تھا جنھیں ذوقِ تماشا، وہ تو رخصت ہو گئے لے کے اب …

تھا جنھیں ذوقِ تماشا، وہ تو رخصت ہو گئے
لے کے اب تُو وعدۂ دیدارِ عام آیا تو کیا
انجمن سے وہ پُرانے شعلہ آشام اُٹھ گئے
ساقیا! محفل میں تُو آتش بجام آیا تو کیا
آہ، جب گُلشن کی جمعیّت پریشاں ہو چکی
پھُول کو بادِ بہاری کا پیام آیا تو کیا
آخرِ شب دید کے قابل تھی بِسمل کی تڑپ
صبح دم کوئی اگر بالائے بام…

More

May be an image of 3 people and text

جواب چھوڑیں