آگ کب بجھے گی؟۔۔آصف محمود


آج چوتھا دن ہے جنگل جل رہا ہے۔ اسلام آباد میںبیٹھے نیرو بانسری تو نہیں بجا رہے لیکن مزے میں ہیں، کسی کو پروا نہیں جنگل جلتا ہے تو جلتا رہے۔ رات قومی اسمبلی کا اجلاس تھا۔ وہاں سے گزرا تو اجلاس ختم ہو چکا تھا اور سامنے پہاڑ سے شعلے اٹھ رہے تھے۔ میں نے ڈاکٹر نثار احمد چیمہ سے پوچھا آپ معزز ایوان سے نکل کر آ رہے ہیں یہ بتا دیجیے کیا کسی معز ز رکن پارلیمان نے ایوان میں اس حکومت سے پوچھا کہ جنگل کب تک جلتا رہے گا۔ انہوں نے جلتے پہاڑ کی طرف دیکھا اور بتایا کہ ایوان میں کسی نے جنگل کی بات نہیں کی۔ساتھ ہی انہوں نے وعدہ کیا کہ آج تو کوتاہی ہو گئی ، کل میں ضرور اس پر بات کروں گا۔ مجھے نہیں معلوم کل ایوان میں کیا ہوا لیکن میں کل سے حیرت زدہ ہوں کہ جلتے ہوئے جنگل کے سائے میں قومی اسمبلی کا ایوان ہے۔ اس ایوان میں تشریف لانے کے لیے جو معززاراکین ملک بھر سے تشریف لاتے ہیں ان کی رہائش گاہ یعنی پارلیمانی لاجز بھی اس جلتے ہوئے پہاڑ کے بالکل سامنے ہے۔ یہ لاجز سے نکل کر جب ایوان میں تشریف لے جاتے ہیں تو لاجز سے نکلتے وقت اور ایوان میں داخل ہوتے وقت مارگلہ کا جلتا ہوا جنگل ان کی نظروں کے بالکل سامنے ہوتا ہے۔ معمولی آگ نہیں ہے ، مہیب شعلے ہیں ۔ دھواں اتنا زیادہ ہے کہ میلوں دور سے نظر آ رہا ہے۔ یہ معزز اراکین یہ بیانیے کے رستم ، یہ تبدیلی کے جنگجو ، یہ اسلامی انقلابیے اور یہ جن کا بھٹو زندہ ہے پوشاکیں پہنیں عوام کے خرچے پر تشریف لاتے ہیں اور عوام ہی کے خرچے پر تشریف لے جاتے ہیں لیکن کسی کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ چند قدم کے فاصلے پر جلتے جنگل کا مقدمہ ایوان میں پیش کر سکے۔ یہ ہمارے نمائندے ہیں یا ہمارے نامہ اعمال کی سیاہی ہیں۔ یہ اسمبلی میں آتے کس لیے ہیں ؟ ان کی افادیت کیا ہے ؟ انہوں نے ایسے سنگین مسائل پر بھی بات نہیں کرنی تو ان کے ایک دن کی تشریف آوری پر( جی ہاں پارلیمان کے صرف ایک دن کا یہ اوسط خرچ ہے) یہ غریب قوم چار کروڑ کے قریب رقم چولہے میں کیوں ڈالے؟ جنگل سے جو تصاویر آ رہی ہیں وہ خوں رلانے کو کافی ہیں۔ گھونسلے جل کر راکھ ہو چکے اور ادھ جلے پرندوں کے دھڑ جنگل میں بکھرے پڑے ہیں۔ ایک مرغ سیمیں کی صرف کلغی بچی ہے باقی سارا جل چکا ہے۔ یہ پرندہ اس جنگل کا حسن ہے۔ اس شان سے چلتا ہے جیسے کوئی ترک سلطان لشکر گاہ کا معائنہ کرنے نکلے۔ ایک گلہری بیچ میں سے جل کر مر گئی۔ انڈوں کے پاس کچھ مرے ہوئے طوطے پڑے ہیں۔ ڈاکٹر فریحہ نے ایک تتلی بھجوائی ہے ، اس کے منہ کا دوشاخہ جل چکا ہے ، پروں کی رنگت ز رد ہو چکی ہے جیسے روٹی تو تنور کی پہلی حدت پہنچے تو وہ رنگ بدلتی ہے۔ شاید وہ صدمے سے مر گئی ہو۔ شاید دھویں کی حدت ہی اس ننھے وجود کے لیے کافی رہی ہو۔ کچھ پرندے یوں جل مرے ہیں کہ شناخت ہی نہیں ہو رہی کون سی چڑیا ہے اور کون سی سٹرابری فنچ ، جن کے پروں میں قوس قزح اترتی تھی وہ پر جل کر راکھ ہو گئے ہیں اب کیا معلوم یہ اورنج تھرش ہے ، ویگٹیل ہے ، طوطا ہے ، مینا ہے یا سٹون چیٹ۔ سب کا رنگ راکھ ہے اور سب کوئلہ ہوئی پڑی ہیں۔ آگ تھمے گی اور لوگ جنگل میں جائیں گے تو معلوم ہو گا کیا کچھ جل کر راکھ ہو چکا اور یہ بھی ایک ادھورا سا مشاہدہ ہو گا کیونکہ شہر اقتدار میں یہ رواج ہی نہیں کہ کوئی عوام کو آ کر بتائے کہ اس آگ میں کتنے درخت جل کر راکھ ہوئے ، کتنے گھونسلے اجڑے اور کتنے جانور اور پرندے جل مرے۔ یہاں پریس ٹاک صرف سیاسی آلودگی پھیلانے کے لیے ہوتی ہے اور کچھ گداگران سخن ہجو اگلتے ہیں یا اپنے اپنے آقائوں کی بندگی میں غزل قصیدہ کرتے ہیں۔ آگ ہر سال لگتی ہے لیکن کبھی کسی ادارے نے عوام کو بریف نہیں کیا کہ اس کا نقصان کتنا ہوا؟ ایک اندازہ یہ ہے کہ صرف مارگلہ کے جنگل میں دس پندرہ سال کی آتشزدگی سے سینکڑوں ایکڑ رقبے میں چیڑ اور صنوبر کے درخت جل چکے ہیں۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ ان سینکڑوں ایکڑ میں کتنے درخت ہوتے ہوں گے اور ان پر گھونسلے ہوں گے اور ان میں کتنے پکھو اور کتنے انڈے ہوں گے اور ان کی چھائوں میں سستاتے کتنے جانور جل مرے ہوں گے۔ دو دن ہوتے ہیں ڈپٹی کمشنر بہادر آگ کا معائنہ فرمانے گئے جس کا احوال ان کے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیا گیا۔ چار خدام ان کے پیچھے دست بستہ کھڑے تھے اور دو سامنے ۔ساتواں ان کی ویڈیو بنا رہا تھا کیونکہ شہر میں یہ دستور ہے کہ کارروائی کر ٹوئٹر پر ڈال۔ صاحب خود بھی موبائل سے منظر کشی فرما رہے تھے۔ نصف درجن لوگ ٹوئٹر کے لیے ویڈیو شوٹ کر رہے تھے اور صرف ایک آدمی آگ بجھا رہا تھا۔ آگ بجھانے والے والے کے پاس جو جدید آلات تھے ان کا ذکر بھی سن لیجیے۔ درختوں کی بڑی سے ٹہنی اس کے ہاتھ میں تھی اور زور زور سے آگ پر مار رہا تھا۔ اس غریب کے پاس نہ آگ بجھانے کا کوئی آلہ تھا نہ مخصوص لباس۔ آگ بجھانے کی اس جدید ٹیکنالوجی پر صاحب کو اتنا یقین تھا کہ انہوں نے یہ ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی اور لکھا کہ بس لمحوں کی بات ہے آگ بجھ جائے گی۔ آج اس ٹویٹ کو تیسرا دن ہے اور آگ نہیں بجھی۔ صاحب بھی ایک عدد ٹویٹ فرما کر سرخرو ہو گئے کہ اس کے بعد ان کے ٹویٹر پر بھی اس آگ کا یا اس کو بجھانے کے لیے کی گئی کسی ’’ مزید کارروائی‘‘ کا کوئی تذکرہ نہیں۔ صاحب اور ان کا کیمرہ مین اب کسے نئے محاذ پر کارروائی ڈالنے نکلے ہوں گے۔ ظفر اقبال نے لکھا تھا: آگ جنگل میں لگی ہے دور دریائوں کے پار اور کوئی شہر میں پھرتا ہے گھبرایا ہوا انہیں خبر ہو کہ اب کی بار جنگل کی آگ دور دریائوں کے پار نہیں ، شہر کے ساتھ ہی لگی ہے لیکن شہر میں کوئی بھی گھبرایا ہوا نہیں ہے۔ سب کے لیے اعلان عام ہے کہ : ایک تو آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں