تجھے تیرا شباب مبارک ہو۔۔صائمہ بخاری بانو


ای ساکُرا ای ساکرا
ای ہنامی ای ہنامی
ای چیری بلاسم
ای چیری بلاسم
کیا تو باخبر ہے؟
اس سر زمین سے
جس کے گردا گرد
ساگر پٹکا بند ہے
تین مقدس چوٹیوں کو
اپنی چھاتی پہ سجائے
وہ تین ہزار دیپ
ان گنت دویپوں میں
جا بہ جا سانس لیتا ہے
تو چار موسموں پہ گواہ
چیستانوں و پہیلیوں کا
اشارہ و استعارہ ہے
وہ ساحر وہ سحر زدہ
وہ طلسم وہ طلسم کدہ
وہ شہر نیہون ہے
جو منبع آفتاب ہے
اس سر زمین پر
بربت کی چوٹی سے
چٹانوں و ڈھلوانوں
میدانوں سے مکانوں
نشیبوں سے گھاٹیوں
ساگر و ندیوں کی
ہمکتی چھاتیوں تک
اس کے چپے چپے پر
ہر طرف تو ہی تو ہے
ای ساکُرا ای ساکرا
ای ہنامی ای ہنامی
ای چیری بلاسم
ای چیری بلاسم
تو حسنِ مجاز
فطرت کا اعجاز
تو نور آگیں
تو راگ بھجن
تو گیت, نظم
احساس کی تصویر
تخیل کا رقص
خواب کی تعبیر
رمز کی تفسیر
شوق کی تنویر
تو بہار کا روپ
تو منظر تو سروپ
تیری ٹہنیوں پر سجی
یہ گلابی و شربتی
ارغوانی و پیازی
گلاسی و کاسنی
گلرنگ و گلگوں
مہکتی پنکھڑیاں
یہ اعجوبہ و معجزہ
کرشمہ و کمال
جلوہ و جوانی
حسن اور جمال
زیباورعنا
زینت و حسین
تجمیل و تزئین
نازنین و ادا
سنگھار و سج دھج
رنگ و خوشبو
معنبر ومعطر
جھنکار و مہکار
نگہت و نسیم
رقص و وجد
جذب و کیف
سر مست و سرشار
مسحور و مخمور
سرور و سرود
منظرو مظہر
بود اور نمود
تیری یہ پتیاں
تری پنکھڑیاں
تیرے ورق گل
تیری یہ کلیاں
ای چیری بلاسم!
ای ساکرا، ای ساکرا
تیری ان ہی پتیوں کے
بے مثل حسن کا دیوانہ
اپنی بیتاب تمنا کے
گمان میں مگن
وہ چاپانی شاعر
سیمورائے سائیگو
جو اپنی وصیت میں
یہ لکھ کر گیا تھا
کہ ماہِ کامل کی شب
میں اس ساکرا تلے
دفنائے جانا پسند کروں گا
ای ساکرا ای ساکرا
ای ہنامی ای ہنامی
ای نیہون شہر کی دلہن
ای بہار کی زندگی
تجھے تیرا شباب اور
ترے محبوب کا التفات
مبارک ہو
مبارک ہو
مبارک ہو




بشکریہ

جواب چھوڑیں