدہ چل رہی ہو۔ جس طرح کی نفسیاتی حد بندی کمزور کی ہوتی ہے بالکل اسی طرح طاقت ور بھی کمزور سے ایک فاصلہ قائم کرنے کی کوشش میں رہتا ہے، لہٰذا وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کمزور اس کے قریب ہونے کی کوشش کرے۔ شاید طاقت ور کی بقا ہی اس میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا اظہار کرتا رہے ورنہ وہ کمزور قرار پائے گا۔ بعض اوقات کمزور کو سخت مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ وہ ساری زندگی پھونک پھونک کر قدم رکھنے سے اس عمل کا عادی ہوجاتا ہے اور مان لیتا ہے کہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے اس کے دائیں بائیں نکلتی راہوں سے اسے کوئی لینا دینا نہیں، اسے اپنی راہ چلتا رہنے ہی میں عافیت ہے۔ کسی طاقت ور کی راہ پر جانکلنے سے وہ کچلا بھی جا سکتا ہے۔ بالکل اس گھوڑے کی طرح جس کی آنکھوں کے کناروں پر چمڑا ٹانک دیا جاتا ہے تا کہ وہ صرف اپنے سامنے نظر رکھ سکے اور مقررہ راستوں ہی پر چلے۔

۲۔   کمزور شخص اپنے آپ کو سماج کے اندر ایک محدود سے دائرے میں مقید تو کر لیتا ہے مگر اس کی ساری زندگی یہی کوشش اور خواہش رہتی ہے کہ وہ کسی طرح دیوار کے دوسری طرف بھی جھانکے اور دیکھے وہاں کیا ہو رہا ہے۔ وہ طاقت وروں کے حلقے میں داخل ہونے کی خواہش ساتواں در کھولنے کی طرح اپنے اندر رکھتا ہے۔ طاقت ور کی چکا چوند اور اشیا پر دسترس کا نشہ کمزور کو ہر وقت ہلکان کیے رکھتا ہے۔ وہ کمزور ہوکر طاقت ور بننے کی اداکاری کرتا رہتا ہے۔ ان جیسی ثقافت اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے قریب ہو کے خود کو طاقت ور سمجھنے کے جتن کرتا ہے۔جہاں اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ان جیسا نہیں، وہ فوراً کمزوروں جیسا بن جاتا ہے۔

۳۔   کچھ کمزور بھرپور تگ و دو کے بعد بالآخر طاقت ور بننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر وہ چوں کہ کمزور طبقے سے طاقت بنے ہوتے ہیں، اس لیے ان میں دونوں طرح کی نفسیات کا عمل دخل رہتا ہے۔ وہ کمزوروں کا ہمدرد ہونے سے گریز کرتا ہے، کیوں کہ اس طرح وہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ کمزور ہو چکا ہے۔ وہ طاقت کا اظہار طاقت وروں کی طرح کرتا ہے۔ یوں وہ دو کیفیات میں زندگی گزارتا ہے۔

کمزور اور طاقت ور کی یہ تفریق ان سماجوں میں زیادہ گہری ہوتی ہے جہاں ریاستی قانون قوانین کمزور ہوتے ہیں۔اجتماعی قوانین کی کمزوری سے انفرادی طاقتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ ایسا سماج جن میں ریاستیں خود طاقت ور بن چکی ہوں اور عوام کمزور قرار دیے جا چکے ہوں، وہاں طاقت ور افراد اپنی طاقت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے ریاستوں کے ساتھ مل کر کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں یا انھیں کمزور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ریاستیں بھی سماج میں ایسے افراد کو خوش آمدید کہتی ہیں جو ان کی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں۔

کمزور کی نفسیات بڑی عجیب ہوتی ہے۔ وہ چکی کے پاٹوں میں گھومتے دانوں کی طرح ہوتا ہے۔ جب تک چکی چلتی رہتی ہے، وہ پسنے کی کیفیت میں رہتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں