جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن ۔ ریاض خیر آباد…

جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن ۔ ریاض خیر آبادی

کُل مرقعے ہیں ترے چاکِ گریبانوں کے
شکل معشوق کی، انداز ہیں دیوانوں کے

کعبہ و دیر میں ہوتی ہے پرستش کس کی
مے پرستو! یہ کوئی نام ہیں مے خانوں کے

جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

More

May be an image of ‎1 person and ‎text that says '‎tn خیرآبادی رياض Riyaz Khairabadi 1853- 1934‎'‎‎

جواب چھوڑیں