جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پہ کِھلا کرتا ہے وہ میر…

جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پہ کِھلا کرتا ہے
وہ میری تنگئ داماں کا گِلا کرتا ہے

دیر سے آج میرا سر ہے تیرے زانو پر
یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے

میں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفانوں کو
تُو میرے دل کے دھڑکنے کا گلا کرتا ہے

رات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاں
جیسے جُھومر تیرے ماتھے پہ ھہلا کرتا ہے

More

جواب چھوڑیں