شاعر نہ مفکّر ہوتا ہے نہ فلسفی۔ وہ حقیقی معنی میں …

شاعر نہ مفکّر ہوتا ہے نہ فلسفی۔ وہ حقیقی معنی میں دانش مند ہوتا ہے۔ یعنی اسے خیالات سے محبت ہوتی ہے۔ ایلیٹ کہتا ہے کہ دانش مندی Wisdom اور شاعری بلند ترین شاعروں کے یہاں توام ہوتی ہیں۔ کالی داس، تلسی داس، ٹیگور، اقبال کی شاعری میں جو دانش مندی ہے اس سے لطف اٹھانے کے لیے ان کے عقائد سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ دانتے اور ملٹن کے عقائد کو ماننا ضروری نہیں۔ صرف یہ احساس کافی ہے کہ ان شاعروں نے اپنے ذاتی تجربے اور شخصی نظریے کو اس خوبی سے پیش کیا ہے کہ اس میں ایک آفاقیت آجاتی ہے جو اپنی جگہ احترام…

More

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3077692485794597

جواب چھوڑیں