سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جا سنگ در ح…

سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جا
سنگ در حبیب پر سر کو جھکا کے بھول جا

عشق کو برقرار رکھ دل کو لگا کے بھول جا
اس سے بھی مطمئن نہ ہو اس کو بھی پا کے بھول جا

دل سے تڑپ جدا نہ کر ساز کو بے صدا نہ کر
درد جو ہو فغاں طلب ہونٹھ ہلا کے بھول جا

درد اٹھے اٹھا کرے چوٹ لگے لگا کرے
کچھ بھی ہو تو بہ نام دوست ہنس کے ہنسا کے بھول جا

More

جواب چھوڑیں