اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط14)۔۔سلمیٰ اعوان


اٹلی کا قومی شاعر گوزیو کاردوسی

o اٹلی کے پہلے نوبل ایوارڈ یافتہ قومی شاعر گوزیو کاردوسی کی سوچ بڑی انقلابی تھی۔
o اُس کا کہنا تھا کہ شاعری ہی وہ ہتھیار ہے جو کِسی بھی قوم کے شعور کی بیداری اور اُسے سیاسی بلوغت دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
o شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک اچھا استاد،بہترین نثرنگار اور تنقید نگاربھی تھا۔
o ملکی سیاست میں بھی وہ بڑا فعال تھا۔

tripako tours pakistan

پہلا تعارف روم میں ایزولینا کی زبانی ہوا تھا۔ اپنے قومی اور نوبل انعام یافتہ شاعر پر بات کرتے ہوئے اس کا لہجہ خاصا پر غرور سا تھا۔ تفصیلی تعارف مسز ریٹا سمتھ کی سٹڈی روم میں ہوا۔یوں یہاں دانتےDantaکانسی کے بڑے اور گوزیو کاردوسیGiosue Carducei ذرا چھوٹے دیدہ زیب مجسموں کی صورت موجود تھے۔دانتے سے تعارف ڈیوائن کومیڈی کے حوالے سے پرانا تھا۔مگر اس کی مخصوص طوطے جیسی ناک سے شناسائی یہاں اٹلی میں ہوئی۔
مگر یہ صورت۔ وجاہت برستی تھی۔ بنانے والے کی ہنرمندی کو بھی سراہنا پڑا تھا کہ دانشوری کا گھمبیر سا تاثر فنکار نے کمال فن کی صورت چہرے پر بکھیر دیا تھا۔ داڑھی اور مونچھیں بھی کمال کی تھیں۔ یہ صدی دو صدی پہلے کے بڑ ے بڑے لکھاری، دانشور، سائنس دان اور فنون لطیفہ کے ماہر اپنی تمام تر روشن خیالی کے باوجود اتنی بڑی بڑی مونچھیں اور داڑھی رکھتے تھے۔ کیا ایسا کرنا تب معاشرے میں مردانگی کی علامت سمجھی جاتی تھی یا پھر سست الوجودی اور کاہلی کا کوئی مسئلہ ہوتا تھا؟
مسز ریٹا کے لہجے میں بھی چھلکتے فخر کا احساس اور اظہار بڑا زور دار قسم کا تھا۔
”ہمارے ملک اٹلی کا پہلا نوبل ایوارڈ یافتہ اور ماڈرن اٹلی کا قومی شاعر۔“
دراصل شدید خواہش کے باوجود مسز سمتھ کا سٹڈی روم میرے لئے ابھی تک شرلک ہومز جیسا اسرار لئے ہوا تھا۔ پہلے دن کی پہلی شام اس کے دروازے ضرور کھلے تھے مگر اندر جانے، وہاں بیٹھنے اورشیلفوں میں بند ہیروں کو دیکھنے کی حوصلہ افزائی نہ تھی۔ آج شام کو ان کے گھر جاتے ہوئے میں نے دل میں کہاتھا۔
”اب دم واپسی ہے۔ ڈھیٹ بن کر مدّعا ضرور گوش گزار ہوگا۔“
وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوئیں۔ روم کے بارے باتیں ہوئیں۔ میرے تاثرات اور تجربات بڑے ہی دل خوش کن تھے۔ پیسا کے بارے بھی بتایاکہ کل وہاں جانے کا ارادہ ہے۔ مسرور ہوئیں۔ پھر درخواست کو بھی پذیرائی ملی۔ کتابوں، مجسموں اور پھول پتوں میں گھرے کمرے میں سانس لیتے ہوئے اپنے اندر سرشاری کی سی کیفیت روح تک میں اُترتے محسوس کرتے ہوئے میں
فکر وآگہی کی دنیا میں داخل ہوئی تھی۔
میں شاعر سے تفصیلی متعارف ہوناچاہتی تھی۔مجھے محسوس ہوا تھا جیسے شناسائی کی ساری منزلیں مسز ریٹا سمتھ خود طے کروانا چاہتی تھیں کہ شاعر سے بڑا عشق تھا۔مگر میں بھی ایک نمبر کی کائیاں۔ میرے دل نے کہا تھا۔
”آپ کی محبت کا بہت شکریہ۔ مگر پلیز جانیے میرا تو رشتہ ہے اس سے۔میرے قلم قبیلے کا فرد ہے۔“
مسز سمتھ کی مہربانی،اُن کی نوازش کہ انہوں نے بھاپ اڑتی کافی کا مگ مجھے پکڑایا۔بھاپ کے مرغولوں میں سے جھانکتی، شیلف پر سجی بے حد ذہین آنکھوں نے مجھے دیکھا۔مسکراتے ہوئے میں نے کہا۔
”گوزیو تمہاری زبان سے سننے کا تو اپنا ہی لطف ہوگا۔اور تمہیں تو انگریزی پر بھی بہت عبور ہے۔“
میں نے گھونٹ بھرا۔ایک بھاری سی آواز گونجی تھی۔ایک سوال ہوا۔
”تم نے لوکا Lucca دیکھا ہے؟“
”کل پیسا کے لئے روانگی ہے۔ لوکا بھی جاؤں گی۔ فلورنس کا بھی پروگرام ہے۔
میرے لہجے میں کہیں مسرت اور کہیں شوق کا اظہار تھا۔
”لوکا بہت خوبصورت جگہ ہے۔تمہارے اِس شاعر نے لوکاLucca کے ایک چھوٹے سے قصبے والدی کیسٹلوValdicastello میں 1835کے سال جنم لیا تھا۔
ارے ہاں یاد آیا۔ بتاتا چلوں تمہیں کہ اِس جگہ سے قریب ہی وہ سمندر ہے جہاں انگریزی ادب کا وہ مشہور شاعر شیلے ڈوب کر مرگیا تھا۔“
”ہائے۔“ میرے اندر سے ہوک اُٹھی تھی۔ کیا خوبصورت شاعر تھا؟
میرا گھرانہ قدیم فلورنٹائن روایات کا اسیر تھا۔میرے دادا کو اپنے وقت کی انقلابی تحریکوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہاں اُسے اپنے ڈیوک سے بہت پیا رتھا مگرمیرے بابا میخائل
کاردوسی جو ایکمائننگ کمپنی میں ڈاکٹر تھا۔ بڑا انقلابی تھا۔ اٹلی کے اتحاد کا سب سے بڑا داعی۔کاربونیری Carbonari (اٹلی کی خفیہ تنظیم آزادی) کے ساتھ منسلک ہونے اور ملکی سیاست میں سرگرمی سے حصّہ لینے کی پاداش میں وقت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں کھٹکتا اور نتیجتاً خاندان کو ٹک کرایک جگہ رہنا نصیب نہ ہوتا۔شاعر کا سارا بچپن اِدھر اُدھر گھومتے گزراتھا۔اسی دربدری میں کچھ سال فلورنس میں بھی گزرے۔
اگر میں اپنے بچپن کی یادوں بارے کوئی بات کروں تو کہنا پڑے گا کہ دو واقعات ایسے تھے کہ وہ ہمیشہ اپنی پوری توانائی سے میرے اندر محفوظ ہوئے اور گاہے گاہے ان کی جھلمل اپنی پوری آب و تاب سے سامنے آتی رہی۔
ابھی میں چھوٹا ہی تھا۔ہمارے گھر کے پچھواڑے باغ تھا۔اب جگہ کیسی تھی اس کی خوبصورتی یا بدصورتی کا کوئی واضح تصور ذہن میں نہیں۔مجھے موسم بھی یاد نہیں۔یہ بہار کے دن تھے۔کیا سردیاں تھیں؟گرمیاں یا خزاں کے دن۔بس اتنا سا یاد پڑتا ہے کہ جیسے زمین سے آسمان تک ہر چیز گیلی گیلی اور دھواں دھواں سی تھی۔میری ہی عمر کی ایک لڑکی میرے ساتھ کھیل رہی تھی۔اس کے رسے کا ایک کونا میں نے پکڑا ہوا تھا اور وہ ٹاپ رہی تھی۔دفعتاً ایک بدصورت مینڈک نما چیز ہمارے پاؤں کے سامنے آگئی۔ایک خوفناک سی چیخ ہم دونوں کے حلق سے نکلی اور فضا میں بکھر گئی۔دفعتاً عین سامنے والے گھر کا دروازہ کھلا۔لمبی سیاہ داڑھی والا ایک مرد کتاب ہاتھ
میں پکڑے دروازے میں نمودار ہوا۔اس کی نگاہوں میں غصے کی تپش تھی اور اس نے مجھے ڈانٹا تھا۔رسہ پھینک کر میں اس کی طرف بھاگاچلاتے ہوئے۔
”دفع ہوجاؤ۔تم بدصورت انسان۔دفع ہوجاؤ۔“
وقت کا یہ کوئی فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے میرے اندر یہ بیج بو دیا کہ میں نے زندگی بھر ہر اُس آدمی کو جس نے مجھے اخلاقیات کے نام پر لعن طعن کرنے کی کوشش کی۔یہی کہا۔
ہاں اب دوسرا واقعہ بھی سنائے دیتا ہوں۔
گھر کا ماحول بے حد منظم اور سخت تھا۔ مجھ سے چھوٹے دو بھائی تھے۔ بچوں کی مجال نہ
تھی کہ اپنی مرضی سے کوئی کام کر لیتے۔ مجھے جانور پالنے کا بہت شوق تھا۔ مگر اجازت ہی نہ تھی۔ اب کڑھنا اور احتجاج کرنا تو ضرور ی تھا۔ ماں کا سوالوں سے ناک میں دم کر دیتا۔
میڈر (ماں) آخر میں عقاب کو کیوں نہیں پال سکتا۔مجھے اُلّو بہت پسند ہیں۔میں اُسے گھر میں رکھنا چاہتا ہوں۔میڈرمجھے اجازت دو کہ میں بھیڑ کا بچہ رکھوں۔
وہ کام کرتے کرتے بیٹے کی اِن معصومانہ باتوں کو سُنتی اور دھیرے سے کہتی۔
”تمہارا باپ پسند جو نہیں کرتا۔“
پھر یوں ہوا کہ میں بھائیوں سے سازباز کرکے اُلّو گھر لے آیا۔جیب خرچ جمع کرتا رہا اور چھوٹا سا عقاب خرید لیا اور پھر بھیڑیا کا بچہ بھی پالنے لگا۔
بھانڈا ایک دن پھوٹ گیا۔گھر کے پچھواڑے رکھے ہوئے پرندوں میں اُلّو مار دیا گیا، عقاب کو اڑا دیا گیا اور بھیڑئیے کے بچے کو بھگا دیا گیا۔
اور جب میں سکول سے گھر آیا۔میرے پچھواڑے کا مال متاع لٹ چکا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے تھے۔
ایسا دل شکستہ اور مایوس سا کہ گھر سے بھاگ کر جنگل میں چلا گیا۔درختوں سے لپٹ کر روتا رہا۔ساحل سمندر کے کنارے پر بیٹھا رہا، آنسو بہاتا اور خود سے باتیں کرتا رہا۔
بچپن کایہ دکھ مجھے ہمیشہ یاد رہا۔میری شاعری میں بھی اس کا اظہار ہوا۔
ادب میں ناموری مقدر کیوں نہ بنتی کہ مطالعہ کا شوق بچپن سے ہی جڑوں میں بیٹھا ہوا تھا۔یوں استاد بننا اور پڑھانا بہت پسند تھا۔ہاں البتہ مطالعہ کرنا میرا بہترین مشغلہ تھا۔واحد خوشی ہر موضوع پر کتاب پڑھنا اور شاعرانہ خیالات اور سوچوں میں گم رہنا ہوتا تھا۔ میرے امیر دوست میرے اِس شوق سے آگا ہ تھے۔ انہیں ہمارے مالی حالات کا بھی علم تھا۔ وہ ہمیشہ کتابوں کا تحفہ دیتے۔ جنہیں میں خرید نہیں سکتا تھا۔
ایک اور خوبصورت یاد حافظے میں محفوظ ہے۔گھر کے ماحول میں بہت سے رنگ گُھلے ہوئے تھے۔والد کے دوست آتے تو زوردار سیاسی بحثیں ہوتیں۔ادب پر گفتگو،تاریخ کے
حوالے،طب،فلسفہ غرض کونسا موضوع تھا جس پر بات چیت نہ ہوتی۔تو اِن سب کا اثر یہی تھا کہ میرے اندر انقلاب،جمہوریت اور تاریخ کے حوالوں سے بہت کچھ باہر نکلنے کے لئیے مضطرب رہنے لگا تھا۔
اس کا پہلا بھرپور اظہار ہماری کھیلوں میں ہوا جو میں اور میرے دوست کھیلتے تھے۔ڈرامے شروع ہوگئے۔سکرپٹ لکھا جاتا جو میں لکھتا۔ملک کے موجودہ حالات کی نمائندگی طوفانی قسم کی میٹنگز سے ہوتی جن میں اختلاف رائے پر پتھر اور ڈانگ سوٹے چلتے۔اور آخر میں ہم ایک بہترین سا لائحہ عمل روم کی حکومت کو دینے کے قابل ہوجاتے۔
تاریخی کرداروں خاص طور پر رومن سیزر اور اُن میں بھی جولیس سیزر اور وہ اس کا سگابھتیجا نیرو۔کبھی کبھی ہماری یہ ڈرامہ بازی اپنے کرداروں کی زبانی اتنا شور وغوغا برپا کر دیتی کہ میرے والد باہر نکلتے۔مجھے بازو سے پکڑ کر گھیسٹتے ہوئے کمرے میں لاتے اور میز پر رکھی تین کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے۔
”انہیں پڑھو۔اور اپنی رائے کا اظہار کرو۔“
یہ کیتھولک اخلاقیات پر مبنی کتابیں ہوتیں۔میں نہیں جانتا تھا میرے باپ کا انہیں پڑھانے سے مجھے کیا سبق دینا مقصود تھا۔
سچ تو یہ تھا کہ مجھے نفرت تھی ایسی سب کتابوں سے۔ میں سمجھتا تھا کہ انہوں نے انسانی
آزادی کو سلب کیا۔ جنگ وجدل کے رحجانات کو ہوا دیتے ہوئے قتل وغارت اور لڑائیوں کو راستہ دکھایا۔ تازہ ہوا سے محرومی اور بھوک ننگ دیا۔
مجھے انہیں پڑھنے اور ان پر وقت ضائع کرنے کی بجائے کمرے میں کھڑے ہوکر کھلی کھڑکی سے فطرت کے نظاروں کو دیکھنااور باپ کی طرف سے عائد کی ہوئی سب سزاؤں کو بھگتنا بہتر لگتا۔
آغاز میں ادب میں سب سے زیادہ متاثر یونانی اور رومن ادیبوں سے ہوا۔ابھی کالج میں قدم رکھا ہی تھا کہ سنجیدہ کلاسیکل ادب کی طرف بھی رحجان ہوگیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میرے
سرہانے لاطینی شاعر ہورسHoraceاور ورجل Virgilرہتے تھے۔ دن رات انہیں پڑھتا اور ان کے عشق میں ڈوبا رہتا۔یہی وہ دن تھے جب میں نے ہومر کی ایلیڈIliadکی کتاب 9کو اطالوی میں ترجمہ کیا۔
1856میں گریجوایشن سے فارغ ہونے کے ساتھ ہی میں نے درس و تدریس کا آغاز کردیا۔اٹلی سے بے پناہ محبت مجھے وراثت میں ملی تھی کہ میرا ڈاکٹر باپ پاگلوں کی طرح اٹلی سے پیار کرتا تھا۔لاطینی میں نے اپنے باپ سے سیکھی تھی۔
یہی وہ سال تھا جو ہمارے چھوٹے سے خاندان پر کِسی قہر کی طرح ٹوٹا۔میرے چھوٹے بھائی دانتے نے خودکشی کرلی تھی۔اُس نے ایسا کیوں کیا؟ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیسا جان لیوا صدمہ تھا؟میں دیکھتا تھا۔میرا باپ اس غم سے کتنا شکستہ ہورہا تھا؟اس کی شکستگی نے اندر ہی اندر اُسے گھول دیا۔چند ہی ماہ گزرے تھے کہ وہ بھی ختم ہوگیا۔
میں نے اپنی ماں کو دیکھا وہ کس قدر اجڑی پجڑی نظرآئی تھی۔میں نے اُسے بانہوں میں سمیٹا۔اس کے بالوں کو چوما اور بڑے بیٹے کی طرح اُن ذمہ داریوں کو اٹھالیا جو میرے اوپر عائد ہوتی تھیں۔ہم اس وقت بہت غریب تھے۔باپ نے جو ورثہ چھوڑا تھاوہ چند شیلنگ تھا۔
غموں کے اِس ہجوم میں میرے پہلے مجموعے Rimکی اشاعت نے مجھے ان کربناک دنوں میں اُس مسرت سے ہم کنار کیا جو کسی شاعر یا ادیب کو اپنی پہلی تخلیق سے حاصل ہوتی
ہے۔اِس مجموعے کی بہت سی نظمیں میرے ہیرو شپ جذبات، جنگ و جدل کی کہانیوں اور قدیم تاریخ کے ظالم اور مہربان کرداروں، تلخ وشیریں واقعات، کھیلوں، خاص طور پر ضلعی ٹورنامنٹوں اور کام سے بے پناہ لگن اور محبت کے حوالوں سے خاصی طویل تھیں۔
اس مجموعے کی ایک خوبصورت نظم” “Love and Death بہت اثر انگیز تھی۔میرے لڑکپن کے کبھی کے سُنے ہوئے پسندیدہ عجیب و غریب سے واقعات، فاتح نائٹ کا کوئین آف بیوٹی کولے جانا،ہیروئن کے بھائی کا تعاقب کرنا،نائٹ کا قتل، اس کا پاگل پن اور پھر موت کے منہ میں چلے جاناجیسے تاریخی واقعہ کا بیان، حب الوطنی اور انقلابی خیالات نے بھی اِن
میں اپنے ہونے کا بہت کھل کر اظہار کیا۔یہ مجموعہ ایک ایسے معاشرے میں تہلکہ مچانے کیلئے کافی تھا جو ابھی تک پوپ اور پادری کی گرفت میں جکڑا ہوا تھا۔
میں اس کی شادی،اس کی بیوی بچوں اور ازدواجی زندگی کے بارے جاننے کی بھی بڑی خواہش مند تھی۔ مسز ریٹاسمتھ نے اپنی کافی ختم کر لی تھی۔وہ گوزیو کو تھوڑا سا ریلیکس کرنے کے موڈ میں تھیں۔ اُن کی میٹھی مدھم اور مہربان سی آواز کمرے کی فضاؤں میں خوشبو کی طرح بکھری۔
وہ اُس کی ایک نظم گنگنا رہی تھیں۔
شمال کی کہر آلود زمینوں کی دختر

یہ چھوٹا سا اظہار تحسین اُس کے لئے ہے
جو بربط کے تاروں کو کسی
اَن دیکھے ہاتھ سے چھوتا ہے
اور کوئی قدیم سی دھن نکالتا ہے
نئی موسیقی میں سمونے کے لئے
معاف کرنا اگر کوئی تندوتیز سر نکل آئے
تمہاری سحر آگیں موسیقی کی تانیں

جنہیں تمہاری اعلیٰ روح شاید ہی سمجھ سکے
لیکن تمہارا شہد جیسا میٹھا گلا
شاید اس کا کوئی سراغ پا جائے
قدیم اٹلی کے دیوتا اور سمندری دیویاں
دیکھو پہاڑ جنگل، گھاٹیاں اور وادیاں
تمہاری کاہلی، سستی، تمہارا فخر وغرور

تمہارا جوش واضطراب، تمہارا رشک وحسد
سب کھیل کو برابر کرتے ہیں
محبت اور پیار کو ان سب پر غالب آنے دو
کمرے میں سناٹا تھا۔ بہت دیر ہم دونوں اس کے سحر میں ڈوبی رہیں۔ پھر مسز سمتھ نے بولنا شروع کیا۔ وہ اُس کی شادی کا احوال سنا رہی تھیں۔
شادی اس نے 1859میں ایلویرا Elvira Memicucciسے کی۔ایلویرا اس کے ایک دوست کی بیٹی تھی۔شادی اس کی پسند اور خواہش سے ہوئی۔ اپنی ماں اور بھائی کو ایلویرا کے ساتھ ہی وہ اپنی نئی جائے ملازمت پر لے آیا تھا۔ ازدواجی زندگی خوشگوار تھی۔ کامیاب بھی رہی۔تین بیٹیاں اور ایک بیٹا خاندان میں شامل ہوگئے تھے۔
بلوگنا Bologna میں پروفیسر ہونا بھی کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ یونیورسٹی میں دھوم مچ گئی تھی کہ زمانوں پرانی عمارت میں خوشگوار اور معطر ہوا کا جھونکا آیا ہے۔ زنگ آلود اور تھکی ہوئی روحوں کے درمیاں ایک نئے خیال اور نئے رحجان رکھنے والی شخصیت کاورود ہوا ہے۔
دھیر ے دھیرے ادب کے اونچے مقام پر فائز، شہرت کے اعتبار سے ملک میں ہی نہیں میں بیرون ملک بھی مشہورہو چکا تھا۔ایک اچھے استاد کے ناطے اپنے طلبہ میں ہردلعزیز اور اُن کے اندر کی پوشیدہ صلاحیتوں کو کھوج کرنے والا تھا۔ یہاں اس کے طلبہ میں سے ایک
Pascoliپاسکولی بہت نمایاں ہوکرسامنے آیا اور اس نے شاعری میں بھی بڑا نام پیدا کیا۔وہ اچھا استاد ہی نہ تھا بلکہ بہترین اور تند نقادبھی تھا۔ادب اور سوسائٹی دونوں کے چھیتڑے اڑاتا۔پکادہریہ تھا۔ اس کے سیاسی نظریات کی گولہ باری عمومی طور، پر عیسائیت اور کیتھولک چرچ کی سیکولر طاقتوں پر خصوصی طورپر مستقل رہتی۔
ایک بار اس نے کہا۔
”میں نہ تو خدا کی سچائی کو جانتا اور مانتا ہوں اورنہ ہی پادریوں اورویٹی کن والوں کی
جانب سے امن پر میرا اعتبار ہے۔یہی اٹلی کے حقیقی اورنہ بدلے جانے والے دشمن ہیں۔“
1850سے 1860 تک کی شاعری” “Juveniliaکے ٹائیٹل کے تحت منظم ہوئی۔ تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اِس مجموعے میں شاعر اپنی بہترین کاوشوں سے حیرت انگیز نتائج حاصل کرتا نظر آتا ہے۔اِن میں کچھ نئی نظموں کااضافہ تھا۔ ان میں بھی کچھ خاصی طویل نظمیں تھیں۔ وکٹر ایمونیل کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ سارڈیناsardina کا بادشاہ جو اس وقت اٹلی کی آخری امید تھی۔اس کے جوشیلے جذبات اور خیالات نے ان نظموں میں کھل کر اپنے ہونے کا اظہار کیا تھا۔ یہ کلیات اس کے بے باکانہ شاعرانہ وجدان کا خوبصورت اظہار تھی۔
Confessions and Battles میں بھی اگرچہ یہ ذرا مشکل ہے کہ اسے ثابت کیا جائے کہ اس نے اپنے دفاع میں کیا کہا۔ تاہم بڑی بات یہ ہے کہ اس جیسے حساس شاعر کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ کھیتولک چرچ نے لوٹ مار اور لوگوں کو احمق بنانے کے جو طریقے اپنا رکھے تھے۔ ان سب کا حقیقی چہرہ لوگوں کے سامنے پیش نہ کرے اور اس مکروہ چہرے کی پوری تصویر کشی نہ ہو۔
وقت کے ساتھ ساتھ شاعرانہ صلاحیتیں نکھرتی گئیں۔وسعت اور گہرائی میں اترتی گئیں۔Rime nuove یعنی The new lyricsا ورBar barian odesبھی میرے خیال میں وہ بہترین مجموعے ہیں۔جو 1877میں چھپے اورجنہوں نے بہت ہی مقبولیت حاصل کی۔اس کا کہنا تھا کہ شاعری ہی وہ ہتھیار ہے جو کسی بھی قوم کے شعور کی بیداری اور اُسے
سیاسی بلوغت دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اِن مجموعوں کی کلاسیکل نظمیں،دانشورانہ آہنگ کے ساتھ ساتھ متوازن اور شاعری کے وضع کردہ پیمانوں پر پوری اترتی ہی نہ تھیں بلکہ فی الفور دل میں گھر کرتی تھیں۔
ایسے جوشیلے،ترقی پسند خیالات والا اپنی ہر دل عزیزی سے گبھراتا بھی بہت تھا۔Cross if savoyایک ایسی خوبصورت ڈرامائی پیش کش تھی کہ اِسے جب پرگولا Pergolaتھیڑ میں پیش کیا گیا اور ناظرین نے اس کے مصنف سے ملاقات کرنی چاہی تو وہ
بھاگ گیا۔ دوست تعارف کروانے کے لئے اُسے جگہ جگہ ڈھونڈ رہے تھے۔
1870ٓء کا سال بھی بڑا دکھ بھرا تھا۔ پہلے والدہ فوت ہوئیں۔ ایک محبت کرنے والے بوڑھے وجو د سے گھر خالی ہوگیا تھا۔ ابھی اِس صدمے سے باہر نہیں نکلنے پایا تھا کہ میرا اکلوتا بیٹا دانتے فوت ہوگیا۔ تین سال کا خوبصورت بیٹا جس سے وہ بہت پیار کرتا تھا۔ شاعر نے ایک جگہ لکھا۔
”وہ میری امید تھا، میری محبت اور میرا مستقبل تھا۔ غم کی اس اندوہناک کیفیت سے نکلنے کے لئے میں نے خود کو کام میں ڈبو نا چاہا۔ مگر نہیں۔ مجھے لگتا تھا جیسے میرا اندر چھلنی ہوگیا ہے۔ مجھے خود پر حیرت ہوتی کہ میں نے اُسے قبر میں کیسے اُتارا؟ کس قدر غم انگیز نظمیں تخلیق ہوئیں جنہیں اعلیٰ معیار کے نوحے کہا جا سکتا ہے۔“
حسن فطرت سے بے پناہ عشق تھا اور اسکا اظہار بھی اس کی شاعری میں جابجا ملتا ہے۔ ode to Queen کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔
کہہ لیجئیے وہ بہرحال ایک سیاسی دانشور کے طور پر بہت نمایاں حیثیت کا حامل تھا۔ اپنے باپ کی زندگی اور اس کے بعد کچھ وقت تک جمہوریت کا زبانی کلامی یا تحریر کے حوالے سے حامی رہا۔ تقریباً1859ء سے عملی طور پر اور شاعری کے ذریعے دونوں طرح اِس کا حصہ دار بنا۔ ملک کے اتحاد اور اس کے روشن مستقبل سے وابستہ امیدوں کے خون ہوتے حالات نے اسے اپوزیشن کے کیمپ میں پھینک دیا۔

وکٹر ایمونیل کی موت نے ردعمل دکھایا۔ نوجوان بادشاہ اور ملکہ کے لئے ہمدردی کے جذبات اس کے سیاسی نظریات پر اثر انداز ہوئے۔ ایک نظم ode to Queen بھی کہی۔ جس پر یار لوگوں کی خاصی لے دے ہوئی۔رنگا رنگ قسم کی باتیں، کہیں سیاسی اور مالی فوائد کے حصول کے لئے اور کہیں اونچا عہدہ حاصل کر نے کی خواہش جیسے تبصروں کی بازگشت خاصی واضح تھی۔
یہ سال 1878ء تھا جب نوجوان بادشاہ ایمبر ٹوUmberto اور ملکہ مار گیریٹا
Margherita نے بلوگنا کے دورے کا پروگرام بنایا۔ شاہی جوڑے کے استقبالیہ کے لئے شہر کے معززین کا انتخاب کرتے ہوئے ریکٹر اور دیگر لوگوں نے اس سے درخواست کی کہ وہ استقبالیہ میں اپنی شمولیت یقینی بنائے کیونکہ ملکہ اس سے ملنے کی خواہش مند ہے۔ وہ اس کی شاعری کی مدّاح ہے۔
یہاں میں شاعرکی ہی تحریر کے کچھ ٹکڑے سناتی ہوں۔
تاہم میں سنجیدہ نہ تھا۔ میرے بچپن کی کہانیوں کی ملکہ جن کے بارے میں پڑھتا، سوچتا، بڑے ہو کر اُن کے کرداروں کو ڈرامائی تشکیل دیتا اور رزمیہ نظموں میں انہیں مجسم کرتا چلا آیا تھا۔ میں تو ملکاؤں سے بڑا مانوس تھا۔ مجھے زندہ ملکہ دیکھنے کا قطعی کوئی شوق نہ تھا۔اس ملکہ کو بھی نہیں جسے شاعری اور آرٹ میں دلچسپی تھی۔
پھر وہ آئے۔
یہ اُن دنوں میں سے ایک ایسا دن تھا کہ جو بلوگنا میں شاید ہی کبھی آتے ہوں۔ آسمان اور زمین سب گرد آلود سے تھے۔ کچھ یوں لگتا تھاجیسے گردکا یہ طوفان سا گھروں کی چھتوں سے بہہ رہا ہے۔ جیسے یہ دیواروں سے چمٹ رہا ہے۔ جیسے اس کا یہ پھیلاؤ ہر آن گھروں پر بڑھ رہا ہو اور ہر چیز میں سرایت کرتا جا رہا ہو۔ روح تنگ پڑتی اور طبیعت کوفت اور بیزاری میں اُلجھتی ہے۔جب بندے کا جی خوامخواہ ہی کسی راہ چلتے کو ٹانگ مارنے کو چاہے۔ تو میں بھی کچھ ایسے ہی جذبات کی گھمن گھیریوں میں اُلجھا ہوا تھا۔

یہ شام تھی۔ چار نومبر کی شام۔ میں وایا گلیریاVia Galliera کے محرابی راستے کے رش میں پھنس گیا تھا۔ اسی ہنگامے میں میں نے دیکھا ملکہ میرے پاس سے گزری۔ سفید خوبصورت ایک رومانوی سا وجود جو حقیقت نگاری کے بین بین موجو د ہو۔ کچھ ہی دیر بعد پیازہ سینٹ پیٹر ویناPetronio میں قدیم سرخ اینٹوں والے محل کی کھڑکی کھلی اور بادشاہ اور ملکہ بالکونی میں نمودار ہوئے۔ پس منظر میں روشنیوں کی آب وتاب کی ناقابل بیان جگمگاہٹ تھی۔ باہر کی تاریکی
اور سبز سفید اور سرخ روشنیوں کے امتزاج میں ایک خوبصورت چہرے کو زیوارت اور بہترین ملبوسات میں دیکھنا ایک تحیر کن تجربہ تھا۔
اوراگلی صبح جب میں اٹلی کے شاہی جوڑے سے ملنے جا رہاتھا۔ میری چھوٹی بیٹی نے کہا۔
”ملکہ کو میرا پیار کہنا۔اُس کانام لیبرٹاLiberta ہے۔ جو اچھا شگون ہے۔“
میں نے چیمبر میں داخل ہوتے ہوئے شاہ کو دیکھا۔ وہ لوگوں سے ہاتھ ملا رہا تھا جو دائرے میں کھڑے تھے۔ اور ملکہ اٹلی کے متوسط طبقے کے مضحکہ خیز ملبوسات پہنے لوگوں کے درمیان کھڑی اپنے پہناوے، اطوار اور رویے کی شائستگی کے ساتھ میٹھے اور مہربان لب ولہجے میں بات کرتی ایک ماورائی شے نظر آئی تھی۔ بچپن کی مہربان اور حسین پری جیسی۔
یہ ملکہ ہے۔ بس ایسے ہی میرے تاثرات تھے۔ میں نے بلوگناBologna شہر کی خواتین کی جانب سے سپاس نامہ لکھنے سے انکار کر دیا۔ وہ قصیدہ جو میں نے پہلے ہی اپنے خیالات اور پیازہ کے تاثرات سے متاثر لکھا تھا بس اسی کو مکمل کرنے کا ارادہ کیا۔اور ایک دن جب میں اس کی آخری لائنیں لکھ کر فارغ ہوا ہی تھا میری بڑی بیٹی بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی اور اس نے خوف زدہ آواز میں کہا۔
”شاہ کو نپلز میں گولی مار دی گئی ہے۔“
پچپن برس کی عمر میں وہ اینا Anni Vivanti سے ملا جو مستقبل کی ایک خوبصورت
لکھاری اور شاعرہ بنی اور جس سے اُسے محبت ہوگئی تھی۔پاگلوں جیسی محبت۔
وہ ہمیشہ جب بھی سفر کرتا تھااس کے پاس ایک سوٹ کیس ہوتا۔جسمیں وہ اینا کی ایک بڑی سی پینٹ رکھتا۔دوران سفر وہ سوٹ کیس کھولتا۔ پینٹ نکالتا، اسے سونگھتا اور مدہوش سا ہوجاتا۔دونوں کے درمیان جو محبت نامے لکھے گئے وہ بھی کیا شاہکار ہیں؟
اٹلی کی وہ پہلی شخصیت ہے جسے 1906میں ادب کا نوبل انعام ملا۔نوبل انعام ملنے تک وہ دنیا بھر سے شاعری کے میدان میں خود کو منوا چکاتھا۔ سینیٹر کے طور پر بھی وہ نامزدہوا۔اگرچہ
وہ بنیادی طور پر شاعر ہی ہے تاہم نثر میں بھی اس کا کام اعلیٰ معیار کا ہے۔ادبی تنقید میں اس نے نئی جہات کا تعارف کروایا۔بائیوگرافی،تقاریر اور مضمون نویسی کا کام ہی تقریباً 20 والیوم پر مشتمل ہے۔
نو بج رہے تھے۔ جب جب بھی میں مسز ریٹا سمتھ سے ملنے آئی۔
میری اُن کے ساتھ نشست کا دورانیہ ایک گھنٹے سے زیادہ نہ ہوتا۔ آج پہلی بار دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ وہ بھی تازہ دم تھیں اور میں بھی۔
”بہت شکریہ آپ کا مسز سمتھ۔ شام بہت اچھی گزری۔“
”ہاں گوزیو آپ کی بھی ممنون ہوں۔“

Advertisements

merkit.pk

جاری ہے




بشکریہ

جواب چھوڑیں